خورشید ندیم

  • عید، رشتہ دار اور کتابیں

    عید ملن کا نام ہے۔ یہ روابط بحال کرنے کے دن ہیں۔ یہ اُن سے ملاقات کا موقع ہے جن سے ہم سال بھر نہیں مل پاتے۔ مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں ہر عید باقاعدگی کے ساتھ گاؤں میں منایا کرتا تھا۔ عید گاہ میں اُن احباب سے بھی ملاقات ہو جاتی جن سے پچھلی عید پر ملے تھے۔ یہ سلسلہ اُس وقت تک باقی رہ� [..]مزید پڑھیں

  • مسجد و خانقاہ کی تشکیلِ نو

    مسلم تہذیب کا فروغ، تسلسل اور ارتقا دو اداروں کا مرہونِ منت ہے: مدرسہ اور خانقاہ۔اس تہذیب کے دو ستون ہیں: علم اور تزکیہ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو بڑی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ایک عقل اور دوسری اپنی ہدایت۔  عقل کی مدد سے کئی عقدے حل ہو سکتے ہیں۔ معیشت چل سکتی ہے، سیاست پنپ سکتی ہ� [..]مزید پڑھیں

  • خاندان خطرات کی زد میں !

    اسلام آباد کی عائلی عدالتوں میں، ہر روز طلاق وخلع کے تین سو مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے، مہینے میں نو ہزار۔ایک دوست نے جب مجھ سے اس خبر کا ذکر کیا تو میں چونک اُٹھا۔ میرا پہلا تاثر تھا: یہ اعداد وشمار مبالغہ آمیز ہیں۔  میں نے اپنے دوست سے بھی یہی کہا۔ اس نے جواب میں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بے بس مسلم عوام اور افغانستان میں بھوک کا ڈیرہ

    افغانستان میں پھول جیسے بچے موت کی وادی میں اُتر رہے ہیں۔ جہاں اناج اُگتا تھا، آج وہاں بھوک کی فصل کھڑی ہے۔ افغانستان کا خر بوزہ یہاں آتا تو لوگ اس کی طرف لپکتے تھے۔ اس کی مٹھاس ایسی کہ ہونٹ سِل جائیں۔ ایک خربوزہ ہی کیا ثمرات کی ایسی بہتات کہ سبحان اللہ۔ تعلیم، تہذیب، اَن گن [..]مزید پڑھیں

  • الطاف صاحب کی یاد میں

    ایک صدی کا قصہ ہے، اسے ایک کالم میں کوئی کیسے قلمبند کرے۔ اس کے بیان کے لیے کتاب چاہیے، افسانہ کہ گفت نظیری کتاب شد۔الطاف حسن قریشی ایک فرد کا نام نہیں، ایک تاریخ کا عنوان ہے۔ وہ صحافت کے ایک پورے عہد کے بانی ہیں۔ اس میں مبالغہ نہیں کہ اردو صحافت میں ان کی کوئی مثال نہیں۔ وہ ای� [..]مزید پڑھیں

  • رومان، حقیقت پسندی اور اقبال شناسی

    حقیقت پسند ی اچھی چیز ہے مگر اتنی اچھی بھی نہیں کہ خواب اور رومان زندگی سے نکل جائیں۔ آدمی اتنا بدذوق ہو جائے کہ شاعری کو فقہ کے پیمانے سے ناپنے لگے۔مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بڑے احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے استادِ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کے دروازے تک پہنچا دیا۔ بق [..]مزید پڑھیں

  • مزاحمت اور’سٹیٹس کو‘

    یہ تاریخ کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ مزاحمتی فرد یا گروہ جب  آسٹیٹس کو‘ کی قوتوں کو پچھاڑ   کر کامیاب ہو جاتا ہے توکچھ وقت کے بعد خود سٹیٹس کو کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس کے خلاف مزاحمت شروع ہو جاتی ہے۔ اس طرح انسانی سماج اکھاڑ پچھاڑ سے گزرتا ہے۔ اگر آپ کو یہاں ہیگل � [..]مزید پڑھیں

  • مزاحمت: کب، کیوں اور کیسے؟

    ’سٹیٹس کو‘ کی اُن قوتوں کو چیلنج کرنا جو انسانی آزادی اور ارتقا میں مانع اور انسانیت کے لیے باعثِ شر ہیں، ایک ناگزیر سماجی ضرورت ہے۔ یہ قوتیں علمی اور فکری ہو سکتی ہیں،سماجی اور سیاسی ہو سکتی ہیں، مذہبی اور سیکولر ہو سکتی ہیں۔  اسی نسبت سے مزاحمت کی ایک نہیں کئی صورت� [..]مزید پڑھیں

  • مولانا فضل الرحمن کیلئے دعا

    مولانا فضل الرحمن کی جرأتِ رندانہ حیران کن ہے۔ سچ پوچھئے تو پریشان کن بھی۔مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی جلسے سے ان کا خطاب سن کر یہ احساس ہوا کہ یہ ایک ایسے حق گو مذہبی راہنما کا نعرۂ مستانہ تھا جو جذبات، دور اندیشی اور جرأت کا مرقع ہے۔ دل کا درد اُن کی آنکھوں سے عیاں تھ [..]مزید پڑھیں

  • مولانا محمد ادریس کی شہادت

    مولانا حسن جان، ڈاکٹر محمد فاروق خان،مولانا نور محمد، مفتی سرفراز نعیمی اور اب مولانا محمد ادریس۔ ریاست، علما، صحافی،عوام... ہم سب کے اجتماعی گناہ کا کفارہ کتنے لوگوں کو ادا کرنا ہے؟ اس فہرست میں اُن گمنام شہدا کو بھی شامل کر لیجیے جو بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں مارے گئے۔ [..]مزید پڑھیں