خورشید ندیم

  • جرم، ریاست اور معاشرہ

    جرم کی سنگینی نے اضطراب پیدا کیا اور اضطراب نے خلطِ مبحث۔ ہمارے ہاں ہر بحث کا انجام یہی ہوتا ہے۔پہلا فرق جو نظر انداز ہوا، وہ سماج اور ریاست کا ہے۔ یہ میڈیا کا مسئلہ ہے۔ دوسرا فرق جس سے صرفِ نظر کیا گیا وہ زنا اور محاربہ کا ہے۔ یہ علما کا مسئلہ ہے۔ تیسرا فرق جو پسِ پشت ڈالا گیا، [..]مزید پڑھیں

  • محمد مرسی سے عبداللہ مرسی تک!

    محمد مرسی کا جواں سال بیٹا عبداللہ طبعی موت نہیں مرا۔ اسے قتل کیا گیا۔ مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کا جسم قید میں تھاکہ ان کی روح آزاد ہوگئی۔ زنداں سے پرواز کر گئی۔ وہ بھی ایک قتل تھا۔  ایک سال پہلے، چار ستمبر2019کو، جب پچیس سالہ عبداللہ مرسی دنیا سے رخصت ہوا تو یہی کہا گی [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کو عزت دو!

    سیاست کو عزت ملے گی تو اپوزیشن کو عزت ملے گی۔ اپوزیشن ہی کو نہیں، میڈیا کو بھی۔سرتوڑ کوشش جاری ہے کہ سیاست دانوں کی آڑ میں سیاست اور صحافیوں کی آڑ میں صحافت کو گالی بنا دیا جائے۔ سیاست دانوں کے لیے ‘چور‘ اور صحافیوں کے لیے ‘لفافہ‘ کی اصطلاحیں ایک ہی ٹکسال میں ڈھلی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ظلم کی حکومت کیوں قائم نہیں رہ سکتی؟

    ’کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے، ظلم کی نہیں‘ سیدنا علیؓ کا یہ قول اتنی بار دہرایا گیاکہ بچے بچے کو ازبر ہو گیا۔ اہلِ حکمت کی پہچان یہی ہے کہ کوزے میں دریا بند کر دیتے ہیں۔ زندگی کی سچائیاں اُن کے حضور میں ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی ہیں اور الفاظ بھی۔ انہیں ابلاغ کے لیے تکلف نہیں [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف کا خوف

    نواز شریف کا خوف حکومت کے رگ و پے میں سرایت کر چکا۔ مریم نواز نے گھر سے باہر قدم کیا رکھا، اربابِ اقتدار کے اعصاب چٹخ گئے۔ خود شکستگی کا عجیب منظر ہے۔ نوازشریف کے بارے میں پنجاب حکومت ہی نہیں، شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز کی رپورٹس کو بھی مشکوک بنادیا گیا ہے۔ مشیر سب ذمہ داری کسی [..]مزید پڑھیں

  • یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

    یہ طالب علم تنہائی میں سوچتا ہے: علماء سے بڑھ کر کون ہو گا جو قرآن کو سمجھتا ہے۔ پھر معاشرے میں اضطراب کیوں؟ سوشل میڈیا ایک جنگل ہے۔ خس و خاشاک کی بھرمار۔ دور کہیں کوئی گلِ سرسبد، کوئی نخیلِ خوش رنگ، گمانِ غالب مگر یہی کہ یہ جنگل ہے۔ کس سے کہیں اور کس منہ سے کہیں کہ اسے جنگل بنا [..]مزید پڑھیں

  • محرم کی دستک

    محرم کی دستک پر دل گھبرا اٹھتا ہے۔ دروازے کے باہر کوئی فسادی ہی نہ ہو؟یہ ایک لمبی کہانی ہے کہ تاریخ کا اختلاف کیسے گروہی افتراق میں بدل گیا۔ یہ کہانی سنانے کا یہ موقع ہے نہ محل۔ ہماری اجتماعی یادداشت میں کچھ ایسے حادثات محفوظ ہیں کہ آج بھی کتابِ تاریخ کھولیں تو لہو ٹپکنے لگتا [..]مزید پڑھیں

  • ذہنی پولیو

    جسمانی پولیو عذاب ہے لیکن اس سے بڑا عذاب ذہنی پولیو ہے۔ معاشرہ فکری اور نظری اعتبار سے اپاہج ہو جائے تو زندہ دکھائی دینے کے باوجود، زندگی سے محروم ہو جاتا ہے۔ حریت فکر کی فکر کیجیے کہ ہمارے معاشرے کو اس سے محروم کیا جا رہا ہے۔ سیدنا عمرؓ نے ریاست ہی نہیں، سماج کو بھی نئی رفعتوں [..]مزید پڑھیں

  • ’تحفظ بنیاد اسلام بل‘ آزادی رائے پر حملہ ہے

    ہم سرعت کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں آزادیٔ رائے ہر صورت ختم ہو جائے اور شہری روبوٹ میں ڈھل جائیں۔ جو ریاست کے طے کردہ مذہب‘ قومی مفاد اور نظریۂ پاکستان کے بر خلاف رائے رکھے اور زبان کھولے، وہ قابلِ تعزیر ٹھہرے۔ لگتا ہے کہ اہلِ مذہب اس کے لیے ریاست کے دس� [..]مزید پڑھیں