وجاہت مسعود

  • عربی زبان کی تعلیم اور ہمارا اخلاقی کردار

    سینیٹ کے نصف ارکان کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ چند ہفتوں میں نصف مدتی انتخاب ہو گا تو اپنی میعاد مکمل کرنے والے 52 ارکان میں سے ’کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے‘۔ جزا سے ناامید ایک رکن نے جاتے جاتے ایک ایسا مسودہ قانون ایوان بالا سے منظور کروایا ہے گویا ثریا ہی � [..]مزید پڑھیں

  • میں فکشن کیوں نہیں لکھتا ؟

    کچھ دوست سوال کیا کرتے ہیں کہ میں فکشن کیوں نہیں لکھتا۔ جب یہ سوال متعدد بار دہرایا گیا تو ردعمل میں دو خیالات پیدا ہوئے۔ ایک گمان تو یہ گزرا کہ یہ احباب دراصل میری صحافتی تحریروں سے عاجز آ چکے ہیں۔ سیدھے سبھاﺅ یہ کہنے کی بجائے کہ صحافت کی جان چھوڑو، سلیقے سے ایک دوسرا راستہ دکھ [..]مزید پڑھیں

  • کچھ کرپشن اور حکومتی بندوبست کے بارے میں

    حافظ سلمان بٹ رخصت ہو گئے۔ اٹل نظریاتی شخص تھے اور نہایت قابل قدر سیاسی شہری۔ ہمارے قبیلے نے پنجاب پولیس کے ایک دیانت دار افسر خواجہ طفیل کے بیٹے حافظ سلمان بٹ سے شدید مخاصمت میں آنکھ کھولی۔ 25 فروری 1985کی رات ابھی آنکھ میں زندہ ہے۔  حافظ سلمان جماعت اسلامی کے امیدوار تھے اور [..]مزید پڑھیں

loading...
  • لاہور قلندر سے پاکستان قلندر تک

    کھیل کی دنیا کبھی تفریح اور جسمانی تندرستی کے دو اشاریوں سے عبارت تھی۔ کھیل کے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے ہار اور جیت کو تسلیم کرنا کھیل کا اخلاقی فلسفہ تھا۔ ہارنے والے کے لئے فتحمند کھلاڑی کی بہتر صلاحیت اور مہارت کا اعتراف کرنا اعلیٰ ظرفی کہلاتی تھی۔ ہماری روایت میں تو ڈبلی� [..]مزید پڑھیں

  • بادشاہ سلامت کی خلعت صد چاک اور صحافی کی لاتعلقی

    ایک صاحب ہوتے تھے لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمٰن۔ ضیا مارشل لا کے ساتھ ہی سیکرٹری انفارمیشن کے طور پر نمودار ہوئے۔ نفسیاتی جنگ کے ماہر تصور کیے جاتے تھے۔ واللہ! جنرل صاحب نے اپنے ہی عوام کے خلاف مارچ 1985 تک شجاعت کے بھرپور جوہر دکھائے تاوقتیکہ وزیر اعظم جونیجو نے انہیں اس ذمہ داری سے � [..]مزید پڑھیں

  • ایک آدمی کتنا کُو سیانا ہو سکتا ہے؟

    معذرت کہ آج عنوان ہی میں ایک پنجابی روز مرہ کی ضرورت آن پڑی۔ دراصل یہ مرحوم راؤ عبدالرشید کے ہریانوی عطایا میں سے ہے۔ روہتک کے قصبے کلانور سے آنے والے راؤ رشید کی پیشہ ورانہ اہلیت بے مثل تھی۔ افسوس کہ ایسے نابغہ روزگار کی ملازمت کا بیشتر حصہ ہماری تاریخ کے ان تاریک غاروں میں گزر [..]مزید پڑھیں

  • ڈونلڈ ٹرمپ: ہمارے شہر سے ہو کر دھواں گزرتا ہے

    ڈونلڈ ٹرمپ 2020 کا انتخاب ہی نہیں ہارے، تاریخ بھی ہار گئے۔ چار برس تک اپنے ناقابل پیش گوئی اقدامات، الٹے سیدھے بیانات اور کھوکھلے دعووں کے سہارے پہلی مدت پوری کرنے کے بعد انہوں نے ایک حیران کن انتخابی مہم چلائی۔ 2016میں انہوں نے ہلیری کلنٹن کے 227 کے مقابلے میں 305 الیکٹرول ووٹ حاصل ک [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان ترقی کر سکتا ہے

    1990 کی دہائی ہمارے ملک پر بہت سخت وقت تھا۔ ہم پہ کیا کیا نہ زمانہ آیا…. چار منتخب جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل نہ کر سکیں۔ تین حکومتوں پر 58 ٹو (بی) کا کلہاڑا چلا۔ ایک حکومت کو جہاز میں بیٹھ کر ہائی جیک کیا گیا۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت بے روک ٹوک جاری تھی۔ جہاد کے نام پر تنظیمیں ر [..]مزید پڑھیں