وجاہت مسعود

  • پاکستان کے شہری قائد اعظم کا خاندان ہیں

    بھارتی حکومت کے متنازع قانون شہریت پر ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہ قانون بھارت کے مسلمان شہریوں کے ساتھ امتیاز کرتا ہے۔ ریاست کسی مذہبی گروہ کے ساتھ ترجیحی سلوک کرے یا امتیازی، ہر دو صورتوں میں اپنے فرض سے کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہے۔  ریاست کا کام کسی مذہبی امتیاز کے بغیر اپنے ش [..]مزید پڑھیں

  • فالٹ لائن سے سرخ لکیروں تک

    اردو صحافت کی لغت اور لہجے میں دیکھتے ہی دیکھتے بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ انگریزی الفاظ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ بہت سے لفظوں کی املا بدل گئی ہے۔ اور بہت سی تراکیب ایسی چلی آئی ہیں کہ مولانا غلام رسول مہر تو خیر جدید اردو صحافت کے معمار تھے، نوائے وقت کے موقر اداریہ نویس بشیر اح [..]مزید پڑھیں

  • ایک عمر کی حکایت اور ناخدا کی تلاش

    کوئی پچیس برس پہلے خوشونت سنگھ کا ناول ’دہلی‘ پڑھنے کو ملا۔ ہڈالی خوشاب کے فرزند کی داستان گوئی میری، آپ کی داد سے بے نیاز ہو چکی۔ لفنگے صحافی اور خواجہ سرا بھاگ متی کی رس بھری کہانی میں خوشونت سنگھ نے دہلی کی تین صدیاں سمیٹ لی تھیں۔ سمٹے تو دل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے۔ لی� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • وائیمر ری پبلک کے ہیولے اور وشی حکومت کے کردار

    سیاسی موضوعات پر بننے والی فلموں سے شغف رکھنے والوں میں سے شاید ہی کوئی ہو جس نے 1972 میں بننے والی فلم کیبرے (Cabaret) نہ دیکھی ہو۔ کرسٹوفر ایشروڈ کی ایک مختصر کتاب Goodbye Berlin سے ماخوذ یہ فلم جرمنی کے پہلے جمہوری تجربے وائیمر ری پبلک کی ناکامی بیان کرتی ہے۔ وائمر ری پبلک کا کچھ ذکر آج � [..]مزید پڑھیں

  • لگاتار سردمہری کا دسمبر گزرتا ہی نہیں

    عرش صدیقی کو ملال تھا کہ دسمبر آ گیا ہے۔ دسمبر کے تو اکتیس دن ہوتے ہیں اور یہ سرد دن بہرحال گزر جاتے ہیں۔ ہمارا دکھ یہ ہے کہ ریاست کی سرد مہری پر بہتر دسمبر گزر چکے ہیں۔ اس زمستانی موسم کی ہڈیوں تک اتر جانے والی بے بسی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ استاد محترم فرمایا کرتے تھے کہ آمر [..]مزید پڑھیں

  • ماسکو ٹرائل اور حب الوطنی کا مقابلہ

    بارے خیریت رہی۔ 27 نومبر کی رات گزر گئی۔ کس قیامت کی رات تھی، بیم و رجا کا کھیل تھا، ناموسِ جان و دل کی بازی لگی تھی۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔ ہماری تاریخ میں ایسی بہت سی راتیں گزریں جب آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں۔ یہ روزن کی سہولت بھی مرزا غالب کو دلی میں میسر تھی۔ ہما [..]مزید پڑھیں

  • گالی اور دلیل کے درمیان سیاسی اسموگ

    ہمارے سیاسی مکالمے میں گالی نے دخل پا لیا ہے۔ ایک صوبائی وزیر نے ٹیلی ویژن پر کیمروں کی موجودگی میں میزبان کو ٹکسالی گالی دی۔ ایک مذہبی رہنما نے اپنی سیاسی مہم جوئی کو ایک ایسی گالی کاعنوان دیا کہ حضرت کی ذات اقدس اور ایک غیر فصیح ترکیب یک جان دو قالب ہو گئے۔ ایک آن لائن عالم ک� [..]مزید پڑھیں

  • آدھے سر کا درد اور 22 کروڑ کا حق وراثت

    نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کا جوار بھاٹا ساحلوں کی گیلی ریت پر اپنے نشان چھوڑ گیا۔ توپ کاپی کی محل سرا میں طاقت کی صف بندی معمولی نقل و حرکت کے ساتھ طے شدہ ترتیب میں ہے۔ نظم و ضبط کا بھرم قائم ہے۔ فلک پر ستارے بدستور چمک رہے ہیں اور نیچے گلی ک [..]مزید پڑھیں

  • افلاک کی روشنیاں اور اقتدار کی شوخیاں

    آپ لاہور کو شہر کہتے ہیں۔ ارے نہیں، جنہوں نے لاہور کو دیکھا اور برتا ہے، وہ اسے کنج گلزار سمجھتے ہیں، کوچہ دلدار جانتے ہیں۔ آرزوئے دل فگاراں اور چشم نگار کا سنگم پکارتے ہیں۔ اس شہر کے بیچوں بیچ مال روڈ کی لکیر کھنچی ہے، آب رواں کی سی سہل گام ٹھنڈک لئے، مانوس عمارتوں، اجنبی چہر� [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف کیسے کامیاب ہوئے؟

    یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اخباری کالم مصدقہ اطلاع نہیں ہوتے۔ یہ تو بھنگڑ خانے کی گپ ہے ۔ کچھ سنی سنائی، کچھ دل کی دہائی اور باقی روئی کی دھنائی۔ لوگ باگ مگر کچھ ایسے خوش عقیدہ واقع ہوئے ہیں کہ بے خبر کالم نگاروں کے صریر خامہ کو نوائے سروش سمجھ بیٹھتے ہیں۔ درویش بے نشاں لاکھ صنعت � [..]مزید پڑھیں