وجاہت مسعود

  • وبا پر یقین نہ کرنے کے بارے میں

    اس سے پہلے کہ کراچی یونیورسٹی کے کسی زبدة العلما طالب علم کے سفال تحقیق میں طوفان اٹھے، مسافر اقرار کرتا ہے کہ یہ عنوان آرتھر کوئسلر کے مضمون On Disbelieving the Atrocities سے اخذ کیا ہے۔ ارتھر کوئسلر کو عام طور سے ناول نگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ظلمت نیم روز (Darkness at Noon) ان کا شہرہ آفاق ناول � [..]مزید پڑھیں

  • بستی سے منہ اندھیرے نکلنا اور سفر کی رائیگانی

    خالد حسن مرحوم علم، ذہانت، احساس اور بذلہ سنجی کا نادر امتزاج تھے۔ محکمہ ٹیکس کی کان نمک چھوڑ کے چند سو روپلی پر پاکستان ٹائمز میں سینئر رپورٹر ہو گئے تھے۔ ایسا فیصلہ بذات خود شخصی قامت پر دلیل ہوتا ہے۔  ایسا دماغ جو منصب اور جاہ کا طالب نہیں، دل کی کشاد مانگتا ہے۔  خیال ر [..]مزید پڑھیں

  • اجتماعی دیوانگی میں وبا کے منظر

    طالب علم کی رائے ہے کہ ہندوستان کی مسلم تاریخ میں امیر خسرو اور میر تقی میر سے بڑے ذہن پیدا نہیں ہوئے۔ امیر خسرو نے یہ تو کہا کہ کافرِ عشقم، مسلمانی مرا درکار نیست لیکن دوسرے ہی مصرعے میں اپنی رگ رگ کے تار ہو جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کفر کے زنار سے بھی دست کشی کا اعلان کر دیا۔   [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اجل، ان سے مل

    ملتان کے جنوب میں کوئی 30 میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر شجاع آباد واقع ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کے قریب قریب مرکز میں واقع اس زرعی قصبے کو پہلے پہل صلاح الدین صاحب کے طفیل جانا۔ پیرانہ سالی میں فکری دیانت اور سیاسی بیدار مغزی کا لائق احترام نمونہ ہیں۔ مت� [..]مزید پڑھیں

  • قومی حکومت یا قوم کی حکومت؟

    برادر محترم نے انہی صفحات پر 13 اپریل اور 15 اپریل کو ایک ہی سانچے (Template) میں ڈھلے دو کالم یکے بعد دیگرے ارزاں کئے ہپں۔ دونوں کالموں میں، معمولی تصرف کے ساتھ، تین نکات بیان کئے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کورونا بحران سے نمٹنے میں ناکام ہوئی ہے۔ معیشت کا حال پہلے سے دگرگوں تھا، اب س [..]مزید پڑھیں

  • کوئی ایسا بھگت سدائے

    ایم ڈی تاثیر نے طرفہ طبیعت پائی تھی۔ ہماری تمدنی اور ادبی تاریخ میں اقبال اور فیض کی درمیانی کڑی سمجھنا چاہیے۔ ذہانت بے پناہ اور مزاج شوریدہ تھا۔ ایک روز اقبال کے پاس اپنی غزل لے کر پہنچے، تیری صورت سے تجھے درد آشنا سمجھا تھا میں…. الخ۔ اقبال نے غزل سنی اور کہا ’کاغذ قلم [..]مزید پڑھیں

  • معصوم بچہ اور برہنہ بادشاہت کا اوجھل ہوتا تخت

    ہم نے عجب قسمت پائی ہے۔ کبھی جغرافیہ غداری کرتا ہے اور کہیں تاریخ کا پاؤں رپٹ جاتا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے بہار کے نقیب اپریل کو ظالم ترین مہینہ لکھا تھا۔ شرح اس بلیغ مصرعے کی یہ تھی کہ کہرے میں لپٹی بے رنگ زمیں سے سبز اکھوے پھوٹتے ہیں اور نئی کونپلیں سر نکالتی ہیں تو دل کے گھاؤ ہرے ہ� [..]مزید پڑھیں

  • مسولینی کی یرغمال سلطنت اور وبا کا سبق

    تاریخ کی تمثیل کے مناظر شاذ ہی لکھے ہوئے اسکرپٹ کے مطابق کھلتے ہیں۔ مولا علی کا قول تو ہم سب نے سن رکھا ہے، میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے فسخ سے پہچانا۔ علی مرتضیٰ علم کے شہر کا دروازہ تھے۔ ہم کوتاہ قدم اور کم نظر ان کی بصیرت کی تھاہ کو کیا پہنچیں گے۔ مگر ایسا ہے کہ ہم صدیوں کی [..]مزید پڑھیں

  • راج روگ کے مقدمے میں وبا کی ضمنی

    مصائب اور تھے پر جی کا جانا، عجب ایک سانحہ سا ہو گیا ہے۔ کورونا کی وبا دنیا بھر میں پھیل گئی ہے۔ چین میں اس بلا کی ابتدائی نمود ہوئی تھی، چین کا قصہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ سد سکندری کے حصار میں ہیں۔ کسی خبر کی معروضی تصدیق یا تردید ممکن نہیں۔ سرکار جو کہہ دے، وہی شہر ممنوعہ سے خبر � [..]مزید پڑھیں