خورشید ندیم

  • لیڈر کیسے بنتے ہیں؟

    مریم اور بلاول کیسے لیڈر بن گئے؟لیڈر بننے کیلئے کیا یہ کفایت کرتا ہے کہ آپ کا باپ یا آپ کی ماں لیڈر ہو؟ کیا لیڈر بننے کیلئے کسی اوراہلیت کی ضرورت نہیں؟ کیا دنیا میں لیڈراسی طرح بنتے ہیں؟ تاریخ کیا کہتی ہے؟ معاصر معاشروں کا تجربہ کیا ہے؟ کیا لیڈر پودوں کی طرح کیاریوں میں اگائے [..]مزید پڑھیں

  • نوازشریف اور شہباز شریف

    سیاست کا معاملہ عجیب ہے۔اس کی گرمی ٔبازار کسی رومان کے دم سے ہے۔اس کی گزر گاہ مگرحقائق کی سرزمین ہے۔سنگلاخ،ویران اوربے آب و گیاہ۔یہاں جسم و جاں کا تعلق قائم رکھنے کیلئے کبھی کسی سائبان کی ضرورت پڑتی ہے اور خشک لب کبھی کسی کنویں کے کنارے لا کھڑا کرتے ہیں۔ اس سائبان اور چاہِ م� [..]مزید پڑھیں

  • اسلامی نظریاتی کونسل اور خطبہ جمعہ

    اسلامی نظریاتی کونسل ایک بار پھر اعتراضات کی زد میں ہے مگر ایک مختلف عنوان سے۔ علما کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ تمام قوانین کی اسلامی تشکیل کے لیے کونسل اپنی سفارشات دے چکی، اس کا کام تمام ہوا، اس لیے اس کی صف کو اب لپیٹ دینا چاہیے۔  ان علما کی فوری ناراضی کا سبب یہ خبر ہے کہ اس� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سوشل میڈیا، تاریخ نگاری اور مذہب… (2)

    دین کی روایت کو رطب و یابس سے محفوظ رکھنے کیلئے، ہمارے محدثین اور اہلِ علم نے جو خدمت سرانجام دی اس کی قدروقیمت کو کوئی سمجھنا چاہے تو دورِ حاضر کے سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈال لے۔ میں نے گزشتہ کالم میں اسی بات کو بیان کیا اور یہ بتایا کہ دین اگر آج بھی پوری طرح محفوظ ہے اور اس کی � [..]مزید پڑھیں

  • سوشل میڈیا، تاریخ نگاری اور مذہب

    سوشل میڈیا نے اس حقیقت کو آخری درجے میں ثابت کر دیا ہے کہ تاریخ کبھی علم ِیقین کا فائدہ نہیں دیتی لہٰذا اس پر کسی ایسے مقدمے کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی جو جوہری طور پر علم ِیقین کا متقاضی ہے، جیسے مذہب۔ سوشل میڈیا آج مختلف گروہوں کے ہاتھوں میں ایک ایسا آلہ ہے جسے وہ پروپیگنڈ [..]مزید پڑھیں

  • مسئلہ فلسطین: مذہبی اور غیرمذہبی تعبیرات

    فلسطین کی نس نس سے لہو پھوٹ رہا ہے۔ زمین کے چہرے پر ایسے زخم چشمِ فلک نے کم ہی دیکھے ہیں۔ وقت نے جیسے ایک جلاد بٹھا رکھاہے جواپنے تازیانے کو لہو رنگ رکھتاہے۔ جب رنگ پھیکا پڑنے لگے، یہ اسے فلسطین کی پیٹھ پربرسانے لگتا ہے۔  تاریخ کی مذہبی تعبیر کریں تویہ خداکے قانون کا ظہور ہے� [..]مزید پڑھیں

  • کئی چاند تھے سرِ آسماں…

    اس بار بھی وہی ہوا... ’کئی چاند تھے سرِ آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے‘۔ جب ہرکوئی چاند چڑھانے کو لگا ہو تو یہی ہوتا ہے۔ پھرسرِ آسماں کئی چاند چمک اٹھتے ہیں۔ اہلِ مذہب کا چاند اپنا ہے اور اہلِ سائنس کا اپنا۔ پوپلزئی صاحب کا اپنا ہے اور رویتِ ہلال کمیٹی کا اپنا۔ حکومت کا اپنا ا [..]مزید پڑھیں

  • تعلیم کس لیے؟

    ’تعلیم ہی تعمیرکا واحد راستہ ہے‘۔ محض یہ ادراک کافی نہیں۔ اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ تعلیم کیسی ہو؟ آپ کا تصورِ تعلیم کیا ہے؟ اس سے اہم ترسوال یہ ہے کہ آپ کا تصورِ انسان کیا ہے؟ گزشتہ ایک ماہ کے دوران میں دو خبریں سننے کو ملیں۔ ایک یہ کہ دینی مدارس کے نئی تعلی [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان اور عالمِ اسلام

    مکرر عرض ہے کہ جدید مذہبی انتہا پسندی عالمِ اسلام کا نہیں، پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اس کا حل بھی یہیں تلاش کرنا ہوگا۔فرانس کے خلاف اگر کوئی مہم برپا ہوئی تو صرف پاکستان میں۔ جب بے ادبی کا واقعہ ہوا تھا تواس پر بہت سے مقامات پرایک ردِعمل ہوا۔ یہ ردِعمل واقعے تک محدود رہا۔ جیسے جیسے [..]مزید پڑھیں

  • یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد

    ایک عالمگیر نظامِ اقدار چیلنج بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ یورپین پارلیمنٹ کی سفارشات اس وقت زیرِ بحث ہیں۔ ہمارے خلاف کم وبیش اتفاقِ رائے سے ایک قرارداد منظور کرلی گئی ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ پاکستان کے قوانین مذہبی آزادی کی بنیادی قدر سے متصادم ہیں۔ نظامِ عدل ان کی زد میں آنے وال [..]مزید پڑھیں