وجاہت مسعود

  • صد افسوس! غیرت بھی لبرل ہو گئی

    2018 کا پہلا دن ہے۔ نئے سال کی مبارک باد کے لین دین سے اب تک شاید آپ بھی اکتا چکے ہوں۔ مجھے نئے سال کی مبارک باد دینے سے معذور سمجھا جائے۔ مجھے تو یہ برس غالب خستہ حال کے دروازے پہ لگی پاڑ جیسا وحشت ناک معلوم ہوتا ہے۔ ہوا کے دباؤ میں کمی بیشی، مقامی موسمی حالات اور عالمی صورت حال کے � [..]مزید پڑھیں

  • ذات پات بدترین نسل پرستی ہے

    انسانی حقوق کی تعلیم کا کام کرتے ہوئے یہ تجربہ ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقدار اور معاشرتی پسماندگی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، شدت اور درجہ بندی میں کوئی فرق نہیں۔ تشدد کی ثقافت پاکستان کے ہر منطقے اور ہر گروہ میں موجود ہے۔ اپنے سے مختلف کو غلط اور کمتر سمجھنے کا رویہ عام ہ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • رانی بی بی ٹروتھ کمیشن مانگتی ہے

    دسمبر کے اس ہفتے میں دھند کا راج ہوتا تھا۔ ہوائی جہاز کی پروازیں منسوخ، شاہراہیں مسدود، راستہ مانگنے والی آنکھ دھند کی دبیز چادر سے ٹکرا کے پلٹ آتی تھی۔ اس برس مطلع صاف ہے۔ وجہ یہ کہ اقتدار کے ایوانوں سے ایسی اچھی خبریں آئی ہیں کہ کہرا چھٹ گیا ہے۔ 16 دسمبر کو محترم چیف جسٹس لاہور [..]مزید پڑھیں

  • بھوتوں کے سائے طویل ہو رہے ہیں

    بھٹو صاحب کی حس مزاح تیکھی تھی۔ خاص طور پر انگریزی میں سطوت بیان سے کام لیتے تھے۔ اس پر حافظہ غضب کا پایا تھا۔ لاہور کے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ ایک جملہ لڑھکا دیا، ’میں بھوتوں کے سائے سے بھی پرے کی بات کر رہا ہوں‘۔ پاکستان ٹائمز کے صحافی خالد حسن م [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت : ٹریک ٹو آپشن کی ضرورت

    عزیزان من 2017 کا برس بھی کنارے آن لگا۔ یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزری ہے۔ جوں توں شام گزاری لیکن دن کو سوا بے حال ہوئے۔ ہمارے بعد آنے والے مڑ کر اس برس کی تقویم کھولیں گے تو کیا دیکھیں گے؟ اسلام آباد کا دھرنا ریاست کو بری طرح کھدیڑنے کے بعد اخبارات کے صفحہ اول سے غائب ہو گیا۔ لعل بد [..]مزید پڑھیں

  • گوتم بدھ، کچھوا اور ڈاکٹر دھماکہ

    انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا روح رواں کہیے ، قومی ہیرو قرار دیجئے یا نسیم حجازی کے ناولوں سے کشید کردہ اسلامی ہیرو۔ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان مہاتما بدھ کی حکایات کا اساطیری کچھوا ہیں۔ کچھوے میاں سے بار بار کہا جاتا ہے کہ سمندر کے پار اترنا ہے تو چھڑی کو منہ میں دبائے ر� [..]مزید پڑھیں

  • مارشل لاء کس نے بٹھایا، دھرنا کس نے اٹھایا

    جنرل ضیاالحق نے مارچ 1985 میں غیر جماعتی انتخابات منعقد کروائے۔ جنرل ضیاالحق زبردست سیاسی ذہن رکھتے تھے۔ دستوری قانون کی تاریخ میں بھی مرحوم جنرل صاحب کا مقام مسلمہ ہے۔ جنرل صاحب اسلامی ریفرینڈم اور غیر جماعتی انتخابات منعقد کرواتے تھے۔ جنرل صاحب کو جمہوریت کی نام لیوا سیاسی ج [..]مزید پڑھیں

  • اسے کہنا، دسمبر آ گیا ہے

    لفظ تو یہیں کہیں خوار و زبوں پھرتا ہے۔ پھر ایک شاعر آتا ہے۔ وقت کی دھول میں سرگرداں، خلق کے قدموں میں پامال لفظ کو محبت سے اٹھاتا ہے، اسے جھاڑ پونچھ کر تجربے کی خدوخال بخشتا ہے، کیفیت کے سیاق و سباق میں رکھ دیتا ہے۔ لفظ شاعر کی سطروں میں سج جائے تو جانو، سپھل ہو گیا۔ شاعر لفظ کو ز� [..]مزید پڑھیں