وجاہت مسعود

  • عوام بنام جسٹس ارشاد حسن خان

    اس موقر روزنامے میں ملک کے معروف صحافی محترم عرفان صدیقی نے چھ کالموں کے ایک مربوط سلسلے میں جون 2001 کے ان واقعات کی آنکھوں دیکھی کہانی بیان کی ہے جب پاکستان پر زبردستی مسلط ہونے والے جرنیلوں کے ٹولے نے بیس مہینے تک انتظار کرنے کے بعد بالآخر ملک کے منتخب صدر محترم رفیق تارڑ کو بھ [..]مزید پڑھیں

  • جہالت علم اور ظلم کا بحران ہے

    کتاب مقدس کی سورہ فرقان کی آیت 63 میں ہدایت کی گئی کہ زمیں پر تواضع (یعنی تحمل اور آہستہ روی) اختیار کی جائے اور اگر جاہلوں سے واسطہ پڑ جائے تو انہیں سلام کر کے اپنی راہ لی جائے۔ اپنے سچ پر قیام، دوسروں کے ساتھ رواداری اور فساد سے گریز کا اس سے بہتر نسخہ کیا ہو سکتا ہے۔ مناسب ہو گا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بابو گوپی ناتھ ڈاکٹرائن اور کرنل صاحب کی پنشن

    ادب اور تاریخ میں کیا فرق ہے؟ تاریخ گزری ہوئی حکایت ہے۔ اس کا انجام معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم ابھی تک سانس لے رہے ہیں تو تاریخ کے کردار کتاب کے صفحوں سے نکل کر ہم پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ ادب ایک فتنہ پرور ہنر ہے۔ لکھنے والا نامعلوم کو معلوم میں اس طور ملا دیتا ہے کہ ماضی کے حادثے اور [..]مزید پڑھیں

  • لفافہ صحافی اور ناخن کا قرض

    اگرچہ دانا لوگ اس راز کو کھولا نہیں کرتے لیکن آپ سے کیا پردہ، درویش ایک لفافہ صحافی ہے۔ ضمیر کی کیا پوچھتے ہیں؟ خانہ برباد نے مدت ہوئی، گھر چھوڑ دیا۔ احوال واقعی یہ ہے کہ جس ادارے کا ملازم ہوں، اس کا سیٹھ ٹھیک تین مہینے سے ایک ایسے سنگین الزام میں گرفتار ہے جسے اب تک باقاعدہ مق� [..]مزید پڑھیں

  • غلط فہمی کا اخلاقی بحران

    اسلام آباد میں آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ کو میاں بیوی نے تشدد کر کے مار ڈالا۔ اس پر ’بے لگام سوشل میڈیا‘نے طوفان کھڑا کر دیا کہ زہرہ شاہ کو انصاف دو۔ آج کی بات نہیں، ان حالوں ہم کو برسوں گزرے ہیں۔ ہم نے کم سن زینب کے لئے انصاف مانگا۔ نقیب محسود کے لئے انصاف مانگا۔ ساہیوال کے � [..]مزید پڑھیں

  • خلل اور اختلال کے درمیان صحافت

    خلد آشیانی مشتاق احمد گورمانی کی رسمی تعلیم کچھ زیادہ نہیں تھی لیکن ذاتی مطالعے سے استعداد یہاں تک بڑھا لی تھی کہ سرکاری دستاویز اور سیاسی بیان میں سند مانے جاتے تھے۔ ٹھٹھہ گورمانی، کوٹ ادو کے نواب صاحب نے کم عمری ہی سے منصب اور جاہ و حشم کا ذوق پایا تھا۔ برطانوی ہند میں عہدوں [..]مزید پڑھیں

  • زوال کے دھندلے میں نجات کا راستہ

    یاد کی ڈاک گاڑی نامانوس گھنے جنگلوں میں پہنچ رہی ہے۔ یہاں دو وقت ملتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کی راکھ سے جنم لینے والے ققنس رخصت ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی غلامی سے آزادی کا خواب مقامی حبس بے جا میں نظر بند ہو گیا اور اس المیے سے دوبدو ہونے والی نسل رخصت ہو رہی ہے۔ ہماری نسل کے لئے زیاں ا [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان کا ویژن اور ہمارے راؤ غلام مصطفیٰ

    عزیزم راؤ غلام مصطفیٰ کی تحریریں  ’ہم سب‘ کے لئے تواتر سے موصول ہوتی ہیں اور رائے کے کسی ممکنہ اختلاف سے قطع نظر من و عن شائع کی جاتی ہیں۔ راؤ غلام مصطفیٰ زود نویس ہیں۔ ان کی تحریروں میں وسطی پنجاب کے متوسط طبقے کے تاریخی شعور اور سیاسی نفسیات کی جھلک ملتی ہے۔  مہ و س� [..]مزید پڑھیں

  • ارطغرل اور منٹو کا ’ماتمی جلسہ‘

    منٹو مرحوم پر برطانوی ہندوستان اور آزاد پاکستان میں فحاشی کے الزام میں چھ مقدمے چلائے گئے۔ پہلے پانچ مقدمات میں بری ہوئے البتہ 1953میں چھٹے مقدمے میں کراچی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مہدی علی صدیقی نے انہیں پچیس روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ بے شک پاکستان میں عدلیہ ہمیشہ قانون کی � [..]مزید پڑھیں