حامد میر

  • مقام فیض اور سوئے دار

    کالم کا عنوان تھا ’’خان صاحب کا فیض‘‘ یہ کالم 28 نومبر 2022 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔ اس کالم کی اشاعت سے صرف دو دن پہلے عمران خان بڑے دھوم دھڑکے سے جنگی ترانے بجاتے ہوئے راولپنڈی آئےتھے۔ بظاہر تو وہ شہباز شریف کی حکومت گرانے آئے تھے لیکن اصل مقصد جنرل عاصم منیر ک [..]مزید پڑھیں

  • انجمن متاثرینِ فیض

    16جون 2019 کو اتوار کا دن تھا۔ چھٹی کے دن سرکاری دفاتر بند ہوتے ہیں۔ صرف کسی ایمرجنسی کی صورت میں کوئی سرکاری ادارہ حرکت میں آتا ہے۔ اس دن بھی کوئی ایسی ہی ایمرجنسی تھی۔ اتوار کے دن آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں بتایا گیا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنر [..]مزید پڑھیں

  • جنرل فیض کا سیکرٹ

    آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا خیال تھا کہ اُن پر کبھی ہاتھ نہ ڈالا جا سکے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اُنہیں نومبر 2022 میں بتا دیا تھا کہ اگر جنرل عاصم منیر آرمی چیف بن گئے تو تمہارا کورٹ مارشل ضرور کریں گے۔ لیکن فیض صاحب کو یقین تھا کہ عاصم منیر آرمی چی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • شیخ مجیب کے مجسمے کیوں ٹوٹے

    ہمیشہ بڑے فخر سے بتایا کرتا ہوں کہ اسکول کے زمانے میں سب سے پہلے جس کالم نگار کو پڑھنا شروع کیا وہ عطاالحق قاسمی صاحب تھے۔ جب میں نے کالم لکھنا شروع کیا تو جن سینئرز سے بہت حوصلہ افزائی اور رہنمائی ملی ان میں قاسمی صاحب سرفہرست تھے۔ وہ میرے لئے استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ کل انہو� [..]مزید پڑھیں

  • پانی پت کی تیسری لڑائی

    یہ ایک لاپتہ رکن قومی اسمبلی کی کہانی ہے۔ میں نے یہ کہانی سنی تو مجھے زمزمہ توپ یاد آ گئی۔ وہی توپ جو لاہور کی شاہراہ قائداعظم پر عجائب گھر کے سامنے عرصہ دراز سے ایک عجوبے کے طور پر کھڑی ہے۔ زمزمہ توپ کا اس کہانی سے کیا تعلق ہے؟ تو پہلے آپ بھی یہ کہانی سنیں۔ قومی اسمبلی کے اس � [..]مزید پڑھیں

  • دہشت گرد شہزادہ

    اس نے ہمیشہ شہزادوں جیسی زندگی گزاری پاکستان کے بہترین اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ وہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں پہنچا تو کلاس فیلوز نے اسے پرنس کہنا شروع کر دیا۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ پاکستان میں سیاسی حالات بدل گئے تو یہ شہزادہ ایک دن مزاحمت کار بن جائے گا اور ریا [..]مزید پڑھیں

  • احمد فراز سے احمد فرہاد تک

    یہ 1977 کے ابتدائی ایام تھے ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے اور احمد فراز وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایک افسر تھے ۔ احمد فراز کو بھٹو حکومت کے خاتمے سے بہت پہلے مارشل لا کے بوٹوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی اور وہ اپنے اشعار کے ذریعے جمہوریت کو درپیش خطرات کا اظہار بھی کرنے لگے۔ اس [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان، افغانستان اور غزہ

    ایک دفعہ پھر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو چکی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ 30ستمبر 1947 کو افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی لیکن کچھ دنوں کے بعد اس مخالفت سے دستبردار ہو گیا۔ جب بھی ان دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقا� [..]مزید پڑھیں

  • فیئر اینڈ فری الیکشن کیسے ہو؟

    اس بحث کا اب کوئی فائدہ نہیں کہ جو الیکشن 6 یا 7 نومبر 2023 کو ہونا تھا وہ 8 فروری 2024 کو کیوں ہوگا؟ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی ختم ہونے کے بعد 90 دن میں الیکشن کرانا تھا لیکن افسوس کہ آئین پر عمل نہ ہو سکا۔ صدر مملکت نے بھی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی اور الیکشن کمیشن آف پاکست [..]مزید پڑھیں

  • ٹشو پیپر

    ایک صحافی دوست بہت دنوں کے بعد ملاقات کیلئے آئے ۔کافی دیر تک ملکی سیاست پر گفتگو کے بعد اٹھتے اٹھتے بیٹھ گئے اور یاد دلایا کہ آپ کو چار سال پہلے وزیر اعظم ہاؤس میں عمران خان کےساتھ ہونے والی وہ ملاقات یاد ہے جس میں آپ کے ایک جملے نے سارا ماحول بدل دیا تھا؟ میں نے پوچھا کون س� [..]مزید پڑھیں