سہیل وڑائچ

  • ع لڑائی

    حروف تہجی کے ہر ہر لفظ کی اپنی اپنی اہمیت اور معنویت ہے، الف کی تو پوری کائنات پر چھتر چھایا ہے’’ اکو الف تیرے درکار‘‘۔ تضادستان میں مگر اس وقت ع بمقابلہ ع ہے ۔ اِدھر بھی ع اور اُدھر بھی ع ۔ بلکہ یک نہ شد، دو دو شد۔ لکیر کے آمنے سامنے دونوں طرف ایک ع نہیں بلکہ دو دو ع � [..]مزید پڑھیں

  • وائٹ ہاؤس کی مکھی

    یہ مکھیوں کی دنیا ہے، اس کا اپنا ایک نظام ہے مکھیاں پیغام سنتی بھی ہیں اور سناتی بھی ہیں۔ ان کی بھنبھناہٹ ہی ان کی زبان ہے۔ میں انہی مکھیوں میں سے ایک دیسی مکھی ہوں۔ تضادستان میں رہائش کی وجہ سے اندرونی سیاست سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اور عالمی سیاست کی خبر بھی لیتی رہتی ہوں۔ جس [..]مزید پڑھیں

  • حافظ ڈاکٹرائن!

    پاکستانی صحافت کیلئے کافی عرصہ سے ایک مسئلہ جو چیلنج کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے وہ ہے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی شخصیت، ان کے خیالات اور ان کے مزاج کا پتہ چلانا ۔ سچ تو یہ ہے کہ فی الحال صحافت اس معاملے کا کھوج لگانے میں ناکام ہے۔ جنرل عاصم منیر نہ تو جنرل باجوہ کی طرح رات کو � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • گم نام سالگرہ، دانشور اور بیانیہ

    مجید امجد نے کتنا ٹھیک لکھا تھا: میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا اداس شاعر کا یہ شعر اس روز بہت یاد آیا جب میں ایک گم نام سالگرہ میں شریک ہوا۔ لاہور کا سرسبز باغ جناح اس روز بھی گھنے درختوں اور اپنی تازگی کی شان دکھا رہا تھا۔ باغ [..]مزید پڑھیں

  • یہ واقعی نازک لمحہ ہے!

    تضادستان میں ہر دور کو نازک دور کہا اور سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے نازک دور کی اہمیت ہی ختم ہوگئی ہے۔ وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ اب واقعی ایک نازک لمحہ ہے، اس لمحے میں مستقبل کی سیاست طے ہونی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ملک کے اندر بڑےاور غلط فیصلے کمزور حکومتوں نے کئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہا [..]مزید پڑھیں

  • بلبل، پھول اور کانٹا

    تضادستان کے گلستان میں جنگ کے بعد سے بلبل، پھول اور کانٹے کی کارفرمائی زیادہ نمایاں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ 1947 سے لے کر اب تک پاکستان اور بھارت کی جتنی بھی چھوٹی بڑی جنگیں ہوئیں وہ نتیجہ خیز نہیں تھیں۔ بھارت دعویٰ کرتا کہ وہ جیت گیا ہے جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہوتاکہ ہم فاتح ہیں [..]مزید پڑھیں

  • مودی جی، رہیں گے یا جائیں گے؟

    جنگوں کے اثرات دیرپا اور دور رس ہوتے ہیں۔ 75سال سے زائد گزرنے کے باوجود جنگ عظیم دوئم کے اثرات ابھی تک یورپ میں موجود ہیں ۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے بھی سیاسی، سفارتی، معاشی اور دفاعی اثرات ہوں گے۔ ماضی کی پاک بھارت جنگوں کے سیاسی اثرات میں 1965 کی جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند میں شکست [..]مزید پڑھیں

  • مریم، بلاول اور عمران کے صاحبزادے!

    ناچیز ساٹھ کے پیٹے میں ہے۔ ایسے میں ’’چراغ ِآخرِ شب‘‘ ہونے کا احساس بڑھ جاتا ہے اور بار بار یہ سوچ آتی ہے کہ ہمارے پیارے ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ آنے والے دنوں میں تضادستان کے رنگ کیا ہوں گے؟ یہ ناچیز نجومی نہیں، نہ ہی اسے مستقبل کا اصلی حال معلوم ہے تاہم اندازے ا� [..]مزید پڑھیں

  • جنگ اور جنگل

    جنگل میں آئے روز جنگیں، لڑائی جھگڑے اور مقابلے ہوا کرتے تھے۔ انسان اسی لئے جنگلوں کو چھوڑ کر شہروں میں آ بسا کہ جنگوں سے نجات مل جائے مگر جنگوں نے آج تک انسانوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ انسان امن اور تہذیب کا خوگر ہو کر بھی کہیں کہیں جنگلی اور کہیں نہ کہیں جنگی ہے۔ ہند سندھ کے ج [..]مزید پڑھیں

  • میں بیمار ہوں!

    بیماریوں کو چھپانا ہمارا سماجی رویہ ہے مگر اس روایت کو توڑتے ہوئے میں سرعام اعتراف کرتا ہوں کہ میں بیمار ہوں۔ نہ صرف یہ کہ مجھے جسمانی عوارض لاحق ہیں بلکہ میں نفسیاتی بیماریوں کا بھی شکار ہوں۔ ہر پروفیشن کی مخصوص جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں ہوتی ہیں، ٹیکسٹائل مل کے مزدور کپ� [..]مزید پڑھیں