وجاہت مسعود

  • 25 مارچ: حافظے کی کمزوری اور تاریخ کا بحران

    روسی ادیب انتون چیخوف نے 1886میں ایک کہانی لکھی تھی، روسی زبان میں عنوان تھا Tocka، اردو میں ’دکھ‘ کہہ لیجیے۔ ایک بوڑھے گاڑی بان کا بیٹا کوزما آئیونچ نوجوانی میں چل بسا ہے۔ بوڑھا باپ ہر کسی سے اپنا دکھ کہنا چاہتا ہے مگر سواریوں کی اپنی اپنی دنیا ہے، اپنی ذات کی خود فریبی سے بن [..]مزید پڑھیں

  • تمنا کی وسعت اور حسن کوزہ گر کا ویران گھر

    حسن کوزہ گر نے بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر جہاں زاد کی افق تاب آنکھوں میں وہ تابناکی دیکھی کہ نو سال دیوانہ پھرتا رہا۔ بغداد کی خواب گوں رات کے تعاقب میں حسن کی کوزہ گری فراموش ہو گئی۔ اس کی ہنر مند انگلیوں میں زندگی پانے والے جام، سبو، فانوس اور گلدان گم شدہ ماضی کی ٹھیکریاں بنتے [..]مزید پڑھیں

  • ہم اداس کیوں ہیں؟

    اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق دنیا میں پچھلے ایک سال کے دوران خوشی کا تناسب کم ہوا ہے اور اس کی وجہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی بے یقینی اور خوف کی کیفیت ہے۔  رپورٹ کے مطابق، دنیا کے خوش باش ملکوں میں پاکستان دنیا کے 149ملکوں میں39 درجے کی تنزلی کے بعد 105 ویں نمبر پ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بات کیسے ویران ہوتی ہے؟

    ٹھیک 72 برس گزر گئے۔ بارہ مارچ سے بارہ مارچ تک دائرے کا سفر ہے۔ دھول جھونکنے کی حکایت دھند چھانے کی کہانی تک آن پہنچی۔ بارہ مارچ 1949 کو ہم نے دستور ساز اسمبلی میں قرار داد مقاصد منظور کی تھی۔ چوہتر سالہ قائد حزب اختلاف سریس چندر چٹوپادھیا دلیل کی دہائی دیتے رہ گئے، سرکاری بیانیے [..]مزید پڑھیں

  • کرپٹ نگری کا صادق اور امین دیوتا

    قائد اعظم محمد علی جناح تاریخ ساز کرداروں کے ہجوم میں ایک دیوقامت مدبر قرار پائے۔ اہل سیاست گوشت پوست کے انسان ہوتے ہیں۔ برسوں معاشرے کے تاروپود سمجھنے کی ریاضت کرتے ہیں، مردم شناسی کے متلون پانیوں میں غواصی کرتے ہیں۔ قانون اور دستور کی باریکیاں سمجھتے ہیں، تاریخ میں غوطہ ز� [..]مزید پڑھیں

  • جادوئی پہاڑ، انقلابی نوجوان اور دہشت کا خواب

    آنکھ کا رنگ کاسنی سے ہلکا گلابی ہو چکا اور دماغ سوتے جاگتے کی ننداسی کیفیت میں ہے۔ اسے تاریخ کا جبر ہی کہنا چاہیے کہ قافلہ عمر کا سفر دو صدیوں میں بٹ گیا۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں پیدا ہونے والوں نے ابھی اچھے وقتوں کے خواب اور ناانصافی کی بدنما حقیقت سے پوری طرح نمٹنا بھی نہیں [..]مزید پڑھیں

  • پرویز رشید: ایوان بالا سے دلوں کے دربار دوام تک

    پیر و مرشد پرویز رشید کو ایوان بالا سے خارج البلد قرار دے دیا گیا۔ سالار جمہوریت کو شکستہ دل رفیقوں کے لشکر میں مقام دوام کی عزت مبارک ہو۔ جس نشست سے محروم کیا گیا، وہ ایک میعادی امانت تھی، جو اعزاز نصیب ہوا، وہ ایک ابدی منصب ہے۔ مزاحمت کی سپہ کے رجز گزار کو قبیلہ حریت کی صف اول [..]مزید پڑھیں

  • چراغ طور اور ملاوٹ ملا تیل

    لاہور کے آشفتہ مزاج شاعر ساغر صدیقی نے رواں دواں بحر میں ایک غزل کہی، ’چراغ طور جلاﺅ، بڑا اندھیرا ہے‘۔ اور پھر کہا، ’وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں / انہیں کہیں سے بلاﺅ، بڑا اندھیرا ہے‘۔ اندھیرا تو واقعی گہرا ہے اور تیرگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جاتی ہ� [..]مزید پڑھیں

  • لنڈے کا لبرل دیس کے غریبوں کا دوست ہے

    نکولائی گوگول نے ’اوورکوٹ‘ کے عنوان سے ایک کہانی لکھی تھی۔ اس افسانے کے بارے میں دوستوئے فسکی نے کہا تھا: ’ہم سب نکولائی گوگول کے اوورکوٹ سے نکلے ہیں‘۔ دوستوئے فسکی کا اشارہ اپنے علاوہ آئیوان ترگنیف اور لیو ٹالسٹائی کی طرف تھا۔  اردو لکھنے پڑھنے والوں کی عالمی ا [..]مزید پڑھیں