حامد میر

  • مزید حماقتیں

    اسکول کے زمانے میں شفیق الرحمان میرے پسندیدہ رائٹر تھے۔ میرے اسکول بیگ میں اُن کی کوئی نہ کوئی کتاب موجود رہتی۔ جب میں اُن کی کتاب پڑھ لیتا تو پھر وہی کتاب مختلف کلاس فیلوز میں گھومتی رہتی اور کچھ دن بعد میرے پاس واپس آجاتی۔ شفیق الرحمان صرف ایک مزاح نگار نہیں بلکہ ڈاکٹر بھی [..]مزید پڑھیں

  • چاچا جانی کا انجام

    جموں کے ایک مسلمان گھرانے میں جنم لینے والی ایک 95سالہ عورت کینیڈا کے ایک سکھ گھرانے میں اپنی موت کا انتظار کر رہی ہے۔ اس بزرگ عورت کی پاکستان سے محبت کے بارے میں پیر کو شائع ہونے والے کالم میں مہاراجہ پٹیالہ یادوندرا سنگھ کا بھی ذکر تھا، جس کے حکم پر پٹیالہ کی فوج نے جموں جا کر م� [..]مزید پڑھیں

  • ماتا جی کا پاکستان

    کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ عمران خان وزیراعظم تھے اور پاکستانی میڈیا میں اس ناچیز پر پابندی تھی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی مہربانی سے مجھے نہ صرف ٹی وی اسکرین سے غائب کر دیا گیا بلکہ پرنٹ میڈیا میں میرا کالم بھی بند تھا۔ میں نے واشنگٹن پوسٹ اور ڈی ڈبلیو ار [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پارلیمانی نظام کیسے ناکام ہوا؟

    کیا پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے؟ کیا پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام کے نفاذ میں ہے؟ یہ سوالات نئے نہیں ہیں۔ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 1956 کا آئین منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو ایک وفاقی پارلیمانی طرزِ حکومت سے چلایا جانا تھا۔ اڑھائی سال کے بع� [..]مزید پڑھیں

  • سنسر شپ کی ناکامی

    یہ ایک عام انسان کی کہانی ہے جو اپنے ایک لاپتہ دوست کو تلاش کرنے گھر سے نکلا تھا لیکن ہزاروں لاپتہ افراد کی کہانیاں ڈھونڈ لایا۔ جب ان کہانیوں نے ریاستی اداروں کے ظلم وستم کو بے نقاب کیا تو اس عام آدمی کو دہشت گردوں کا ساتھی اور دشمن کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ پھر انسانی حقوق کی [..]مزید پڑھیں

  • زوال کی نشانیاں

    پاکستان کے سیاسی منظر پر آج کل جو واقعات رونما ہو رہے ہیں، وہ باعث تشویش ہیں۔ حکومت اور اس کے اداروں کا سارا زور میڈیا مینجمنٹ پر ہے۔ صاحبانِ اختیار کا خیال ہے کہ اگر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو قابو کر لیا جائے تو ملکی حالات قابو میں آ جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر حکومت کے [..]مزید پڑھیں

  • شہدائے کشمیر کا واسطہ

    جموں وکشمیر کی سیاسی جدوجہد میں تین ایام بہت اہم ہیں۔ پہلا 23مارچ، دوسرا 13جولائی اور تیسرا 14 اگست۔ ان تین ایام کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے آئیے 21جولائی 1924 کو ریشم کے کارخانوں میں کام کرنے وا لے ہزاروں کشمیری مزدوروں کے سرینگر میں پرامن مظاہرے کا پس منظر سمجھتے ہیں۔ ان کارخانوں [..]مزید پڑھیں

  • ایک اور غزہ

    بیروت کی حمرا اسٹریٹ پر واقع کیفےیونس میں اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض نے اپنی مشہور نظم ’ایک نغمہ کربلائے بیروت کے نام‘ تخلیق کی۔ فیض احمد فیض 1979 سے 1982 تک بیروت میں مقیم تھے۔ وہ انگریزی، فرنچ اور عربی زبانوں میں شائع ہونے والے ایک ادبی جریدے ’لوٹس‘ کے ایڈیٹر تھے۔ [..]مزید پڑھیں

  • امن کیلئے نئے خطرات

    وہ بدحواس ہو چکا ہے۔ اُسے یقین نہیں آ رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کےساتھ امن معاہدےپر راضی ہو چکا ہے۔ وہ بار بار اپنے قریبی ساتھیوں سے پوچھ رہا ہے کہ اس امن معاہدے پر عملدرآمد کو کیسے روکا جائے لیکن اُس کے ساتھیوں کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ۔ اس بدحواس شخص کا نام بنیامین نیتن یاہ� [..]مزید پڑھیں

  • ’میں نے وزیراعظم نہیں بننا‘

    ایک روایتی سیاستدان اور وطن کی آزادی کیلئے لڑنے والے میں کیا فرق ہوتا ہے؟ یہ فرق سمجھنے کیلئے کشمیر کے دو کرداروں پر نظر ڈالئے۔ ایک کا نام فاروق عبداللہ ہے جو منافقانہ سیاست کا ایک چلتا پھرتا شاہکار ہے۔ دوسرا مقبول بٹ ہے جو دنیا بھر میں کشمیر کی تحریکِ آزادی کا استعارہ ہے۔ [..]مزید پڑھیں