سہیل وڑائچ

  • وہ صبح کبھی تو آئے گی

    عمر بیتی جا رہی ہے۔ ہر حکومت کے بدلنے پر ہم خواب دیکھتے ہیں کہ وہ صبح اب آ جائے گی جب یہ ریاست سکیورٹی کو ترجیح دینے کی بجائے عوامی فلاح پر توجہ دے گی۔ ہر جمہوری حکومت سے توقع باندھتے ہیں کہ اب آئین کی سربلندی قائم ہوگی جمہوریت کی بہتری کی طرف توجہ ہوگی، میڈیا آزاد ہوگا، عدل� [..]مزید پڑھیں

  • ڈیڈ لاک کی چابی!

    یہ مرچوں کا اثر ہے، ہمارا ڈی این اے مختلف ہے یا پھر ہمارا خون کچھ زیادہ ہی کھولتا ہے۔ دنیا کے اکثر ملکوں میں لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں کچھ غلط ہو جائے تو ایک دوسرے کو سوری کہہ کر غلطی کوبھول جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ ہر وقت ناک بھوں چڑھائے رہتے ہیں، ہلکی سی بات ہو [..]مزید پڑھیں

  • ذرا خوش ہولیں!

    معاشرے جب بیمار ہوتے ہیں تو ان میں قنوطیت، یاسیت اور ناامیدی چھا جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ماحول بن چکا ہے۔ کوئی اچھی خبر آئے تو ہم سب اس کے اندر سے منفی پہلو تلاش کرکے دل کو تسلی دیتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کچھ اچھا ہو ہی نہیں سکتا۔ ہمارا حال اس بیمار جیسا ہے جو اپنے زخموں � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • میں کسان ہوں!

    میں زرعی ملک کا ایک بے نوا کسان ہوں۔ یہاں صنعت کاروں، کپاس ملز اونرز، شوگر ملز اونرز ، تاجروں اور آڑھتیوں سب کی آواز ہے، سب کی تنظیمیں ہیں ،سب کے پریشر گروپس ہیں، سب حکومتوں کو اپنے مطالبوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ سب کی لابیاں ہیں، سب نے مافیاز بنا رکھے ہی [..]مزید پڑھیں

  • لومڑ اور بارہ سنگھا

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سندربن کے جنگلوں میں خاکی شیروں کی حکومت تھی، اصل طاقت اور اختیار شیروں کے پاس تھا۔ کبھی شیر خود جنگل کو براہ راست چلاتے تھے اور کبھی وہ جنگل کے جانوروں کی منتخب حکومت کو سامنے کر دیتے تھے۔ کئی دہائیوں سے شیروں کا یہ گروپ حکومت کرتے کرتے تجربہ کار ہو چکا ت [..]مزید پڑھیں

  • میں بیمار ہوں!

    میرے سارے دوست دشمن متفق ہیں کہ میں بیمار ہوں مگر میں اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔ پہلے میرے دشمنوں نے کہنا شروع کیا تھا کہ میں بیمار ہوں، اب آہستہ آہستہ سارے دوست بھی مجھے علاج کا مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ میری صحت کی بحالی کیلئے مجھے نسخے بھی تجویز کرتے رہتے ہیں مگر مجھے ایس [..]مزید پڑھیں

  • جنگ میں سب کچھ جائز نہیں!

    محاورہ تو یہ ہےکہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے مگر صدیوں کے انسانی شعور  نے طے کیا ہے کہ جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں، اس کی حدود وقیود بھی متعین ہیں۔ اسی طرح محبت کے بھی پیمانے ہیں جن کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یار لوگوں نے اس محاورے کا فائدہ اٹھا کر کہنا شروع کردیا ہے کہ جنگ اور س [..]مزید پڑھیں

  • وہ وزیر اعظم ہوتا تو….

    میں ایک احمق، دیوانہ اور خوابوں کی دنیا میں رہنے والا شخص ہوں۔ زمانہ شناسی سے قطعی عاری۔ طاقت کی بجلیوں اور سیاست کی مجبوریوں کو سمجھ نہیں پاتا۔ دیوانے کے خواب تو مشہور ہیں، اس دیوانے نےبھی ایک خواب دیکھاتھا۔ خواب میں الیکشن کا میدان سجا ہوا تھا ’’وہ‘‘ فاتحانہ لند [..]مزید پڑھیں

  • تیرے جج یا میرے جج؟

    مسئلہ سیاسی ہو یا عدالتی، صحافتی ہو یا انتظامی، ہمارے ہاں تقسیم اس قدر زیادہ ہے کہ فوراً یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ یہ تیرے جج ہیں یا میرے جج ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں نے ریاستی مداخلت پر احتجاج کیا تو ایک بار پھر تضادستان کی تقسیم واضح ہو گئی۔ یہ جائزہ لیا جانے لگا کہ [..]مزید پڑھیں

  • ٹوڈرمل سے نئے وزیر خزانہ تک!

    مغلِ اعظم ،جلال الدین اکبر بادشاہ کے زمانے میں ہندوستان دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل تھا۔ اکبر کے والد نصیر الدین ہمایوں کے زمانے میں سلطنت کا نظام ابتر تھا۔ اکبر نے اپنے زمانے میں بہت سی اصلاحات کیں جن میں سے ایک راجہ ٹوڈرمل کو وزیر خانہ بنانا تھا۔ پنجاب کے شہر لاہور کا � [..]مزید پڑھیں