وجاہت مسعود

  • زیاں کے دفتر میں ایک اور برس بڑھ گیا…

    عرش صدیقی بھلے آدمی تھے۔ تدریس کو معاش کا پردہ کیا تھا۔ نظم اور افسانہ لکھتے تھے۔ ہماری چاک دامن تاریخ پر 1978کا برس اترا تو دور دور تک کسی امید کا امکان تک اوجھل ہو چکا تھا۔ ہم ایک ایسے عہد تعطل میں داخل ہو گئے تھے جہاں چند جنوں پرور وطن پرستوں کو چھوڑ کر معاشرے نے ریاکاری، عافیت [..]مزید پڑھیں

  • اس لاحاصل عہد میں عمریں یونہی ڈھلتی ہیں

    ہر عہد کی ایک خوشبو ہوتی ہے، کسی انجان جنگلی پودے سے آنے والی تیز مہک، بعد کے برسوں میں ہم جس کی ایک اداس کر دینے والی کیفیت میں جستجو کرتے ہیں۔ وہ جنگل ہی کٹ گیا، لوگ اوجھل ہو گئے، گلیاں اور مکان بدل گئے، تو وہ خوشبو کہاں رہی جو دلوں میں خوشی اور خواب جگاتی تھی۔ شکرگڑھ شہر سے مش [..]مزید پڑھیں

  • ریپ، آمریت اور خوف

    مانٹریال کے پولی ٹیکنیک سکول میں 6 دسمبر 1989 معمول کا دن تھا۔ انجنیئرنگ کے طلبا اور طالبات درس و تدریس میں مصروف تھے۔ سہ پہر 5 بج کے دس منٹ پر ماخت لپینو (Marc Lépine) نام کا 35 سالہ مسلح شخص دوسری منزل کے ایک کمرہ جماعت میں داخل ہوا۔ یہاں نو طالبات سمیت ساٹھ طالب علم موجود تھے۔ حملہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ

    ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ موت کی ایسی گرم بازاری ہے گویا مٹھیوں سے خشک ریت پھسل رہی ہے۔ رفتگاں کی فہرست ہے کہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ابھی ایک مانوس آواز سے محرومی، ایک دیرینہ رفیق سے فراق اور ایک قدیمی آشنا چہرے کے صدمے سے سنبھل نہیں پاتے کہ ایک اور سناﺅنی آ لیتی ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • نومبر کی رات اور کاتک کا چاند

    موسموں کی کیا پوچھتے ہیں۔ آتے جاتے رہتے ہیں۔ بام حرم کے دست آموز پرندے البتہ موسموں کی خوب خبر رکھتے ہیں۔ آب و ہوا کو موافق پا کر جھیلوں کے کنارے اترتے ہیں۔ ’پانی کے پرندوں کا اکثر چشموں میں بسیرا ہوتا ہے‘۔ پانیوں ہی پر موقوف نہیں، حریم ناز کے خوش رنگ پرندے تو زیر زمیں زل� [..]مزید پڑھیں

  • جنرل جذباتی نہیں ہوتے

    اکتوبر 1958 شروع ہوا تو جنرل ایوب خان فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔ اکتوبر ختم ہوتے ہوتے ایوب خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، وزیر اعظم، صدر اور فیلڈ مارشل کی منزلیں مارتے ان رفعتوں کو پہنچ چکے تھے جہاں فوج کی کمان ایک غیر اہم ذمہ داری تھی جسے کسی مطیع اور مودب ماتحت کو سونپا جا سکتا تھا۔ & [..]مزید پڑھیں

  • امریکی انتخاب اور دیسی لوزر کی شکست

    زندگی ایک دلچسپ سیاحت ہے۔ مسافر کب اور کہاں اترے گا؟ کتنا ٹھہرے گا اور کس رنگ میں ٹھہرے گا ؟ کب اور کیسے رخصت ہو گا؟ کچھ بھی طے نہیں۔ توقع اور حادثے کا کھیل ہے۔ علی افتخار جعفری نے لکھا تھا، نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سرخواب / آنکھ لگنی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے۔ اس سفر میں ایک خا� [..]مزید پڑھیں

  • مسولینی اور سلطنت کا بحران

    ایک بوڑھی خاتون جانے کن وقتوں سے انصاف کی امید پر مقدمہ لڑ رہی تھی۔ اس کے خلاف فیصلہ آیا تو اس نے ماؤں جیسے ٹھہراؤ میں رندھی آواز میں صرف یہ کہا: ’ پھر یہ عدالت تو نہ ہوئی…. ‘ منصف کی کرسی پر رستم کیانی بیٹھے تھے۔ جذبے اور خیال کا تعلق سمجھتے تھے۔ لرز کر رہ گئے۔ بزرگ خاتو [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ کا جبر اور جمہوریت کا سفر

    پاکستان میں جمہوریت بیوہ ماں کا سوتیلا بچہ ہے جو ماموں کے گھر میں پرورش پاتا ہے۔ اور گھر بھی ایسا ’جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں‘۔ اہل کراچی کے سیاسی شعور کی زندگی آفریں حرارت سے نچنت ہو کر دو گھڑی کو نیند لیتے ہیں تو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی خبر پر آنکھ کھلتی ہ� [..]مزید پڑھیں