وجاہت مسعود

  • ڈونلڈ ٹرمپ: ہمارے شہر سے ہو کر دھواں گزرتا ہے

    ڈونلڈ ٹرمپ 2020 کا انتخاب ہی نہیں ہارے، تاریخ بھی ہار گئے۔ چار برس تک اپنے ناقابل پیش گوئی اقدامات، الٹے سیدھے بیانات اور کھوکھلے دعووں کے سہارے پہلی مدت پوری کرنے کے بعد انہوں نے ایک حیران کن انتخابی مہم چلائی۔ 2016میں انہوں نے ہلیری کلنٹن کے 227 کے مقابلے میں 305 الیکٹرول ووٹ حاصل ک [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان ترقی کر سکتا ہے

    1990 کی دہائی ہمارے ملک پر بہت سخت وقت تھا۔ ہم پہ کیا کیا نہ زمانہ آیا…. چار منتخب جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل نہ کر سکیں۔ تین حکومتوں پر 58 ٹو (بی) کا کلہاڑا چلا۔ ایک حکومت کو جہاز میں بیٹھ کر ہائی جیک کیا گیا۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت بے روک ٹوک جاری تھی۔ جہاد کے نام پر تنظیمیں ر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • چلی کے کانکن اور ہمارے مقامی چاہ کن

    قریب چالیس برس اپنے ملک کی تاریخ اور سیاست کی خاک چھاننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری قوم کی بیشتر مشکلات کی وجہ ہماری اجتماعی سیاسی ناخواندگی ہے۔ تدریسی اعتبار سے ناخواندہ غریبوں پر الزام دھرنا قطعاً ناواجب ہے۔  اس ملک کے دس کروڑ شہری دانستہ ان پڑھ رکھے گئے ہیں۔ ر [..]مزید پڑھیں

  • نا انصافی کی خاموشی اور حافظے کی مزاحمت

    دسمبر 1976 کی ایک سرد رات ذوالفقار علی بھٹو نے مری میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ایک تاریخی ملاقات کی۔ ان کے دائیں ہاتھ جنرل ضیا الحق اور بائیں ہاتھ میجر جنرل اختر عبدالرحمن بیٹھے تھے۔ وزیر اعظم حصار میں تھے ۔ وزیر اعظم بھٹو نے ایک مختصر جملے سے گفتگو کا آغاز کیا۔ ’ہم ایک دوراہے پ [..]مزید پڑھیں

  • کرک کا مندر اور ہمارے سادہ دل فواد چوہدری

    اکیسویں صدی کا اکیسواں برس شروع ہو گیا۔ فیض صاحب نے نومبر 1984کے ایسے ہی کسی کہر زدہ روز میں سوال کیا تھا،’نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے‘۔ فیض صاحب تو چلے گئے۔ مسافران رہ صحرائے ظلمت شب کی محضر پر مہر پہ مہر ثبت ہوتی چلی جاتی ہے، رہائی کا حکم نہیں ہوتا۔ گلی کوچوں میں دن� [..]مزید پڑھیں

  • چودہویں صدی کا چینی مفکر اور ایک ترک ہم عصر

    بات سے بات اس طرح نکلتی ہے کہ منزلوں کا نشاں نہیں ملتا۔ ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں مصطفیٰ زیدی نے ’لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ‘ کا مضمون باندھا تھا۔ خیر گزری کہ دیدہ تر کی شبنم ابھی خشک نہیں ہوئی، متاع احساس سلامت ہے اور قلم اپنے منصب سے دست بردار نہیں ہوا۔  اتنا [..]مزید پڑھیں

  • کیا سیاست دان نئے زمانے کے صوفی ہیں؟

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے لاہور جلسے سے اگلے روز حزب اختلاف کے رہنماؤں کا رائے ونڈ میں اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ ان دو ہفتوں میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ گیا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ میں اس پریس کانفرنس کا ایک منظر � [..]مزید پڑھیں

  • معیشت اور جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نباضی

    تین روز پہلے وعدہ کیا تھا کہ سند باد جہازی کے قصے لکھا کریں گے، قطب شمالی کی برفانی چادر تلے دبی مچھلی کا شکار بیان کریں گے، افریقہ کے جنگلوں میں آزاد گھومتے شیروں کی عادات پر روشنی ڈالیں گے۔ اپنے دیس کی کتھا نہیں کہیں گے۔  مگر وطن تو پرندے کے پاؤں میں الجھی ڈور جیسا رشتہ ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • منجھلے بھائی جان کی صحافت

    ناصر نے لکھا تھا۔ ’خیال آ گیا مانوس رہ گزاروں کا / پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے‘۔ ارے، پلٹ کے کدھر سے آتے، کہیں گئے ہی نہیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ اپریل 1949 میں سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ایک خبر شائع کی۔ حکومت نے پرزور تردید کی اور پھر صحافت کے جملہ منجھلے بھائی جان رواں ہو � [..]مزید پڑھیں