وجاہت مسعود

  • بحران کی فالٹ لائن پر وبا کے دن

    کورونا وائرس نے ایک دو نہیں، دنیا کے قریب قریب ہر ملک کو آ لیا۔ اس کا علاج معلوم نہیں، کسی کے پاس حتمی اعداد و شمار نہیں کہ تیز رفتار سفری سہولتوں کے اس عہد میں کون کہاں سے آیا اور کہاں کہاں سے ہوتا ہوا کدھر جا نکلا۔ ساڑھے سات ارب سے زائد آبادی میں سے کون کس سے کب ملا، کب اس نادید [..]مزید پڑھیں

  • وبا اور وہم کے درمیان

    محمد فیاض بھلے انسان تھے۔ بظاہر اطلاعات کے شعبے میں کار سرکار سے سروکار کہ جس کے بارے میں سوچتے ہی کچھ چوہدری محمد حسین اور میر نور احمد کا خیال آتا ہے مگر فیاض کا رکھ رکھاؤ پہلو داری سے خالی نہیں تھا۔ ٹھہری ہوئی سطح کے نیچے تلاطم بھی تھا، جذبے کی حرارت بھی اور گاہے کسی خیال، � [..]مزید پڑھیں

  • میر شکیل الرحمن…. پریوں کی تلاش میں گئے ہیں

    مرے دل مرے مسافر، ہوا پھر سے حکم صادر…. ہر اک اجنبی سے پوچھیں، جو پتا تھا اپنے گھر کا۔ میر شکیل الرحمن گرفتار کر لئے گئے۔ لفظ کو ہتھکڑی پہنائی گئی ہے۔ انسانوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ لفظ کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ لات، منات اور عزیٰ کی دھوپ ڈھل جاتی ہے۔ اِن ال [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آٹھ مارچ عورتوں کا دن نہیں ہے

    مجھے معلوم ہے کہ آپ اس عنوان سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ حیران ہوں کہ آج آٹھ مارچ کو جب کہ دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق پر بات ہو رہی ہے، عالمی رہنماؤں سمیت مقامی بیان بازوں تک، سب کے لئے صدیوں پرانے پامال بیانات دہرانے کا دن ہے۔ کہیں حفیظ جالندھری ماؤں، بہنوں، بیٹوں کو [..]مزید پڑھیں

  • اپنا اپنا امپائر

    کیلنڈر پر مارچ کا مہینہ اتر آیا ہے اور نامیاتی ترتیب سے خشک ٹہنیوں پر کونپلیں بھی ہر برس کی طرح نمودار ہو رہی ہیں لیکن بہار کا کوئی نشان نہیں۔ بہار تو ایک کیفیت ہے نئی فصلوں کے بادام اترنے کی امید، دوستوں کے ساتھ کچھ قہقہ بار شاموں کی ترنگ، محبت کرنے والی آنکھوں سے بن کہے لفظ س� [..]مزید پڑھیں

  • چوڑا بازار لدھیانہ سے شاہین باغ دلی تک

    27 فروری کی صبح سورج کی روپہلی کرنیں معمول کی طرح دریائے جمنا پر اتری تھیں۔ گلابی جاڑے کی سہج سکم دھوپ میں غیر ملکی صحافی دہلی کے جنوب میں جامعہ نگر پہنچے تو شاہین باغ کی رونق اجڑ چکی تھی۔ تین روز کی مار دھاڑ کے بعد غیر منصفانہ شہریت بل کے خلاف 75 روز سے جاری لاکھوں بھارتی شہریوں [..]مزید پڑھیں

  • بارہ موسموں کے محرم اور ذہانت کا بحران

    ڈاکٹر لال خان کو سلام پہنچے۔ ہماری دھوپ ڈھلنے کو آ پہنچی۔ دیدہ تر کی شبنم سوکھ چلی۔ شب سست گام کا ساحل ہمیں دکھائی نہیں دیا اور اب اس کی کچھ ایسی فکر بھی نہیں۔ ایک غم تھا کہ عمر رواں پہ سایہ فگن رہا، ایک ملال تھا کہ ہر سانس میں خنجر زن رہا۔ دل میں جب تک آگ تھی، ہم روشنی کرتے رہے۔ � [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے وزیر اعظم بہت اچھے ہیں

    آپ کو بتانا تھا کہ درویش نے عمران خان صاحب کے بارے میں اپنی رائے بدل لی ہے۔ خدا وزیر اعظم کی حفاظت فرمائے اور ان کی حکومت کو دوام بخشے۔ فطری کاہلی آڑے آئی ورنہ اصولی طور پر تو تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوتے ہی اطاعت کا اعلان واجب تھا کہ یہی ہماری روایت ہے اور بزرگوں کا بتایا ہوا ا [..]مزید پڑھیں

  • اماوس کی رات اور امکان کے جگنو

    ناانصافی ہماری دھرتی کے سینے پر رکھا ایسا پتھر ہے جس کا بوجھ ہمارے رگ و ریشے، ہر بن مو میں ایک جیسی تکلیف دیتا ہے۔ ہماری زمین کا امتیاز یہ ہے کہ ہمارے پرکھوں نے نسل در نسل ناانصافی سے جنگ کی ہے۔ ہم نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ پاکستان کے ہر خطے میں، تاریخ کے ہر موڑ پر، قلم کی کاٹ سے پھان [..]مزید پڑھیں

  • قوم ناکام کیوں ہوتی ہے؟

    اسلام آباد سے محبت کرنے والے اسے ’اسلام آباد ، دی بیوٹی فل‘ کہتے ہیں اور ٹھیک کہتے ہیں۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے امڈتے بادلوں تلے دو رویہ جھومتے درختوں کے بیچوں بیچ برکھا کی بوندوں میں بھیگتی سڑکوں کے نشیب و فراز آنکھ میں ٹھنڈک بن کر اترتے ہیں۔ وہی نیشا پور کے نظیری کی حکایت& [..]مزید پڑھیں