سہیل وڑائچ

  • پنجاب پر اعتراضات؟

    افراط و تفریط کی اس دنیا میں، مہذب انسانیت کا یہ طےشدہ اصول ہے کہ اپنےوطن، اپنی زبان ، قبیلے یا اپنی روایات و تاریخ سے محبت ہونا فطری امر ہے۔ البتہ اپنی اس محبت کی وجہ سے کسی دوسرے کے وطن، زبان، قبیلے، روایات اور تاریخ کو حقیر سمجھنا تعصب کہلاتا ہے۔ ہم سب سے پہلے تو انسان ہیں ا� [..]مزید پڑھیں

  • مذاکرات: نیک شگون

    سیاست اور جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہونا معمول کی خبر ہے مگر پاکستان کی مسموم سیاسی فضا میں یہ تازہ ہوا کا جھونکا اور ایک نیک شگون ہے۔ ہر وہ شخص جو اس ملک میں سیاسی و معاشی استحکام اور جمہوری روایات کا داعی ہے اسے اس اقدام پر لازماً خوش ہونا چاہئے۔ آئین پاکستا� [..]مزید پڑھیں

  • کُکّڑ دی لَت!

    پنجابی دسترخوان پر ککڑ دی لت یعنی مرغ کی ٹانگ سب سے اہم آدمی کو ملتی ہے۔ اگر کسی مہمان کی دعوت ہے تو اسے ککڑ دی لت پیش کی جائےگی۔ میزبان اپنے خلوص اور ایثار کے ثبوت کیلئےککڑ دی لت مہمان کو دے دیتا ہے۔ گھر پرمرغ پکا ہے اور کوئی مہمان مدعو نہیں تو ککڑ دی لت گھر کے سربراہ کے حصے می [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جنہاں بالے دیوے بجھے!

    آج فخر و انبساط اور مسرت کا دن ہے۔ چہار دانگ ِ عالم میں میرے پاکستان کا چرچا ہے۔ ہر کوئی حیران ہے کہ کل کا دہشت گرد، ڈیفالٹ زدہ اور کمزور ملک عالمی بساط پر اس قدر اہم تعمیری اور مثبت کردار کیسے ادا کرسکتا ہے؟ پرائے حیران ہیں تو بات سمجھ آتی ہے، اپنے بھی پریشان ہوں تو سمجھ نہی� [..]مزید پڑھیں

  • سورج اب مغرب سے طلوع ہوگا!

    ابتدائے آفرینش سے سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے مگر اب مغرب سے طلوع ہوگا۔ ماضی میں حکومتیں، وزارتیں، بادشاہتیں اور حکمرانیاں زوال کا شکار ہوتی رہیں مگر صدیوں سے لکھی تاریخ اور صحافت زندہ رہی۔ تاہم اب پہیہ الٹا چلے گا۔ اب وزارتیں اور حکومتیں تا ابد رہیں گی صحافت ریٹائر ہوگی۔ صح� [..]مزید پڑھیں

  • جواب دہی سے ’جواب‘ ہے!

    بادشاہی اور نمائندہ حکومت میں فرق جواب دہی کا ہوتا ہے۔ بادشاہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا مگر نمائندہ حکومت کی بنیاد ہی عوام اور منتخب اداروں کی طرف سے جوابدہی پررکھی گئی ہے ۔ ہندوستان میں برطانوی راج سے آزادی کی تحریک چلی تو پہلا مطالبہ ہی نمائندہ یا ذمہ دار حکومت کا تھا چنانچہ [..]مزید پڑھیں

  • مجھ سے بھول ہوگئی؟

    بھول چوک تو مذہب میں بھی معاف کردی جاتی ہے مگر حکومت کے بند کواڑ مذہب کےاونچے دروازوں سے بھی بلند تر اور مقفل ہوتے ہیں۔ وہاں بھول چوک بھی ناقابل معافی ہوتی ہے مگر پھر بھی یہ بندہ عاصی عرف جھوٹا صحافی معذرت کاخواست گار ہے۔ گزشتہ کالم ’خبردار ، ہوشیار، تیار‘ میں اس نگوڑے ص [..]مزید پڑھیں

  • خبردار ، ہوشیار، تیار!

    ہے تو یہ سراسر بدشگونی اور رنگ میں بھنگ مگر نگوڑا صحافی قبل از وقت مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی پیش گوئی نہ کرے تو کیا کرے؟ گھوڑا گھاس نہ کھائے توکیا کھائے؟ نگوڑے صحافی کی چھٹی حس کے الارم بجنا شروع ہوگئے ہیں۔ بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اگرچہ حکومت اس وقت اپنےعروج [..]مزید پڑھیں

  • ولدیت کا مسئلہ

    ہائبرڈ نظام کی خوبیوں پر دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس سے سیاستدانوں اور مقتدرہ کی کشمکش اور سازشوں، اسکینڈلوں سے وقتی ریلیف ملا ہوا ہے۔ اگر اس نظام کے مثبت پہلو پر بات کی جائے تو یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اس نظام میں سیاسی اور مقتدر اسٹیک ہولڈرز ذمہ داری، حکمرانی اور [..]مزید پڑھیں

  • م مرچ، ش شلجم اور ب باتھو

    سیاست کے خوانِ نعمت پر کئی سبزیاں سجی ہیں۔ م مرچ اپنی بہار دکھارہی ہے، ش شلجم کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے اور ب باتھو بھی تلخ وشیریں رنگ دکھارہا ہے۔ ہرسبزی خود کو ترکاری کا بادشاہ یا ملکہ سمجھتی ہے مگر فیصلہ تو ترکاری پکانے والے شیف نے کرنا ہے کہ اسے کون سی سبزی کو اقتدار کے گوشت میں [..]مزید پڑھیں