خورشید ندیم

  • سید مودودی کا فکری وارث کون؟

    برادرِعزیز حسن الیاس سید مودودی کے مرقد تک پہنچے تو ان کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ اُن کی تصویر ہوا کے دوش پر سوار کہیں سے کہیں جا پہنچی۔ سید کے کچھ عقیدت مندوں نے اسے دیکھا تو انہیں جذبات کا یہ بے ساختہ پن پسند نہیں آیا۔ اُن کے ردِعمل سے معلوم ہوا کہ مولانا کے ساتھ اظہارِ محبت کے [..]مزید پڑھیں

  • یہی زندگی ہے

    سنیچر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں سہ فریقی کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا گیا۔ یہاں کم و بیش 35 ہزار تماشائیوں کے لیے گنجائش ہے۔ سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ایک ایک بال اور ایک ایک چوکے چھکے پہ داد دی جا رہی تھی۔  آپ اگر میچ دیکھنے سٹیڈیم � [..]مزید پڑھیں

  • دانش اور صحافت

    دانشور اور صحافی کی تعریف میں ابہام ہے۔ یہی ابہام ان غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے جو اس وقت ہمارے معاشرے کو لاحق ہو گئی ہیں۔صحافت، فنی اعتبار سے خبر کو عوام تک پہنچانا ہے۔ خبر فرد کے بارے میں ہو سکتی ہے اور اداروں کے بارے میں بھی۔ صحافی کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس کی خبر میں جھوٹ کی � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دانشور اور ایک نیم سیاسی نیم انقلابی کارکن

    لوگ اسے دانشور کہتے ہیں۔ دانش سے اس کا راہ و رسم کتنا ہے،اس سے قطع نظراس کی عمومی شہرت یہی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے لیے یہ لفظ طنزاً استعمال کرتے ہیں۔ اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں کہ میں آپ کو جو قصہ سنانے لگا ہوں، اس کا اس کی دانش ورانہ عرفی حیثیت سے زیادہ تع� [..]مزید پڑھیں

  • فرنگی قمار خانہ اور ہند کا میکدہ

    علامہ اقبال نے فرمایاتھا: جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مر رہا ہے جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ اقبال نے یہ پیش گوئی کم وبیش سو برس پہلے کی تھی۔ فرنگی جواریوں کا قائم کردہ یہ نظام کئی سو سال برقرار رہا۔ معلوم ہوتا ہے اب اس پر بڑھاپے کے آثار ہیں۔ دکھائی دے رہا [..]مزید پڑھیں

  • تحریک انصاف: دوست اور دشمن کے درمیان

    ایک سیاسی جماعت ہے جو عوام میں مقبول ہے۔ اس کا لیڈر ایک کرشماتی شخصیت کا مالک ہے جس سے لوگ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کوئی خرابی نہیں دیکھتے۔ ان کا حسنِ ظن ہے کہ وہ ان کا نجات دہندہ ہے۔ روایتی سیاست اور سیاستدانوں کو وہ خیر سے یکسر محروم سمجھتے ہیں۔ یہ جماعت اور لیڈر جب � [..]مزید پڑھیں

  • فوری انصاف یا ماورائے عدالت انصاف؟

    ایک یتیم کو جب بے دردی کے ساتھ کچل ڈالا گیا تو شدید درد، غصے اور غم نے پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ہر کوئی ایک ہی مطالبہ کر رہا تھا: شام سے پہلے مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔  اسی طرح کے جذبات اُس وقت بھی پیدا ہوئے جب لائبہ نے ایک نوسر باز کے ہاتھوں لٹنے کے بعد خود [..]مزید پڑھیں

  • تحریک انصاف کی جان کس طوطے میں ہے؟

    کیا تحریک انصاف کی جان اقتدار کے طوطے میں تھی؟ جب اُس کی گردن مروڑ دی گئی،  اس کی روح پرواز کر گئی؟دو باتیں ظاہر وباہر ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں تحریک انصاف نے اگر کہیں زندگی کا کوئی ثبوت فراہم کیا ہے تو اس کا اظہار کے پی میں ہوا۔ وزیراعلیٰ کے پی نے لاہور یا کراچی کا رخ کیا تو [..]مزید پڑھیں

  • خاموشی اچھی نہیں

    ایک جواں سال بیٹی نے اپنی جان لے لی۔ ایک روشن مستقبل کو مزید روشن کرنے کے لیے، اس نے ایک کوشش کی۔ یہ ناکام ہوئی تو وہ دل ہار بیٹھی۔ دل ہاری تو جان بھی ہار گئی۔ معاشرے میں ایک اضطراب ہے۔ اس اضطراب اور بے چینی کی زندگی کتنی ہے؟ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ مختاراں بی بی تو آپ کو یاد ہو [..]مزید پڑھیں

  • تخلیقی اقلیت کہاں ہے؟

    فیض صاحب کا یہ شعر تو سب نے سن رکھا ہے: ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے 25کروڑ کے ایک ملک میں کیا کوئی ایک فرد ایسا نہیں ہے جو چارہ گر ہو؟ جس پر قوم اجتماعی طور پر اعتماد کرتی ہو؟  فرد نہ سہی کوئی گروہ؟ کیا ہماری اجتماعی دانش بانجھ ہو گئی � [..]مزید پڑھیں