وجاہت مسعود

  • انی کنت من الظالمین سے عشائے ربانی تک

    منیر نیازی نے کہا تھا، رات دن کے آنے جانے میں یہ سونا جاگنا / فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت۔ منیر نے اس اشارے سے روشنی پانے والوں کے لئے فکر کی شرط رکھی۔ ہم ایسے درماندہ تو تفکر کی استطاعت نہیں رکھتے، ہمیں تو فکر مندی کی صلیب بخشی گئی۔ درد کی سولی پر کھینچا گیا۔ اس نیند میں [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ وعدہ معاف گواہ نہیں بنتی

    قلم اٹھاتا ہوں تو قد آدم سے کچھ زیادہ قامت رکھنے والے وہ مہربان چہرے آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں جو اب نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔ اس سے رات کا اندھیارا دور نہیں ہوتا اور دن کی بے آبرو فحاشی کی خجالت کم نہیں ہوتی مگر یہ حوصلہ ضرور ملتا ہے کہ آنے والے کل کی جستجو میں آج کی تاریکی سے [..]مزید پڑھیں

  • سیزر کی بیوی اور احتساب کی اندر سبھا

    صورت حال کو سیدھے سیدھے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تشویش یہ ہے کہ اگر معاشرے میں مصلحت اور خاموشی کی ثقافت پھیل جائے تو درد کے درماں کا امکان بھی مفقود ہو جاتا ہے۔ بحران ایک خاص نقطے سے گزرنے کے بعد ایسی ہمہ گیر خرابی میں ڈھل جاتا ہے جہاں زوال کے آگے بند باندھنا مم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جبر کی سائنس اور مزمل گھڑی ساز کی ماں

    قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو گیا تو بھٹو صاحب کا انقلاب نمودار ہوا۔ کچھ ایسا ہی انقلاب تھا، جیسی ان دنوں تبدیلی آئی ہے۔ طفلان گلی کوچہ کا ہنگامہ بھی مانوس ہے اور پس پردہ کھیل بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ایک فرق البتہ تب موجود تھا۔ بھٹو صاحب تاریخ کے سنجیدہ طالب علم تھے۔ عصر حاضر [..]مزید پڑھیں

  • عمران حکومت اور آرتھر کوئسلر کی فراموش شدہ کتاب

    الحمدللہ! آج یکم جولائی ہے، نئے مالی سال کا پہلا دن۔ قومی اسمبلی نے وسیع تر قومی مفاد پر مکمل عبور رکھنے والی دانشمند قیادت کی نفیس، ماہرانہ اور فیصلہ کن رہنمائی میں جو بجٹ منظور کیا ہے، وہ آج سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ اہل پاکستان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، خارجی اور داخلی صو� [..]مزید پڑھیں

  • کیا دو قومی نظریہ ختم ہو گیا؟

    موضوع ایسا سنگین ہے کہ فیض صاحب کے دل آویز، نرم خو، ملال انگیز لہجے سے بات نہیں بنے گی۔ فیض صاحب نے گردش لیل و نہار کی کٹھنائیوں کے لئے ضبط حال کا جو نسخہ اختیار کیا تھا، اس کا خمیر علم، ایقان، ریاضت اور نگہ دور رس سے اٹھا تھا۔ دھوپ اور سویرے کی ایسی راس رچانا فقط آرزو کی بات نہی [..]مزید پڑھیں

  • مجھے فحاشی سے گھن آتی ہے

    دیکھیے، چشم فلک نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ درویش جیسا فاسق فرتوت اور فاجر کہنہ سال فحاشی کے خلاف قلم اٹھائے۔  ثم العجب کہ ایسی بستی میں جہاں بزعم خود فحاشی سے نبرد آزما اہل حق کا ایک لشکر جرار بفضل تعالیٰ ہمارے درمیان نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ اس کے نعرہ ہائے خارا شگاف سے کان � [..]مزید پڑھیں

  • ہماری ترقی کے راستے میں حائل تین رکاوٹیں

    ویلہم رائخ نے ایک مزے کی کتاب لکھی تھی، ’فاشزم کی اجتماعی نفسیات‘ ۔ 1933 میں شائع ہونے والی یہ کتاب بظاہر فاشزم کے خلاف فکری بنیادیں فراہم کرتی ہے لیکن اس کتاب کا ایک اہم حصہ نچلے متوسط طبقے کی نفسیات، خاص طور پر متوسط طبقے کی نجی اقدار اور سیاسی ترجیحات کے مابین تعلق بیان ک� [..]مزید پڑھیں