حامد میر

  • بچہ سقہ؟

    یہ 1929 کی بات ہے افغانستان کے حکمران امیر امان اللہ خان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور حبیب اللہ بچہ سقہ نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ علامہ اقبال افغانستان کے حالات پر بہت پریشان تھے کیونکہ اس زمانے میں برطانوی سامراج کے زیر تسلط ہندوستان کے [..]مزید پڑھیں

  • جھوٹے روپ کے درشن

    یہ ایک ناکام محبت کی سچی کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ہمارے دور کے ایک نامور کالم نگار اور مصنف راجہ انور صاحب ہیں جنہوں نے اپنی محبوبہ سے اس کی بے وفائی کا انتقام ایک کتاب کی صورت میں لیا۔ راجہ صاحب اپنی محبوبہ کو لمبے لمبے خط لکھا کرتے تھے اور محبوبہ بھی جواب میں ویسے ہی [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف کا المیہ

    نواز شریف کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے انجام سے ڈرایا جا رہا ہے۔ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر مینار پاکستان کے سائے تلے ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ ایئرپورٹ سے جلوس کی صورت میں مینار پاکستان نہ جائیں۔ خدانخواستہ کوئی ایسا واقع� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • لاپتہ بیٹے کی دکھی ماں

    یہ ایک ایسے باپ کی کہانی ہے جس نے اپنی جوا ن بیٹی کی عزت بچانے کیلئے اسے خود گاؤں کے کنویں میں پھینک دیا۔ باپ نے اپنی بیٹی کی عزت تو بچالی اپنا ذہنی توازن کھو دیا۔ اس بدقسمت باپ کا نام ماسٹر سالک تھا جو امرتسر کے اسلامیہ ہائی سکول خزانہ گیٹ میں اردو اور فارسی کے استاد تھے۔ ان ک [..]مزید پڑھیں

  • نیا ہیرو؟

    پاکستان کے پانچ طاقتور ترین لوگوں نے مل کر سپریم کورٹ کے ایک جج کو عبرت کی مثال بنانے کی کوشش کی۔ پانچ میں سے چار صاحبان اپنے عہدوں سے فارغ ہوچکے۔ ایک صدر باقی ہے جس نے 17ستمبر کو اسی جج سے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف لیا جس جج کے خلاف صدر نے 2019 میں نااہلی کا ریفرنس سپریم جوڈیشل کو� [..]مزید پڑھیں

  • نئے چیف جسٹس اور پرانے چیلنج

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پہلے وہ ستمبر 2023 میں واپس آنا چاہتے تھے لیکن اب 21اکتوبر ان کی واپسی کی تاریخ قرار پائی ہے ۔ عام خیال یہ ہے کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ � [..]مزید پڑھیں

  • اقتدار کی مجبوریاں

    وہ دو دن سے بار بار ملاقات کیلئے وقت مانگ رہا تھا۔ میں اپنی عادت کے مطابق اس کے ٹیکسٹ میسجز کو نظر انداز کر رہا تھا۔ بار بار کے تلخ تجربوں نے یہ سکھایا ہے کہ جن لوگوں کو آپ ذاتی طور پر نہیں جانتے ان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو سے گریز بہتر ہے کیونکہ کچھ چالاک لوگ تو آپ کی ہیلو ہائے [..]مزید پڑھیں

  • چودھری صاحب کی بھینس کہاں ہے؟

    تحریک انصاف کے صدر چودھری پرویز الٰہی کی بار بار گرفتاری اور رہائی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ یہ ایک پرانی کہانی ہے جسے ہماری سیاست میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ البتہ اس کہانی کے کردار بدل جاتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کی جمہوریت آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں 1958 میں کھڑ [..]مزید پڑھیں

  • گالی گلوچ بریگیڈ یا سیاسی جماعتیں؟

    کرن تھاپر بھارت کے ان چند صحافیوں میں سے ایک ہیں جن سے ہر حکومت ناراض رہتی ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی 2007 میں ان سے ناراض ہوئے تھے اور آج تک ناراض ہیں۔ کرن تھاپر کے ساتھ ان کا انٹرویو شروع ہوا تو گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں مودی انتظامیہ کے ملوث ہونے کے بار [..]مزید پڑھیں

  • جیل سے خطوط

    اسلام آباد کی ایک مشہور شاہراہ کا نام خیابان سہروردی ہے۔ یہ شاہراہ دراصل حسین شہید سہروردی سے منسوب ہے جنہوں نے 9اپریل 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ دہلی میں متحدہ بنگال کے وزیر اعظم کی حیثیت سے یہ قرارداد پیش کی کہ بنگال اور آسام کو بھی پاکستان میں شامل کیا جائے گا [..]مزید پڑھیں