خورشید ندیم

  • برما، افغانستان اور پاکستان

    جس سماج میں دانش ہی الجھی ہوئی ہو، وہاں، نشاطِ فکر تو دور کی بات، ابہام ہی ختم نہیں ہوتے۔ انبیا کی دعوت کا پہلا مرحلہ ’فکری یکسوئی‘ ہے۔ ایک تصورِ حیات پر اتفاق، پھر تربیت اور پھر متفقین کی گروہ بندی۔ دیگر مراحل اس کے بعد۔  الہامی کتب بتاتی ہیں کہ پہلا مرحلہ طے نہ ہو تو � [..]مزید پڑھیں

  • کیا مولانا بھی ۔۔۔۔ ؟

    کیا مولانا فضل الرحمن سے پھر کوئی وعدہ کیا گیا ہے اور کیا انہوں نے ایک بار پھر اس پر یقین کر لیا ہے؟ آج کے اخبار کی شہ سرخی ان کے ارشادات سے روشن ہے:  ’ہماری جنگ حکومت کے ساتھ ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں۔ اس سے ہمیں گلے شکوے ہیں اور شکایت اپنوں ہی سے ہوتی ہے...‘ مولانا کا [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت دشمنی کا نیا روپ

    انتہا پسند، مذہبی ہوں یا لبرل، جمہوریت کی دشمنی میں یک زبان ہیں۔ آج دونوں ایک ہی مقدمہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اقتدار کو کسی اخلاقی جواز کی ضرورت نہیں۔ اقتدار کا بنیادی مطالبہ ڈسپلن اور کمانڈ ہے۔ جس گروہ کو میسر ہے،اس کا حقِ اقتدار ثابت ہے۔  اگر کوئی منظم مسلح دستہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تحریکِ انصاف اور نظامِ انصاف

    پہلا موقف:  ’تحریک انصاف کے اکاؤنٹس شفاف ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس بے بنیادہے۔ ہم سرخرو ہوں گے‘۔ دوسرا موقف : ’صرف ہمارے خلاف کیوں، نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے فنڈزکی بھی تحقیقات کی جائیں‘۔ تیسرا موقف : ’اگر غیر قانونی فنڈنگ ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دارایجنٹ ہیں۔ پارٹی کا � [..]مزید پڑھیں

  • آخری معرکہ؟

    مولانا شیرانی، مولانا اجمل قادری،  احتساب... معلوم ہوتا ہے ترکش میں موجود ہر تیر آزمانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ شاید اس کشمکش کو آخری معرکہ سمجھتے ہوئے۔ کیا اپوزیشن بھی جگر آزمانے کیلئے تیار ہے؟ مولانا شیرانی کے بارے میں یہ حسنِ ظن تھاکہ وہ شخصی حرمت کو بر قرار رکھیں گے۔ [..]مزید پڑھیں

  • بے نظیربھٹو اور تاریخ

    شخصیات کے بارے میں اپنا فیصلہ سناتے وقت تاریخ اتنی عجلت کا مظاہرہ کم کرتی ہے جیسی عجلت اس نے بے نظیر بھٹو کے باب میں دکھائی۔ صدیاں گزر جاتی ہیں مگر افراد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ انسان گروہوں میں بٹے رہتے ہیں۔  ایک نسل کے لیے تو یہ کم ہی ممکن ہوا کہ ہے وہ کسی فرد ک� [..]مزید پڑھیں

  • بات آگے بڑھ چکی!

    کیا آپ نے مولانا عبدالغفور حیدری کی پریس کانفرنس سنی؟ اگر نہیں تو سن لیجیے۔ اس کے بغیر آپ حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ بات نام لینے سے کہیں آگے بڑھ چکی۔ حالات تشویشناک ہیں۔ تصادم سے بچنے کے امکانات، آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ اب وہ کچھ ہورہا ہے جو1970کے � [..]مزید پڑھیں

  • مکالمہ کیسے ہو؟

    یہ تو طے ہوا کہ کمزور سے کوئی مکالمہ نہیں کر تا۔ جب تک اپوزیشن نے اپنی قوت کا اظہار نہیں کیاتھا،وہ تمسخر، ٹھٹھا، ایذا،  توہین اورتذلیل کا نشانہ تھی۔پارلیمنٹ سے ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز تک ہر جگہ اس کی پگڑی اچھالی جاتی۔کوئی زبان کے تیر چلاتا تھا اور کوئی بوٹ لاکر میز پر رکھ دیتا [..]مزید پڑھیں

  • خدا کا عذاب؟

    چند دن پہلے، عمران خان صاحب نے اطلاع دی کہ نوازشریف اور آصف زرداری اللہ کے عذاب کاشکار ہیں۔ انہیں یہ اطلاع کس نے دی، اس کی کوئی اطلاع نہیں۔ یہ جملے ہم بہت بے تکلفی سے ادا کرتے ہیں کہ فلاں مکافاتِ عمل کا شکار ہے۔ فلاں باعثِ عبرت ہے۔ فلاں اللہ کے  عذاب میں مبتلا ہے۔ یہ کہتے ہو� [..]مزید پڑھیں

  • اپوزیشن کی اخلاقیات

    حکومت پر تنقید اپوزیشن کا کام ہےلیکن اس کی ذمہ داریاں اس کے سوا بھی ہیں۔ ان کا تعلق ریاست اور سماج، دونوں سے ہے۔عوام اور جمہوریت کی حفاظت ایک قومی فریضہ ہے۔ ایسا فریضہ جو حکومت اور اپوزیشن، دونوں پر عائد ہوتا ہے۔ تنہا حکومت کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس میں شبہ نہی� [..]مزید پڑھیں