وجاہت مسعود

  • جبر کی سائنس اور مزمل گھڑی ساز کی ماں

    قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو گیا تو بھٹو صاحب کا انقلاب نمودار ہوا۔ کچھ ایسا ہی انقلاب تھا، جیسی ان دنوں تبدیلی آئی ہے۔ طفلان گلی کوچہ کا ہنگامہ بھی مانوس ہے اور پس پردہ کھیل بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ایک فرق البتہ تب موجود تھا۔ بھٹو صاحب تاریخ کے سنجیدہ طالب علم تھے۔ عصر حاضر [..]مزید پڑھیں

  • عمران حکومت اور آرتھر کوئسلر کی فراموش شدہ کتاب

    الحمدللہ! آج یکم جولائی ہے، نئے مالی سال کا پہلا دن۔ قومی اسمبلی نے وسیع تر قومی مفاد پر مکمل عبور رکھنے والی دانشمند قیادت کی نفیس، ماہرانہ اور فیصلہ کن رہنمائی میں جو بجٹ منظور کیا ہے، وہ آج سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ اہل پاکستان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، خارجی اور داخلی صو� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کیا دو قومی نظریہ ختم ہو گیا؟

    موضوع ایسا سنگین ہے کہ فیض صاحب کے دل آویز، نرم خو، ملال انگیز لہجے سے بات نہیں بنے گی۔ فیض صاحب نے گردش لیل و نہار کی کٹھنائیوں کے لئے ضبط حال کا جو نسخہ اختیار کیا تھا، اس کا خمیر علم، ایقان، ریاضت اور نگہ دور رس سے اٹھا تھا۔ دھوپ اور سویرے کی ایسی راس رچانا فقط آرزو کی بات نہی [..]مزید پڑھیں

  • مجھے فحاشی سے گھن آتی ہے

    دیکھیے، چشم فلک نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ درویش جیسا فاسق فرتوت اور فاجر کہنہ سال فحاشی کے خلاف قلم اٹھائے۔  ثم العجب کہ ایسی بستی میں جہاں بزعم خود فحاشی سے نبرد آزما اہل حق کا ایک لشکر جرار بفضل تعالیٰ ہمارے درمیان نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ اس کے نعرہ ہائے خارا شگاف سے کان � [..]مزید پڑھیں

  • ہماری ترقی کے راستے میں حائل تین رکاوٹیں

    ویلہم رائخ نے ایک مزے کی کتاب لکھی تھی، ’فاشزم کی اجتماعی نفسیات‘ ۔ 1933 میں شائع ہونے والی یہ کتاب بظاہر فاشزم کے خلاف فکری بنیادیں فراہم کرتی ہے لیکن اس کتاب کا ایک اہم حصہ نچلے متوسط طبقے کی نفسیات، خاص طور پر متوسط طبقے کی نجی اقدار اور سیاسی ترجیحات کے مابین تعلق بیان ک� [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان کا حقیقی دشمن کون ہے؟

    پاکستان 70 برس سے سیاسی افراتفری کا شکار ہے۔ آزادی کے بعد پہلے آٹھ برس میں 22 صوبائی حکومتیں برطرف کی گئیں یا انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ کسی ایک صوبائی حکومت کے خاتمے میں عدم اعتماد کا دستوری طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ اس دوران پانچ حکومتیں مشرقی بنگال اور آٹھ حکوم [..]مزید پڑھیں

  • خوشیوں کے باغ سے بوش کے جہنم تک

    وقفہ عمر کا وہ حصہ آن لگا ہے جہاں حیرت آنجہانی، خبر ناگہانی اور دل اوراقِ خزانی ہو جاتے ہیں۔ انور سجاد کے رخصت ہونے کی اطلاع ایسے پہنچی جیسے اجل دیدہ قیدیوں کو خوشیوں کے اس باغ کی جھلک دکھائی دے جس کی کھوج میں نکلنے والے پندرہویں صدی کے ڈچ مصور بوش کے جہنم میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ [..]مزید پڑھیں

  • نکلنا درویش کا بستی سے اور ملنا ایک گیانی سے

    دیس میں عید کا روز تھا۔ ہلال عید کی بے معنی بحث جاری تھی، غریب کا آٹا گیلا تھا، زور آور کی کمان چڑھی تھی، قیدی بندی خانوں میں تھے اور نقال رنگ رنگ کا بہروپ دھارے راج سنگھاسن پر رونق دیتے تھے۔ پرجا روٹی کے ٹکڑے کی فکر میں تھی اور زورآور گلی کوچوں میں سنکھ پھونکتے تھے۔ اللہ اللہ! � [..]مزید پڑھیں