عوامی طاقت کا سراب
طاقت صرف اسی کے پاس ہوتی ہے جو ’ طاقتور‘ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی اشرافیہ نے اسی بیانیے کو قبول کرلیا اور جدوجہد کا راستہ ترک کردیا۔ پہلے طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے تھے اب یہ محض ایک مفروضہ بن کے رہ گیا ہے ورنہ شاید ہمارے مقبول سیاست دان ڈیل کرتے اور نہ ہی این آر ا [..]مزید پڑھیں