سہیل وڑائچ

  • ایسے نہیں چل سکتا!

    ابھی کوئی بھی نہیں بھولا ہوگا کہ کل تک باجوہ ڈاکٹرائن کا زور و شور تھا اس پر عملدرآمد ہوا پراجیکٹ عمران چلا پھر اس کی بساط الٹا دی گئی یعنی ڈاکٹرائن کے ذریعے جو ہوا اسے حرف غلط کی طرح مٹایا جا رہا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ  BBD ڈاکٹرائن شروع ہو چکا ہے۔ یہ ایک فوکسڈ ڈاکٹرائن ہ� [..]مزید پڑھیں

  • مصر کا انصاف

    یہ کہانی مصر کی ہے، وہاں کے ماضی کے فرعونوں کی اور آج کے آمروں کی۔ اس کہانی کا تضادستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ کہانی فرعونوں کے انصاف کی بھی ہے اور آج کے آمروں کے قوانین کی بھی۔ اس کہانی میں دنیا بھر کیلئےسبق پوشیدہ ہے۔ میں کل ہی مصر سے واپس آیا ہوں، قاہرہ کے پڑوس [..]مزید پڑھیں

  • ’ان‘ ججوں کا کچا چٹھا

    اِن ججوں کی کہانیاں بھی عجیب ہیں۔ می لارڈ شیخ عظمت سعید سے رانا ثنا اللہ نے خفیہ اور ذاتی ملاقات کی تو فرمانے لگے، ’دباؤ بہت ہے، نواز شریف سے کہیں کہ وزات عظمیٰ سے استعفا دے کر عدالت میں پیش ہوں‘۔ انہی دنوں ایک پراپرٹی ٹائیکون کے ذریعے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ’وہ‘ مختلف ہے؟

    اس کے سب ملنے والے کہتے ہیں کہ وہ ماضی کے سب لوگوں سے مختلف ہے۔ اخبار نویسوں کی اس تک براہ راست رسائی نہیں ہے۔ بالواسطہ طور پر اس کے ملنے والوں کے تاثرات ہم تک پہنچتے رہتے ہیں۔ ابھی تک اسے براہ راست ملنے اور سننے کا اتفاق نہیں ہوا ہے مگر صحافیانہ تجسس مجبور کرتا ہے کہ اس کے بارے م� [..]مزید پڑھیں

  • 6 سال یا 10 سال؟

    تضادستان کی خوشحالی اور مستقبل کے حوالے سے ان دنوں دو ماڈل سامنے آ رہے ہیں۔ ایک سیاسی ماڈل ہے جو ممکنہ طور پر بننے والی سیاسی حکومت کے لیڈروں کے ذہن میں ہے۔ یہ ماڈل دس سال کا ہے جس میں مقتدرہ اور وہ سیاسی جماعت دس سال مل کر چلیں گے کہ معاشی پالیسیوں پر طویل مدت کیلئے عمل پیرا ہ� [..]مزید پڑھیں

  • جسٹس منیر بنام قاضی القضاۃ!

    مکافات نگر اسٹیبلشمنٹ ججز کالونی مائی ڈیئر قاضی القضاۃ! السلام علیکم!آپ میرا خط دیکھ کر حیران تو ہوں گے کیونکہ میرا نہ تو آپ سے نظریاتی رشتہ ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی تعلق۔ میرے خط لکھنے کا مقصد آپ سے اپنے تجربات کو شیئر کرنا ہے۔ آج جس سے آپ گزر رہے ہیں، اسی سے میں بھی گزرا � [..]مزید پڑھیں

  • ایک بالکل فرضی مکالمہ!

    چودھری ریاست علی: یہ عدالتیں کیا کر رہی ہیں، 9 مئی کے کرداروں کو ریلیف دے رہی ہیں جس نے ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیا اس کے حق میں فیصلے کر رہی ہیں۔ قاضی عدالت علی: عدالتیں تمام فیصلے آئین کے اندر رہ کر رہی ہیں آئین کے اندر جو حقوق ہر شہری کو دیے گئے ہیں، وہی حقوق پی ٹی آئی کے � [..]مزید پڑھیں

  • ریاست معیشت اور سیاست

    کوئی مانے نہ مانے مگر سچ یہ ہے کہ ریاست کو سیاست سے زیادہ معیشت کی فکر ہے ۔بڑی مشکل سے ڈ الر کی اڑان پر قابو پایا گیا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں پھر سے اتار چڑھاؤ اور زندگی کی رمق نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ کوشش بھی نظر آ رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح بیرون ملک سے سرمایہ کاری لائی جائے تاکہ [..]مزید پڑھیں

  • سوتیلا کیا کرے؟

    تضادستان میں لاڈلے اور سوتیلے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی باؤ جی سوتیلے ہوا کرتے تھے آج لاڈلے ہیں۔ اسی طرح کھلاڑی ایک زمانے میں لاڈلے ہوا کرتے تھے آج کل سوتیلے ہیں۔ آصف زرداری دیر تک سوتیلے رہے، آج کل لاڈلے اور سوتیلے کے درمیان پتلی سی لکیر پر چل رہے ہیں۔ آیئے آج لاڈلوں � [..]مزید پڑھیں

  • الیکشن التوا کون چاہتا تھا؟

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح اور سخت احکامات کے بعد الیکشن کے التوا کی افواہیں، خواہشیں اور کوششیں دم توڑ گئی ہیں۔ اور اب سوائے مارشل لا کے نفاذ کے 8 فروری کے انتخابات میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ موجودہ عسکری قیادت مارشل لا یا ٹیک اوور کا کبھی خیال تک نہیں لائی اور کبھی کوئی ای [..]مزید پڑھیں