وجاہت مسعود

  • منحرف صحافی کا یوم آزادی

    ناصر نے کہا تھا، جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو / بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے۔ شعر تھوڑا گمبھیر ضرور ہے لیکن ناصر بہرصورت محب وطن تھے۔ آہوئے رمیدہ اور کسی قدر وارستہ تھے، آزادی کے پہلے پچیس برس کی تاریخ غزل میں بیان کر گئے۔ ہجرت کی آشفتگی میں ’طلسم کم نگاہی‘  ٹوٹنے کی امید با� [..]مزید پڑھیں

  • وقت گزر رہا ہے

    شاہد خاقان عباسی مئی 1988 کے سانحہ اوجڑی کیمپ کے پس منظر میں سیاسی منظر پر نمودار ہوئے۔ راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2002 اور 2018 کے انتخابات میں شکست کے سوا مسلسل رکن پارلیمنٹ چلے آتے ہیں۔ عسکری پس منظر اور دائیں بازو کی سیاست کرنے والے شاہد خاقان نے نوے کی شور انگیز [..]مزید پڑھیں

  • جان لیوس سے مفتی کفایت اللہ تک

    28 اگست 1963 ایک ایسا دن تھا جس نے ہماری نسل کا معانی متعین کیا۔ اس روز واشنگٹن میں ابراہم لنکن کی یادگار کے سائے میں دس لاکھ سفید اور رنگ دار امریکی شہری پرامن مارچ کرتے ہوئے جمع ہوئے تھے۔ وہ رنگ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔  اس احتجاج کی قیادت 34 سالہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دریا پر پل کیسے باندھا جائے؟

    دریائے مسسپی دنیا کا چوتھا طویل ترین دریا ہے۔ امریکا کی شمالی ریاست منی سوٹا کی ایک جھیل سے نکل کر 2300 میل کا فاصلہ طے کر کے جنوب میں لوزیانا کے قریب خلیج میکسیکو میں گرنے والے اس دریا کی کہانی امریکی تاریخ کے ساتھ بندھی ہے۔ نقشے پر دیکھیں تو یوں لگتا ہے گویا مسسپی دریا نے ایک عمو [..]مزید پڑھیں

  • قوم کا مبینہ اغوا اور ملزم کی تلاش؟

    مطیع اللہ جان کو 22 جولائی 2020 کی صبح اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ ان کے مبینہ اغوا کاروں نے ان پر گھنٹوں مبینہ طور پر تشدد کیا اور پھر مبینہ طور پر فتح جنگ کے پاس ویرانے میں چھوڑ کر مبینہ طور پر فرار ہو گئے۔ ہمارے ملک میں یہ سرگزشت نئی نہیں۔  یہ قصے مئی 1949 میں سول ا� [..]مزید پڑھیں

  • The Choice of the Turks

    مولانا محمد علی جوہر برصغیر میں وقیع صحافت کے امام تھے۔ رچے ہوئے سیاسی موقف کو ایسی کانٹے کی تول انگریزی نثر کم کسی نے بخشی ہو گی۔ کلکتہ سے انگریزی ہفت روزہ کامریڈ اور دہلی سے اردو روزنامہ ہمدرد نکالا۔ حریت فکر اور جوش عمل کا نادر امتزاج تھے۔  برسوں انگریز کی قید کاٹی۔ جولا [..]مزید پڑھیں

  • منو بھائی اور دیگر ماؤں کے بارے میں

    جن بلاؤں کو میر سنتے تھے، ان کو اس روزگار میں دیکھا۔ وبا کاہے کی ہے، فلک کو ہمارے ہاتھ کاٹنے کا بہانہ منظور تھا۔ اگتے تھے جس میں شعر، وہ کھیتی اجڑ گئی۔ جن بستیوں سے ہواؤں کے دوش پر سُروں کے جھونکے موصول ہوتے تھے، جہاں خوشبو کا ڈیرا تھا، جہاں ہم دلی کے چھتنار پیڑوں کی سہایتا تھی، � [..]مزید پڑھیں

  • یونائیٹد فروٹ کمپنی اور مرہٹہ مافیا

    افتخار عارف نے ہمارے عہد میں آہوئے رمیدہ کی درماندگی کو شعر کیا، آفت کی آشفتگی کو گداز دیا۔ ہمارے اندیشوں کو آہ سرد کی زبان بخشی اور لکھا…. محورِ گردشِ سفاک سے خوف آتا ہے۔ وقت کی گردش سے تو مفر نہیں۔ لیکن دشنہ جبر کی چبھن کا علاج تو ممکن تھا۔ ایسا نہیں ہو سکا۔ چارہ گروں کو چار� [..]مزید پڑھیں