حامد میر

  • چلی ہے شہر میں اب کے ہوا ترکِ تعلق کی

    سنا تھا کہ رفاقتوں سے محروم انسان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رفاقتوں سے محرومی کا پہلا نتیجہ تنہائی ہوتی ہے۔ تنہائی کو بھی ایک بیماری کہا جاتا رہا کیونکہ غمِ تنہائی بہت سی دیگر بیماریوں کی وجہ بنتا تھا، اسی لیے اکثر شاعر وصالِ یار کی آرزو کیا کرتے اور ترکِ تعلق کو ایک وبا [..]مزید پڑھیں

  • فرضی مقدمات ہیں، جھوٹی شہادتیں

    12مارچ جمعرات کا دن تھا۔ صبح ہی صبح ایک بہت باخبر دوست نے وٹس ایپ پر بتایا کہ آج لاہور میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ شکیل صاحب کو ایک 34 سال پرانے معاملے میں کسی شکایت کی تصدیق کیلئے بلایا گیا ہے، ابھی تک اس ش [..]مزید پڑھیں

  • اتنی بڑی نااہلی

    بدنیتی سے سازش جنم لیتی ہے لیکن نااہلی سے بحران جنم لیتا ہے۔ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت کی تقرری کا نوٹیفکیشن ایک سادہ سا معاملہ تھا جس میں صرف قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا تھی لیکن اس نوٹیفکیشن کا اجرا ایک بہت بڑے آئینی بحران میں تبدیل ہوگیا او [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں

    ناکامی یا غلطی کو تسلیم کرنے والے لوگ بہادر کہلاتے ہیں۔ ناکامی پر بہانے تراشنے اور ناکامی کو چھپانے کیلئے جھوٹ بولنے والے لوگ صرف بزدل نہیں بلکہ ناقابل اعتبار بھی ہوتے ہیں۔ پاکستانی قوم سے بھی ایک بہت بڑی ناکامی کو چھپایا جا رہا ہے۔ جو بھی اس ناکامی کی وجہ جاننے کیلئے سوال اٹ [..]مزید پڑھیں

  • ٹرمپ سے بھی زیادہ گریٹ لیڈر؟

    سپر پاور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک دوسرے کی تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کر دیا۔ وائٹ ہاؤس میں عمران خان کو خوش آمدید کہنے کے بعد ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم کو ایک مقبول رہنما اور عظیم لیڈر قرار دیا۔ عمران خان بھی تعریف میں پیچھے نہ ر� [..]مزید پڑھیں

  • آئین کے غداروں کا قبرستان

    وطنِ عزیز میں سیاستدانوں اور اہل ادب و صحافت کو وطن فروش قرار دینے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ اقتدار کے نشے میں مدہوش ایک ڈکٹیٹر ایوب خان نے تو بڑے پُرجوش انداز میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح تک کو وطن فروش قرار دے ڈالا تھا۔ اعلانیہ اور غیراعلانیہ آمریتوں کے باعث پاکستان کی صحا [..]مزید پڑھیں

  • کتنے میں خریدے؟

    تیز دھوپ کے باعث آنکھیں کھولنا مشکل ہو رہا تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی پارکنگ اور گیٹ نمبر پانچ کے درمیان صرف چند گز کا فاصلہ ہے لیکن اس مختصر فاصلے کو طے کرنے کے لئے میں لمبے لمبے قدم اٹھا رہا تھا تاکہ تیز دھوپ سے بچ سکوں۔ ابھی میں انٹری گیٹ تک نہیں پہنچا تھا کہ ایک پو� [..]مزید پڑھیں

  • پرانی کہانی، نئے کردار

    یہ ایک مردہ شہر کی کہانی ہے، جس کی سنسان سڑکوں پر بوٹوں کی ٹھک ٹھک سنائی دے رہی تھی۔ اس شہر کے لاش نما زندہ انسان دن رات موت کی دھمکیاں سنتے تھے، احتجاج پر پابندی عائد تھی۔ ریڈیو گلیوں کے آوارہ کتوں کی طرح مسلسل بھونکتا رہتا تھا اور اخبار رات کو جھوٹ سے منہ کالا کر کے اگلی صبح گھ [..]مزید پڑھیں