وجاہت مسعود

  • چلی کے کانکن اور ہمارے مقامی چاہ کن

    قریب چالیس برس اپنے ملک کی تاریخ اور سیاست کی خاک چھاننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری قوم کی بیشتر مشکلات کی وجہ ہماری اجتماعی سیاسی ناخواندگی ہے۔ تدریسی اعتبار سے ناخواندہ غریبوں پر الزام دھرنا قطعاً ناواجب ہے۔  اس ملک کے دس کروڑ شہری دانستہ ان پڑھ رکھے گئے ہیں۔ ر [..]مزید پڑھیں

  • نا انصافی کی خاموشی اور حافظے کی مزاحمت

    دسمبر 1976 کی ایک سرد رات ذوالفقار علی بھٹو نے مری میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ایک تاریخی ملاقات کی۔ ان کے دائیں ہاتھ جنرل ضیا الحق اور بائیں ہاتھ میجر جنرل اختر عبدالرحمن بیٹھے تھے۔ وزیر اعظم حصار میں تھے ۔ وزیر اعظم بھٹو نے ایک مختصر جملے سے گفتگو کا آغاز کیا۔ ’ہم ایک دوراہے پ [..]مزید پڑھیں

  • کرک کا مندر اور ہمارے سادہ دل فواد چوہدری

    اکیسویں صدی کا اکیسواں برس شروع ہو گیا۔ فیض صاحب نے نومبر 1984کے ایسے ہی کسی کہر زدہ روز میں سوال کیا تھا،’نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے‘۔ فیض صاحب تو چلے گئے۔ مسافران رہ صحرائے ظلمت شب کی محضر پر مہر پہ مہر ثبت ہوتی چلی جاتی ہے، رہائی کا حکم نہیں ہوتا۔ گلی کوچوں میں دن� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • چودہویں صدی کا چینی مفکر اور ایک ترک ہم عصر

    بات سے بات اس طرح نکلتی ہے کہ منزلوں کا نشاں نہیں ملتا۔ ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں مصطفیٰ زیدی نے ’لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ‘ کا مضمون باندھا تھا۔ خیر گزری کہ دیدہ تر کی شبنم ابھی خشک نہیں ہوئی، متاع احساس سلامت ہے اور قلم اپنے منصب سے دست بردار نہیں ہوا۔  اتنا [..]مزید پڑھیں

  • کیا سیاست دان نئے زمانے کے صوفی ہیں؟

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے لاہور جلسے سے اگلے روز حزب اختلاف کے رہنماؤں کا رائے ونڈ میں اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ ان دو ہفتوں میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ گیا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ میں اس پریس کانفرنس کا ایک منظر � [..]مزید پڑھیں

  • معیشت اور جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نباضی

    تین روز پہلے وعدہ کیا تھا کہ سند باد جہازی کے قصے لکھا کریں گے، قطب شمالی کی برفانی چادر تلے دبی مچھلی کا شکار بیان کریں گے، افریقہ کے جنگلوں میں آزاد گھومتے شیروں کی عادات پر روشنی ڈالیں گے۔ اپنے دیس کی کتھا نہیں کہیں گے۔  مگر وطن تو پرندے کے پاؤں میں الجھی ڈور جیسا رشتہ ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • منجھلے بھائی جان کی صحافت

    ناصر نے لکھا تھا۔ ’خیال آ گیا مانوس رہ گزاروں کا / پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے‘۔ ارے، پلٹ کے کدھر سے آتے، کہیں گئے ہی نہیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ اپریل 1949 میں سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ایک خبر شائع کی۔ حکومت نے پرزور تردید کی اور پھر صحافت کے جملہ منجھلے بھائی جان رواں ہو � [..]مزید پڑھیں

  • یہ میرا دامنِ صد چاک اور بہار کا سوگ

    سپین کے جنوب میں اندلس کا تاریخی خطہ واقع ہے۔ یہاں کا صدر مقام قرطبہ جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) سے نکلنے والے دریا Guadalquivir کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔ 712 سے 1492 تک قریب آٹھ سو برس پر محیط مسلم دور حکومت میں یہ دریا وادی الکبیر کہلاتا تھا۔ سقوط غرناطہ سے کوئی پانچ سو برس بعد 1933 م [..]مزید پڑھیں

  • زیاں کے دفتر میں ایک اور برس بڑھ گیا…

    عرش صدیقی بھلے آدمی تھے۔ تدریس کو معاش کا پردہ کیا تھا۔ نظم اور افسانہ لکھتے تھے۔ ہماری چاک دامن تاریخ پر 1978کا برس اترا تو دور دور تک کسی امید کا امکان تک اوجھل ہو چکا تھا۔ ہم ایک ایسے عہد تعطل میں داخل ہو گئے تھے جہاں چند جنوں پرور وطن پرستوں کو چھوڑ کر معاشرے نے ریاکاری، عافیت [..]مزید پڑھیں

  • اس لاحاصل عہد میں عمریں یونہی ڈھلتی ہیں

    ہر عہد کی ایک خوشبو ہوتی ہے، کسی انجان جنگلی پودے سے آنے والی تیز مہک، بعد کے برسوں میں ہم جس کی ایک اداس کر دینے والی کیفیت میں جستجو کرتے ہیں۔ وہ جنگل ہی کٹ گیا، لوگ اوجھل ہو گئے، گلیاں اور مکان بدل گئے، تو وہ خوشبو کہاں رہی جو دلوں میں خوشی اور خواب جگاتی تھی۔ شکرگڑھ شہر سے مش [..]مزید پڑھیں