حامد میر

  • جنوبی ایشیا میں کووڈ سے بھی خطرناک طبی مسئلہ

    اگر آپ اپنی صحت کی حفاظت کے لیے سگریٹ نوشی نہیں کرتے ہیں تو آپ بہت سمجھدار ہیں۔ لیکن اگر آپ سگریٹ نہیں پیتے اور آپ لاہور یا دہلی میں رہتے ہیں تو آپ روزانہ 10 سے 15 سگریٹ کے برابر دھواں اپنے پھیپھڑوں میں لے جا رہے ہیں۔  اس صورت میں، آپ عقلمند ہیں لیکن بدقسمت ہیں۔ ان شہروں میں سانس [..]مزید پڑھیں

  • اس شہر کو مرنے سے بچا لو

    اس شہر کو مرنے سے بچا لو۔ یہ ایک چھوٹا سا فقرہ تھا لیکن اس فقرے میں ایک شہر کی موت کی خبر چُھپی ہوئی تھی۔ طاہر ملک نے یہ فقرہ بولا تو میں نے غور سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ میں تصدیق کرنا چاہ رہا تھا کہ کیا وہ واقعی سنجیدہ ہے؟ طاہر ملک نے فقرہ دہراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجھے بار بار [..]مزید پڑھیں

  • ہوئے تم دوست جس کے

    جناب عمران خان کی حکومت کے وزراء کے ساتھ اتفاق کرنا آج کل خطرے سے خالی نہیں۔ اس خطرے کو سمجھنے لیے مرزا غالب کا ایک شعر پیش ہے: یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو غالب نے یہ شعر قریباً ڈیڑھ سو سال قبل کہا تھا لیکن آج کل یہ شعر عم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یہ وقت بھی گزر جائے گا

    پاکستان کے عام آدمی کی زندگی میں سختیاں بڑھتی جا رہی ہیں لیکن یہ عام آدمی آج کل پھر اُمید سے ہے۔ پیر کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے گیٹ نمبر ون سے لے کر کمیٹی روم نمبر سیون تک مجھے کئی سرکاری ملازمین اور افسر ملے۔ ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ میں اُس کی خواہش کو خبر بنا کر اُسے سن [..]مزید پڑھیں

  • بڑا دشمن بنا پھرتا ہے!

    یہ ایک سادہ سا سوال تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ بدھ کی دوپہر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی امین نے عمران خان کو مخاطب کر کے پوچھا تھا، ”مسٹر پرائم منسٹر! آپ مجرمان کو مذاکرات کے لیے ٹیبل پر لے آئے، کیا ایک بار پھر سرنڈر ڈاکومنٹ پر � [..]مزید پڑھیں

  • یورپ کیوں پریشان ہے؟

    بہت سال پہلے میں نے سوئٹزرلینڈ کے مشہور شہر ڈیووس میں اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کا انٹرویو کیا تھا۔ جنیوا میں فلسطینی لیڈر یاسر عرفات سے ملاقات کا موقع بھی ملا لیکن لوگانو کا نام نہیں سنا تھا۔ چند ماہ قبل مجھے لوگانو فیسٹیول میں شرکت کی دعوت ملی تو پہلی دفعہ لوگانو کے � [..]مزید پڑھیں

  • حقانی قبیلہ، فیک نیوز اور خان صاحب

    اکثر پاکستانیوں کا جواب کسی اخبار میں قابل اشاعت ہو گا، نہ ہی کسی ٹی وی چینل پر نشر کیا جا سکتا ہے البتہ سوشل میڈیا پر یہ جواب دیکھا جا سکتا ہے اور اسی لیے آج کل پاکستان کے ارباب اختیار ’فیک نیوز‘ کا سدباب کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ عمران خان، جو کبھی پاکستانی میڈیا کی آنکھ کا [..]مزید پڑھیں

  • نئے طالبان اور پرانے طالبان

    بیس سال میں ایک بچہ جوان ہو جاتا ہے اور جوان بوڑھا لیکن افغانستان وہیں کھڑا ہے، جہاں بیس سال پہلے تھا۔ مجھے یاد ہے کہ نومبر 2001 میں کابل کے علاقے وزیر اکبر خان میں اُسامہ بن لادن کا انٹرویو کر کے میں واپس طورخم کی طرف آ رہا تھا۔ کابل شہر کے باہر اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ کے قریب ای� [..]مزید پڑھیں

  • طالبان کی دو نسلوں سے میرے ذاتی رابطوں کی کہانی

    پچیس سال پہلے مجھے طالبان ملیشیا سے یہ کہہ کر متعارف کروایا گیا تھا کہ یہ لوگ افغانستان میں ”پائپ لائن پولیس“ کا کردار ادا کریں گے۔ تب طالبان سے میرے رابطے کا انتظام اس وقت کی پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کیا تھا جو طالبان کی حمایت کرنے پر اپنی حکومت پر میری تنقید سے [..]مزید پڑھیں

  • اشرف غنی مجھ سے کیوں ناراض ہوئے؟

    22 جون کو ڈی ڈبلیو اردو کے لیے میرا ایک کالم شائع ہوا، جس کا عنوان تھا، ’افغان طالبان پر پاکستان کا کتنا اثر ہے؟‘ اس کالم میں یہ خبر بریک کی گئی تھی کہ افغانستان کے صوبے لوگر کے ضلع محمد آغا کے گاؤں سرخاب میں اشرف غنی کے آبائی گھر پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے اور ان کے گھر پر ام [..]مزید پڑھیں