وجاہت مسعود

  • خاموش! عدالت جاری ہے

    1995 کا موسم سرما تھا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت ڈانواں ڈول تھی۔ اخبارات میں کرپشن کی کہانیاں چھپ رہی تھیں۔ شاہد حامد اور بیگم عابدہ حسین کے لب و لہجے کے ہر زیر و بم پر سیاسی منڈی میں بھاؤ چڑھتے اور گرتے تھے۔ 1993 میں نااہل قرار پانے والے میاں نواز شریف دیانت دار اور شفاف ہو چکے تھے۔ 58 ٹو [..]مزید پڑھیں

  • دہشت اور فیصلے کا انتظار

    پانامہ کی تمثیل اپنے آخری مراحل میں ہے۔ جو حقائق معلوم کیے جا سکتے تھے، کر لیے گئے۔ جو دلائل دیے جا سکتے تھے، دے دیے گئے۔ اس مرحلے پر کرپشن اور احتساب کی پندرہ مہینے پر محیط جگل بندی کو دہرانے سے کچھ حاصل نہیں۔ قیاس آرائیوں سے بہتر ہے کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ پہلے بھ [..]مزید پڑھیں

  • سر، عوام کی طاقت آئین کی بالادستی میں ہے

    مجھے اپنے ہم عصر دوستوں پر بہت رشک آتا ہے، ان کے تخیل کی پرواز پر نظر کرتا ہوں تو سر دھنتا ہوں۔ بیان کی روانی پر توجہ کرتا ہوں تو بھونچکا رہ جاتا ہوں۔ خاص طور پر اعلیٰ عسکری مناصب پر فائز صاحبان پروقار کی خوبیاں بیان کرنے میں ہمارے منتخب ہائے روزگار مہربانوں نے ایسے ایسے مضامین � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فرد جرم نامکمل ہے….

    برادر عزیز کم عمر ہیں۔ انہیں وبا، قحط، جنگ اور آئین میں تعطل کا کم ہی تجربہ ہے۔ دعا ہے کہ برادر عزیز کو مدت العمر ان آلام سے واسطہ نہ پڑے۔ چھوٹے بچوں کے سے جوش و خروش میں عزیزم نے نہ صرف یہ کہ وزیر اعظم کے جرائم کی فہرست گنوا دی ہے بلکہ بزعم خود ان کے جرائم کی درجہ بندی کرتے ہوئے ام [..]مزید پڑھیں

  • کوا اندھیری رات میں شب بھر اڑا کیا

    ہم اہل پنجاب کا شین قاف درست نہیں ہوتا۔ حروف پر مبنی زبانوں میں اصوات کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بچہ والدین اور ارد گرد کے افراد سے خود بخود آوازیں سیکھ لیتا ہے۔ متعلقہ منطقے میں جو آوازیں موجود نہیں ہوتیں ، ان کی تحصیل کار دارد ہوتی ہیں۔ یہ سامنے کی بات تھی جسے عرب و عجم کا جھگڑا ب� [..]مزید پڑھیں

  • محصور شہر سے لکھی احتجاجی عرض داشت

    یہ عجیب محاصرہ ہے۔ فصیل سے باہر کوئی نہیں ہے۔ سب فریق شہر پناہ کے اندر مقیم ہیں۔ اہل شہر خوف کی پناہ گاہوں میں سر چھپائے بیٹھے ہیں۔ قبرستانوں کو جانے والے راستوں پر گھاس کیا اگتی، دھول تک بیٹھنے نہیں پاتی۔ گلی میں کسی کے قدموں کی چاپ نہیں۔ ہاٹ بازار سب کھلے ہیں، مٹھائی کی دکانوں [..]مزید پڑھیں

  • بختاور اور آصفہ بھٹو نے پاکستان کی لاج رکھ لی

    استاد محترم فرمایا کرتے ہیں کہ ستر برس سے پاکستان کا سیاسی مکالمہ ایک ہی نقطے کا اسیر ہے ۔ ہمیں عورتوں کے حقوق اور آزادی سے خوف آتا ہے۔ استاد محترم سے اختلاف کی جسارت ممکن نہیں لیکن یہ قصہ اگست 1947 میں شروع نہیں ہوا ۔ امتیاز علی تاج کے والد محترم مولوی ممتاز علی سرسید احمد خان کے [..]مزید پڑھیں

  • سچی سرکار کا مفروضہ اور زبان کا کچا پن

    ایک ہی روز میں صبح کے گھنٹوں میں پیمرا نے ایک طوطی خوش بیاں کی ٹیلی ویژن سکرین پر رونمائی بین کر دی۔ الزام غیر محتاط گفتگو، توہین آمیز لب و لہجہ اور کھلی اشتعال انگیزی۔ اسی روز سہ پہر کو قومی اسمبلی میں دو جماعتوں کے ارکان گتھم گتھا ہو گئے۔ لات، گھونسے کا دور چلا ۔ گالی گفتار میں [..]مزید پڑھیں

  • بیانیے کی جنگ تو اب شروع ہوئی ہے

    برادرم یاسر پیرزادہ کی کتاب ’بیانیے کی جنگ ‘ چند ماہ قبل شائع ہوئی۔ یہ کتاب ان کالموں کا مجموعہ ہے جو آپریشن ضرب عضب سے پہلے کے ان تاریک برسوں میں لکھے گئے، جب پاکستان میں رہنے والے دن رات دھماکوں کی زد میں تھے۔ ہوا میں بارود کی بو ٹھہر گئی تھی۔ یاسر پیرزادہ ہمارے ان قلم کا [..]مزید پڑھیں