وجاہت مسعود

  • اماوس کی رات اور امکان کے جگنو

    ناانصافی ہماری دھرتی کے سینے پر رکھا ایسا پتھر ہے جس کا بوجھ ہمارے رگ و ریشے، ہر بن مو میں ایک جیسی تکلیف دیتا ہے۔ ہماری زمین کا امتیاز یہ ہے کہ ہمارے پرکھوں نے نسل در نسل ناانصافی سے جنگ کی ہے۔ ہم نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ پاکستان کے ہر خطے میں، تاریخ کے ہر موڑ پر، قلم کی کاٹ سے پھان [..]مزید پڑھیں

  • قوم ناکام کیوں ہوتی ہے؟

    اسلام آباد سے محبت کرنے والے اسے ’اسلام آباد ، دی بیوٹی فل‘ کہتے ہیں اور ٹھیک کہتے ہیں۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے امڈتے بادلوں تلے دو رویہ جھومتے درختوں کے بیچوں بیچ برکھا کی بوندوں میں بھیگتی سڑکوں کے نشیب و فراز آنکھ میں ٹھنڈک بن کر اترتے ہیں۔ وہی نیشا پور کے نظیری کی حکایت& [..]مزید پڑھیں

  • فروری کی کونپلیں اور سیاسی اظہار کے چراغ

    عزیزان گرامی، گزشتہ ہفتے آپ سے ملاقات نہیں ہو پائی۔ اگرچہ ان دنوں ملاقات کی صورت یوں بھی کچھ دگرگوں ہی رہتی ہے۔ پہرے کی چاپ مسلسل کانوں میں گونجتی رہے تو قلم لڑکھڑانے لگتا ہے، نطق میں لکنت چلی آتی ہے۔  آنکھ البتہ سب کہتی ہے۔ اور پھر یہ کہ آپ جیسے ذہین اور حساس دلوں تک رسائی ت [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عمران خان کے دفاع میں ایک تحریر

    اگر پاکستان ہمارا ملک ہے تو اپنے ہی ملک کے رہنماؤں اور باشندوں کو ہمہ وقت اڑنگی دینے اور دھول چٹانے سے کیا فائدہ ہوگا۔ کسی کو شیطان اور کسی کو فرشتہ سمجھنے کی لاحاصل مشق میں ہم نے بہت وقت گنوایا ہے۔ سامنے کا سبق یہ ہے کہ کسی فرد یا واقعے سے امیدیں باندھنے کی بجائے حقائق، مسائل، [..]مزید پڑھیں

  • ماؤں کے نام پر جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے جاتے

    اسلام آباد کی شام آہستگی سے رات میں ڈھل رہی تھی۔ آتش دان سے آتی حرارت کی لہریں محبت کی سرگوشی کی طرح نظر آئے بغیر کمرے کی دیواروں سے لپٹ رہی تھیں۔ تین دوست دن بھر کی مشقت کو ملاقات کی سرخوشی میں بھگو رہے تھے۔ بہت برس گزرے، ان تینوں نے معمولی وقفے سے ایک ساتھ جیون کے منہ زور دھار� [..]مزید پڑھیں

  • دروازہ نہیں کھلتا

    یہ جو بڑے لوگ ہوتے ہیں، جینے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ بات کہنا بھی انہیں آتی ہے اور یہ رقیب سے بھی راز و نیاز کر لیتے ہیں۔ عرفان اور نروان کی ان منزلوں کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں۔ ہم جیسے کم نظر اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتے، دشت نوردی کا حوصلہ اور گہرے پانیوں سے شناوری کی ت� [..]مزید پڑھیں

  • عزا دارو، جنازے لوٹ کے آتے نہیں

    سال میں تین سو پینسٹھ دن اور باون ہفتے ہوتے ہیں۔ صدی کے بیسویں برس کے پہلے دو ہفتے ہی میں ایسا بجوگ پڑا ہے کہ منزلوں منزلوں راہ تاریک نظر آتی ہے۔ طلوع کے دھندلے میں ایسی ویرانی ہے تو رات گزرے گی کس خرابی سے۔ بیوہ ماں نے رت جگوں کی محنت سے بارہ برس میں جو کٹیا اٹھائی تھی، رات کے پ� [..]مزید پڑھیں

  • 22کروڑ کے لئے پیر و مرشد کی بشارت

    دیکھیے جو ہونا تھا، ہو چکا۔ بات کچھ ایسی بڑی نہیں تھی، کہنہ روایت موجود تھی، بس انجانے میں پاؤں رپٹ گیا اور پھر قسمت کا لکھا پورا ہوا۔ مسہری اور دری کی ایک ساتھ پامالی کا تماشا ایک دنیا نے دیکھنا تھا، سو دیکھ لیا۔ جو ہونا تھی، وہ بات ہو لی کہارو۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سے آگے کیا ہو� [..]مزید پڑھیں