وجاہت مسعود

  • عاصمہ جہانگیر سے ملالہ یوسف زئی کے کشمیر تک

    آج آپ کو ایک راز کی بات بتائی جائے۔ درویش کالم لکھنے سے پہلے ہاتھ منہ دھونے کا التزام کرتا ہے۔ یہ ایک علامتی فعل ہے۔ لکھتے ہوئے انسانی زندگی کی غلاظتوں، محرومی کی بے بسی، تشدد کی درندگی، اقتدار کی لغویت، ظلم کے ننگ، جبر کی جہالت اور جہالت کی کم مائیگی سے واسطہ پڑتا ہے۔   لکھ� [..]مزید پڑھیں

  • شعر دولخت اور کالم بے ربط کیسے ہوتے ہیں؟

    ہم نے اس دیار خوش رنگ میں ہر طرح کا موسم دیکھا، امید کی رت دیکھی۔ حبس کا عالم دیکھا، بہار کے آمد کی سندیسے سنے، خزاں کے ٹھہر جانے کی آزمائش سے گزرے۔ الحمدللہ، اس مٹی سے فراق کا خیال تک نہیں گزرا۔ پیر و مرشد پرویز مشرف کے جلوس بے اماں میں کچھ مدت کے لئے البتہ رخصت لی تھی۔ اس میں ظ� [..]مزید پڑھیں

  • اسم ضمیر غائب اور قومی گرامر کے دیگر مسائل

    اس سے پہلے کہ آوازوں کا رزق چھن جائے، قلم کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، کیمرا ضبط کر لیا جائے، آنکھ پر پردہ ڈال کر نظر کی حد لگا دی جائے، مشاہدے اور بیان میں ربط ختم ہو جائے، واقعے اور گواہی میں کار سرکار کی خلیج حارج ہو جائے، مفاد کی مقراض سے قطع و برید کے بعد بچ رہنے والا ادھورا مو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟

    ٹھیک بیس مہینے گزرے۔ 20 جنوری 2018 کی صبح روز نامہ جنگ کے اسی ادارتی صفحے پر درویش نے لکھا، ’عمران خان ابھی میرے وزیر اعظم نہیں بن سکتے‘ ۔ اس پر اختیار کے ایوانوں سے استہزا کا ہنکارا سنائی دیا، تماشائیوں کے انبوہ سے ٹھٹھا بلند ہوا۔ اس میں کیا تعجب کہ اس وقت فکر فردا اور جشن ا [..]مزید پڑھیں

  • محترم چیف جسٹس: اے گل تازہ بہت دیر لگا دی تو نے

    ہم تاریخ کے جھٹپٹے میں ہیں۔ اندھیرے اور روشنی کے کھیل میں وہ نقطہ جہاں دونوں وقت آن ملا کرتے ہیں۔ یہ معلوم کرنا مگر مشکل ہے کہ ہم دن کا سفر ختم کر کے ایک طویل رات میں داخل ہو رہے ہیں یا رات کٹ رہی ہے اور بھور اجالا اپنی چھب دکھلانے کو ہے۔  اگر رات آن پہنچی تو اس رات کی آنکھوں میں [..]مزید پڑھیں

  • ڈنمارک کی ریاست: جیسے رسی سے ٹوٹا کواڑ باندھ دیا

    ہم میں سے کون ہے جس نے شیکسپیئر کا شہرہ آفاق ڈرامہ ہیملٹ نہیں پڑھا۔ ڈنمارک اور ہمسایہ ملک ناروے کی ریاستوں میں جھگڑے کی ایک تاریخ چلی آ رہی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف خون بہانے کی روایت قائم ہو چکی ہے۔ کچھ مدت ہوئی، ناروے کا بادشاہ مارا گیا تھا اور حال ہی میں ڈنمارک کا تاجدار قتل ہو� [..]مزید پڑھیں

  • اپنا اپنا چھ ستمبر

    آج چھ ستمبر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس برس یوم دفاع کو یکجہتی کشمیر سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ 8 اگست 1965 کو پیر پنجال کی پہاڑیوں سے شروع ہو کر 10 جنوری 1966 کو تاشقند کی میز پر ختم ہونے والی جس لڑائی سے یہ دن منسوب ہے، اس کی چنگاری کشمیر کے چناروں ہی سے پھوٹی تھی۔ خیر یہ تو ہوتا ہے۔ ہر کہ آمد ع [..]مزید پڑھیں

  • سوال کی تنہائی اور ہجوم کی اطاعت

    ہم ان دنوں ایک طرفہ آزمائش سے دوچار ہیں۔ بظاہر بلند بانگ نعروں کا شور ہے، عشروں سے سیکھا ہوا پامال آموختہ ایک بیزار کن تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔ زمینی حقائق کے کچھ نیم تاریک گوشے لمحے بھر کو روشن ہوتے ہیں اور پھر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ حکومت کے کچھ ارکان کو غیر ذمہ دار گیڈ [..]مزید پڑھیں

  • ذات پات بدترین نسل پرستی ہے

    انسانی حقوق کی تعلیم کا کام کرتے ہوئے یہ تجربہ ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقدار اور معاشرتی پسماندگی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، شدت اور درجہ بندی میں کوئی فرق نہیں۔ تشدد کی ثقافت پاکستان کے ہر منطقے اور ہر گروہ میں موجود ہے۔ اپنے سے مختلف کو غلط اور کمتر سمجھنے کا رویہ عام ہ� [..]مزید پڑھیں

  • نظریاتی نعرے میں سوال کی سرگوشی

    ٹھیک 80 برس پہلے اواخر اگست کے یہی دن تھے۔ نازی جرمنی کا وزیر خارجہ ربن ٹراپ اشتراکی روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچا۔ جہاں اس نے سوویت وزیر خارجہ مولوٹوف کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کیے کہ جرمنی اور سوویت یونین ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ نظریاتی سوچ رکھنے والوں ک [..]مزید پڑھیں