وجاہت مسعود

  • مردہ آدمی کی ہنسی سے خوفزدہ ادیب

    ستمبر 1953 میں حسن عسکری نے ’ساقی‘ میں ایک مختصر سا نوٹ لکھا، ’اردو ادب کی موت‘۔ عسکری صاحب نے محض ایک ادبی تاثر رقم کیا تھا مگر اس پر کراچی سے لاہور تک تتیئے لگ گئے۔ اس ردعمل کی وجہ یہ تھی کہ ادیب ابھی زندہ تھا۔ ادب کی موت کا اعلان ایک پیرائیہ اظہار سے زیادہ کچھ نہیں۔ � [..]مزید پڑھیں

  • اے بے گنہی گواہ رہنا

    اللہ اللہ، دن پھر آٓئے ہیں باغ میں گُل کے۔ غیرمشروط معافی کی رسم سے بات چلی تھی، غداری کے مقدمات تک آ پہنچی ہے۔ انجم رومانی ہمارے عہد میں ہنر کی پختگی، خیال کی استواری اور تہذیب کی پاسداری کا نشان تھے۔ بلاشبہ اہل کمال تھے مگر طبعیت ایسی غنی کہ محفل میں نمایاں ہونے سے باقاعدہ گری [..]مزید پڑھیں

  • فرانکو کا اسپین اور سچائی کا راستہ

    ہم لوگ بھی کیا سادہ ہیں۔ تاریخ کے جس منطقے میں اور زمیں کے جس ٹکڑے پر جینے کا موقع ملتا ہے، ہماری دنیا، ہمارے تاثرات، تصورات اور اقدار کی تصویر اسی ہاتھ بھر کی کھڑکی سے بندھ جاتی ہے۔ خیال کی پرواز کو حاضر و موجود کی کشش سے مفر نہیں۔ ہماری تہذیب نے بھی کیا کیا اہل نظر پیدا کیے۔ م� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • قلعہ فراموشی کی رات اور کوہ ندا کا بلاوا

    بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانیے کیا یاد آیا۔ اشتعال اور انفعال کے اس موسم میں غیر ضروری خیال آرائی سے پرہیز مناسب ہے۔ یہ کچھ برادر بزرگ ایاز امیر ہی کا حصہ ہے کہ بجوگ کی فصل میں شوق کے انگاروں کو ہوائے وارفتہ سے سلگائے رکھتے ہیں۔ اپنے ہاں تو ذیابیطس نے ایسی غارت گری کی ہے کہ ”سای� [..]مزید پڑھیں

  • ڈزرائیلی کا دو قومی نظریہ اور تیسری مخلوق

    قائد اعظم محمد علی جناح، خدا انہیں جنت نصیب کرے، عالی دماغ مدبر تھے۔ ان کی ذہنی پرداخت انیسویں صدی کے انگلستان میں ہوئی تھی۔ وکٹوریہ کا انگلینڈ جو ایک طرف صنعتی عہد کی سماجی ٹوٹ پھوٹ  سے گزر رہا تھا، دوسری طرف نوآبادیاتی مقبوضات کے تناظر میں اہم ترین عالمی طاقت تھا اور تیسری [..]مزید پڑھیں

  • دیانت کی دھند اور کرپشن کا کہرا

    وسطی یورپ میں چیک رپبلک نام کا ملک ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہونے والی ہماری نسل کے لئے فکری حریت اور شہری آزادیوں کے استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چاروں طرف سے آسٹریا، جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک میں گھرے ہونے کے باعث براہ راست بحری رسائی سے محروم یہ ملک دنیا کے نقشے پر جنوری 1993 میں � [..]مزید پڑھیں

  • دانشور کی آزمائش اور اقتدار کا بیوپار

    ہم میں سے بہت کم ہوں گے جنہوں نے ولی مونزنبرگ (Willi Munzenberg) کا نام سن رکھا ہو۔ یہ نام پچھلے 35 برس سے ایک مسلسل فکری مخمصے کے طور پر درویش کے پیش نظر رہا ہے۔ آپ سے کوئی پردہ نہیں۔ زندگی ایک بہتا دریا ہے اور مختلف زمینوں اور منطقوں سے گزرتے ہوئے اس دریا کے رنگ غیرمحسوس طریقے سے بدلتے [..]مزید پڑھیں

  • ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کو کیسے لوٹا؟

    بہت برس گزرے، استاذی رضی عابدی ہمیں چارلس ڈکنز کا ناول Hard Times پڑھا رہے تھے۔ یہ مختصر ناول انیسویں صدی کے انگلستان میں کوئلے کے کان کنوں کی زندگیاں بیان کرتا ہے۔ ناول میں ایک مزدور میاں بیوی کی گھریلو توتکار کا تفصیلی بیان پڑھتے ہوئے ایک طالب علم نے کہا کہ ان دو کو لڑنے جھگڑنے کے [..]مزید پڑھیں

  • غلام ہمدانی مصحفی سے امبرٹو ایکو تک

    کچھ عجیب سے دن ہیں۔ کورونا وائرس کی آفت ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی کہ ہمیں بارش نے آ لیا۔ کراچی تو ایک گہرے تالاب میں تبدیل ہو گیا۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں بھی کچھ بہتر صورت حال نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ہم نے اس ملک میں اداروں، ضابطوں اور اقدار کے ساتھ جو کھلواڑ کی، شہری کو جس طر [..]مزید پڑھیں