حامد میر

  • یہ کمپنی کیسے چلے گی؟

    سینیٹ آف پاکستان آج سے نہیں بلکہ مدتوں سے بدنام ہے۔ سالہا سال سے یہ تاثر موجود ہے کہ سینیٹ کا رُکن بننے کیلئے کچھ لوگ اپنی دولت کا استعمال کرتے ہیں اور اراکینِ اسمبلی کے ووٹ خرید کر پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے رکن بن جاتے ہیں۔  لیکن کیا پاکستان میں صرف اراکینِ اسمبلی ہی اپ� [..]مزید پڑھیں

  • دو سیاستدان، دو کہانیاں

    دو سیاستدان پاکستان کے دو مختلف چہروں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک کا نام پرویز رشید ہے۔ یہ وہ آدمی ہے جس نے طالب علمی کے زمانے میں پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے خلاف مزاحمت سے سیاست شروع کی۔ دوسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کے خلاف بھی پرویز رشید نے مزاحمت کی۔ تیسرے [..]مزید پڑھیں

  • ظالم کی کوئی قومیت نہیں ہوتی

    بلوچستان کی کچھ دُکھی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں فریادی بن کر اسلام آباد آئیں تاکہ وزیراعظم عمران خان تک اُن کی آواز پہنچ سکے۔ افسوس کہ عمران خان کی حکومت کے کچھ وزیروں نے ان دُکھی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی فریاد سننے کی بجائے ان کے سامنے پنجاب کی مظلومیت کا مقدمہ پیش کر دیا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کلامِ جج بزبانِ جج

    یہ ایک ایسی رنجش تھی جو نظر تو نہیں آتی تھی لیکن اس رنجش کے باعث کئی معزز جج صاحبان کی آپس میں بول چال بند تھی۔ اب اس رنجش کو ہماری تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ تاریخ کسی عام صحافی یا مصنف نے نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ ارشاد حسن خان نے لکھی ہے۔ سابق چیف [..]مزید پڑھیں

  • ایک تھی تحریک انصاف

    عمران خان کی حکومت اور اُن کی اپوزیشن دونوں ایک سراب ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ حکومت اور اپوزیشن میں سراب کہاں سے آ گیا؟ اُردو اخبارات و جرائد اور کتابوں کے قارئین کے لئے سراب کوئی نیا لفظ نہیں ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن کے کچھ انگلش میڈیم رہنماؤں کے لئے سراب کا مطلب سمجھنا م� [..]مزید پڑھیں

  • پشمینہ، شاہتوش اور کشمیر

    پاکستان میں ہر سال پانچ فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ اکثر پاکستانیوں کے لئے اِس دن کا مطلب یہ ہے کہ گھروں میں بیٹھ کر چھٹی مناؤ۔ کچھ پاکستانی یہ بھی جانتے ہیں کہ لفظ پاکستان میں ’’ک‘‘ کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے اور کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ بھی کہا جاتا � [..]مزید پڑھیں

  • قبروں سے نکل کر لڑنے والے

    یہ ایک ایسی لڑائی کی کہانی ہے جو 1950میں شروع ہوئی ۔ اس لڑائی کا ایک فریق ہر قسم کے اسلحے اور وسائل سے مالا مال ہے ۔ دوسرے فریق کے پاس صرف قلم اور کیمرہ ہے۔ ایک فریق کا نام حکومت ہے اور دوسرا فریق صحافی ہیں۔ حکومت ان صحافیوں کو سچ بولنے اور لکھنے سے روکنا چاہتی ہے۔ حیلے بہانوں سے ی [..]مزید پڑھیں

  • میرے دشمن کا دشمن

    ڈبل گیم تو بڑے عرصے سے جاری تھی لیکن ایک گریٹ ڈبل گیم 2019میں شروع ہوئی۔ اِس گریٹ ڈبل گیم کے نتائج سامنے آنے کی توقع 2020کے ابتدائی ایام میں تھی لیکن کورونا وائرس نے گریٹ ڈبل گیم کو بریک لگا دی۔ 2021کے آغاز کے ساتھ ہی گریٹ ڈبل گیم دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ تین جنوری 2021کو بلوچستان کے ع� [..]مزید پڑھیں

  • خواجہ صاحب! مبارک ہو

    خواجہ محمد آصف کو اِس صاحبِ اقتدار کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس نے اُن کی گرفتاری کیلئے بار بار فریاد کی تھی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ صاحبِ اقتدار تو گرفتاری کیلئے حکم دیتا ہے، فریاد تو مظلوم لوگ کرتے ہیں تو پھر میں نے فریاد کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ آپ بالکل صحیح سوچ رہے ہیں لیکن [..]مزید پڑھیں

  • ع سے عوام غ سے غّدار

    اتنی بھی کیا جلدی تھی؟ 13دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے دو دن قبل شیخ رشید احمد کو وفاقی وزارتِ داخلہ کا قلم دان سونپا گیا۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن عام خیال یہی ہے کہ شیخ رشید احمد کو پی ڈی ایم سے نمٹنے کے لئے وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔ شیخ صاحب کو وزیر داخلہ بنائے جانے ک� [..]مزید پڑھیں