وجاہت مسعود

  • منٹو کا افسانہ ’لائسنس‘ اور صحافی کا روزگار

    درویش گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا تو ایک طرف، ڈھنگ سے سڑک پار کرنا بھی نہیں جانتا۔ وہی جو سیماب اکبر آبادی نے کہا تھا، ’کم بخت جب ملا ہمیں، کم آشنا ملا‘۔ اساتذہ نے سبق دیا تھا کہ صحافی کو صیغہ متکلم سے گریز کرنا چاہیے۔ اخبار کا صفحہ پڑھنے والوں کی امانت ہے، صحافی کی ذات کا ا [..]مزید پڑھیں

  • صحافت آزاد ہے تو ملک ترقی کیوں نہیں کرتا؟

    بزرگوں کی دعا ہے اور آپ جیسے خیر خواہوں کی رہنمائی میسر ہے۔ طلعت حسین جیسے پرفتن کردار تو خیر زمرہ صحافت ہی سے خارج قرار پائے۔ درویش پر تقصیر مطیع اللہ جان، ابصار عالم، عمر چیمہ، سلیم شہزاد اور اسد علی طور جیسے عاقبت نااندیش صحافیوں سے بھی چار کھیت چھوڑ کر کھڑا ہوتا ہے۔  سر� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بنتے بگڑتے دائروں کے درمیاں

    کچھ برس قبل برادر مکرم ظفر محمود کے افسانوں کا مجموعہ ’دائروں کے درمیاں‘شائع ہوا تھا۔ ظفر صاحب کے سفر حیات میں عہدوں اور مناصب کا ذکر سوئے ادب کا مضمون ہے کہ عہدے کسی انسان کا مقام متعین نہیں کرتے، فرد البتہ اپنے کردار سے کسی منصب کو توقیر بخشنے کا اختیار رکھتا ہے۔  آ [..]مزید پڑھیں

  • ہم پناہ مانگتے ہیں

    ہم طوفان کے دہانے پر ہیں۔ تبدیلیوں کا ایک تلاطم خیز ریلا تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ بحران داخلی نوعیت کے ہیں، کچھ معاملات کا تعلق اس خطے سے ہے اور کچھ تبدیلیاں عالمی سطح پر نمودار ہو رہی ہیں۔ ویکسین دریافت ہونے کے باوجود ٹھیک ٹھیک بتانا مشکل ہے کہ کورونا کا بحران حتمی ت� [..]مزید پڑھیں

  • سلطان کا فرمان اور محمود درویش کا گیت

    اسپین کی خانہ جنگی کے دوران پابلو نیرودا نے جو نظمیں کہیں، ان میں ایک نظم اپنے براہ راست اسلوب اور گہرے جذباتی تاثر کے لئے خاص طور پر معروف ہے۔ عنوان ہے: I am explaining a few things۔ شاعر اپنے گھر کے دریچوں پر کھلتے پھولوں، پائیں باغ میں کھیلتے بچوں اور دوستوں کی خوشگوار مجلسوں کی باز آفر [..]مزید پڑھیں

  • پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاست اور جمہوری سوال

    پہلی عالمی جنگ میں چار بڑی سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ روس میں زار نکولس رومانوف اور جرمن – پرشین سلطنت میں قیصر ولہلم کے عہد تمام ہوئے، ترکی میں عثمانی سلطنت اپنے اختتام کو پہنچی۔ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کا نام و نشان مٹ گیا۔ قدیم یورپ کے بطن سے نیا یورپ جنم لے رہا تھا۔ جنگ معمولات ز� [..]مزید پڑھیں

  • آئی اے رحمان: سائبان نہ رہا

    دردمندوں کے خانہ ہائے دل میں گہرے ملال کی ویرانی اتر آئی ہے۔ دکھ کی سسکی کو ضبط کی تلقین کا یارا نہیں رہا۔ آتی جاتی سانس کی دھونکنی میں رہ رہ کر اٹھتے احساس زیاں کی کٹار چلی آئی ہے کہ اب جانب کہسار سے اترتے ابر سیاہ کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں کس سے رہنمائی چاہیں گے۔ بحران کی حلقہ � [..]مزید پڑھیں