خورشید ندیم

  • ہمارے دانشور کی ترجیحات کیا ہیں؟

    کیا ہمارے دانشور کی ترجیحات بدل رہی ہیں؟ایک زمانہ ہو گیا یہ شکایت کرتے کہ ہمارے دانشور کو سیاست کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ قلم ہیں کہ سیاست کیلئے رواں رہتے ہیں۔ زبانیں ہیں کہ سیاست پہ قینچی کی طرح چلتی ہیں۔ سماج کی کسی کو فکر نہیں۔ معاشرہ برباد ہو رہا ہے۔ قدریں مٹ رہی ہیں۔ اَن [..]مزید پڑھیں

  • مذہب، جمہوریت اور فساد فی الارض

    مذہب و سیاست کے یہ مظاہرصرف نیم خواندہ معاشرے میں پنپ سکتے ہیں۔ ایسے معاشرے ہی میں ممکن ہے کہ اسلام اور سیاست کی تعبیر ان کو سونپ دی جائے جو اِن کے فہم سے عاری ہوں۔ مذہب کیا ہے؟ سادہ لفظوں میں تزکیہ نفس۔ اخلاق کو اتنا پاکیزہ بنانا کہ روزِ قیامت آپ کامیاب قرار پائیں۔ جلوس،احتج [..]مزید پڑھیں

  • ’ماسٹرسٹروک‘

    علی امین گنڈاپور صاحب وزارتِ اعلیٰ کے لیے عمران خان صاحب کا انتخاب کیوں بنے؟کیا وہ صوبائی اراکینِ اسمبلی میں سب سے نیک اور پرہیزگار تھے؟ کیا وہ امانت اور دیانت میں ممتاز تھے؟ کیا وہ دوسروں سے زیادہ باصلاحیت اور حکیم تھے؟ کیا کے پی کی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے وہ سب سے بہتر م [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دو ٹوک پیغام

    پریس کانفرنس میں تین باتیں واضح کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ طاقت ہی فیصلہ کن ہے۔ دوسری یہ کہ ایک قومی بیانیے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ تیسری یہ کہ خیبر پختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکی۔ ہمارے جوانوں کا لہو بہایا جا رہا تھا۔ ہمارے شہری شہید [..]مزید پڑھیں

  • پنجاب کی بات

    وزیراعلیٰ پنجاب اگر پنجاب، وزیراعلیٰ سندھ،  سندھ اور وزیراعلیٰ کے پی،  کے پی کی بات کریں تو اس میں حیرت اور پریشانی کیا ہے؟  ’سندھ کارڈ‘،  ’پختون کارڈ‘،  ’مہاجر کارڈ‘ اگر سیاسی بازار کی قبول کردہ کرنسیاں ہیں تو  ’پنجاب کارڈ‘ کیوں نہیں؟ یہ [..]مزید پڑھیں

  • کوئی بشارت اہلِ غزہ کے لیے؟

    بشارتیں،خوشخبریاں، سب اچھا چل رہا ہے، ماشا اللہ۔ معاہدے ہو رہے ہیں اور صدر ٹرمپ نے بھی مسلم قیادت کو مدعو کیا ہے۔ ایک سوال مگر دامن سے لپٹا ہوا ہے: کیا اس میں کوئی خوشخبری،کوئی بشارت اہلِ غزہ کے لیے بھی ہے؟ غزہ میں انسانی المیہ اپنی آخری صورت میں نمودار ہو چکا۔ اب تو صرف قیام� [..]مزید پڑھیں

  • متبادل تہذیبی ماڈل

    افغانستان کے ایک بڑے حصے میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ طالبان کے سپریم کمانڈر کے حکم پر یہ قدم اٹھایا گیا اور اس کا مقصد غیراخلاقی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ اس خبر کو تنقیدی زاویے سے دیکھا گیا۔ طالبان کی رجعت پسندی کی ملامت کی گئی اور اس فیصلے کو بھی ان کے خلاف قائم  ’ [..]مزید پڑھیں

  • مذہب کو سیاست سے بچائیے!

    اگر مذہب کو بچانا ہے تو اسے اقتدار کی سیاست سے دور رکھیے۔ یہی بات سیاست کے لیے بھی درست ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ مجھے اقبال کا یہ مصرع سنائیں  ’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘  ۔میری درخواست ہے کہ کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کالم کو آخری سطرتک پڑھ لیاجائے۔ س [..]مزید پڑھیں

  • ’سیاسی شعور‘ کا جوابی حملہ

    جب بدتہذیبی اور بدتمیزی کو  ’سیاسی شعور‘ کا نام دے کر اس کی حو صلہ افزائی کی جا رہی تھی تو اس کوتاہ نظری کی طرف جن لوگوں نے متوجہ کیا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ یہ سیاسی شعور اب اُس گھر کے دروازے پر دستک دینے لگا ہے جہاں اس نے جنم لیا تھا۔ محترمہ علیمہ خان کے ساتھ جو واقعہ [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ کی دلدل

    اگر آپ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر میں،  میسور میں ہوتے تو ٹیپو سلطان کا ساتھ دیتے یا لاتعلق رہتے؟یہ سوال میں نہیں اٹھا رہا۔ مجھے آپ کے جذبات کا علم ہے اور معلوم ہے کہ آپ کا جواب کیا ہو گا۔ یہ سوال ڈاکٹر خلیل احمد نے اپنے کتابچے  ’تاریخ کی دلدل‘ میں اٹھایا ہے۔  ان� [..]مزید پڑھیں