وجاہت مسعود

  • پھانسی، ڈنڈے اور تھپڑ کی ثقافت

    2018 کا برس تھا۔ سیاسی بندوبست کی کیفیت محمد حسن عسکری کی اس بڑھیا جیسی تھی جس نے کہا تھا۔ ’ارے بھائی، پاکستان کیا ہے۔ بس مسلمانوں نے اپنے رہنے کے لیے کچا گھر بنا لیا ہے‘ ۔ یہ بڑھیا اگر جیتی رہتی تو دیکھ لیتی کہ اس کچے گھر کے بیچ دیوار اٹھا کردو مکان بنے۔ ہمارے حصے میں تو اتن [..]مزید پڑھیں

  • کھرپا بہادر اور فراموش آباد کے اچکے

    جس زبان کے بولنے اور پڑھنے والوں نے تصدق حسین خالد کی نظم، چراغ حسن حسرت کی نثر اور رفیق حسین کے افسانے فراموش کر رکھے ہوں، وہاں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عظیم بیگ چغتائی ایک گمنام نثر نگار ہے۔ محض اتفاق ہے کہ 1895 میں پیدا ہونے والے عظیم بیگ 1941 میں رخصت ہوئے تو ان کی بہن عصمت چغتا� [..]مزید پڑھیں

  • دیسی ٹوٹکے اور ناف کا سرطان

    اپنا دل بہلانے کو بھلے کوئی بھی خود کو افلاطون قرار دے سکتا ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک کو اپنے علم کی حدود اور لاعلمی کی وسعت معلوم ہے۔ رعونت ایک حنوط شدہ پرندہ ہے جو پرواز تو کیا، اڑان بھرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اعترافِ عجز میں بہتری کا امکان موجود رہتا ہے جو غرور کے دھندلکے میں مس [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہمارا سیاسی شعور اور تیری یاد

    صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے ا [..]مزید پڑھیں

  • لاہور کی چھاؤں کے لئے ایک دعا

    ہفتے کی سہ پہر لاہور میں ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ شیر خان راستوں کے انتخاب میں صوبائی خودمختاری کے قائل ہیں۔ گورنمنٹ کالج جانا تھا۔ فیروزپور روڈ سے گزرتے تو قریب رہتا۔ گاڑیوں کے ہجوم میں رینگتے ہوئے چونک کر پوچھا کہ ہم کہاں سے گزر رہے ہیں۔ جواب ملا، ’ چیئرنگ کراس پار کر ر [..]مزید پڑھیں

  • لگائیے پیکا!

    آپ گھبرائیے نہیں۔ میری کیا مجال کہ پیکا جیسے آنے پائی سے لیس، نکتہ رس قانون کو یوں سربازار للکاروں۔ درویش بہادر صحافی بھی نہیں اور وفاقی وزیر احسن اقبال تک رسائی بھی نہیں کہ سرکار دربار کے کان میں ٹھنڈی اور گرم پھونکیں مار ا کروں ۔ یہ کم نصیب تو ادب اور تاریخ کا طالب علم تھا۔ د [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ کا کنارہ اور خوابوں کی کاشت کاری

    تمام آبی دھاروں کی طرح تاریخ کے بھی دو کنارے ہوتے ہیں۔ سیاسی شعور جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وقت کے کس نقطے پر ہم نے تاریخ کے دریا کے کس کنارے کا انتخاب کیا۔ یہ رائے لمحہ موجود کے سیاسی، معاشی اور تمدنی تضادات کی روشنی میں قائم کی جاتی ہے لیکن اس رائے کے درست یا غلط ہونے کی ذمہ دار� [..]مزید پڑھیں

  • سیاست اور عوام کے لیے دال روٹی کا خواب

    گزشتہ صدی کے آخری برس تھے۔ سہ پہر کے وقت اتفاق ہسپتال کے بڑے دروازے پر کھڑا تھا۔ ہسپتال پہنچنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ خود اپنے پر یا کسی عزیز پر کوئی جسمانی افتاد آ پڑی ہے۔ دنیا میں جینے کے لیے آپ کے نیاز مند نے بھی مضبوط اعصاب کا ایک مکھوٹا اوڑھ رکھا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جذباتی در و ب [..]مزید پڑھیں

  • خوئے غلامی میں پختہ ہوئے 25 کروڑ

    اقبال کا تیسرا مجموعہ کلام ’ضرب کلیم‘ 1936 میں شائع ہوا۔ اقبال کے شعری خزانے میں تخیل کے اعتبار سے ’جاوید نامہ‘ اور اردو غزل کی رفعت میں ’بال جبریل‘ کا جواب نہیں۔ ضرب کلیم میں اقبال نے ذیلی عنوان ہی میں دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ یہ گزشتہ صدی کی تاریخ کے تش [..]مزید پڑھیں

  • نعرے کی خلیج اور مکالمے کا احترام

    دوست شکایت کرتے ہیں کہ درویش کی تحریر پڑھنے کے لیے لغت کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعد ازاں سر پر روغن بادام سے مالش کروانا پڑتی ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ احباب باقاعدہ کڑھے ہوئے عالم ہیں۔ زبان کا آسان یا مشکل ہونا ان کا مسئلہ نہیں۔ البتہ کبھی کبھار کوئی رائے توسن طبع پر گراں گزر� [..]مزید پڑھیں