خورشید ندیم

  • واہمے اور مغالطے

    بہت سے واہمے (Myths) ہیں جو ہم نے پال رکھے ہیں۔ بہت سے مغالطے ہیں، ہم جن میں مبتلا ہیں۔ وقت ایک شفیق استاد کی طرح ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے۔ کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے؟ مثال کے طور پر: 1۔ ریاست سماج پر مقدم ہے۔ سیاست درست خطوط پر استوار ہو جائے تو معاشرہ سنور جاتا ہے۔ 2۔ اصلاح کا سف� [..]مزید پڑھیں

  • آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر

    اہلِ سیاست میں مسیحا کی تلاش کارِ عبث ہے۔ لکھنے والے کیلئے مگر کوئی راہِ فرار نہیں۔ لوگ اِسی کے خوگر ہیں کہ اہلِ سیاست کے بارے میں سنیں اور پڑھیں۔ خیر خواہ توجہ دلاتے ہیں: ’سیاست کی گندگی‘ میں کیا پڑا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان میں کیا رکھا ہے؟ انہیں چھوڑیے کہ اہم تر مسا� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کرپشن سے کرپشن تک!

    عوامی تاثر یہ ہے کہ کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جملے میں اصل اہمیت  کرپشن کی ہے یا تاثر کی؟ حکومت اس تاثر کو درست نہیں سمجھتی۔ خان صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت تاریخ کی شفاف ترین حکومت ہے۔ اس دعوے کو اگر درست مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بعض اوقات قائم تاثر حقائ [..]مزید پڑھیں

  • تصوف اور گٹر کو ایک ساتھ باندھتے خان صاحب !

    زندگی تضادات کے ساتھ ثمر بار نہیں ہوتی۔ حکمران، آج کے ہوں یا کل کے، اس بات کو کبھی سمجھ نہیں پائے۔ وہ تضادات کے ساتھ نباہ چاہتے ہیں۔ اور اگر اس کے ساتھ انہیںنرگسیت کا آسیب بھی چمٹ جائے تو پھر حکمرانی کے وہ مظاہر سامنے آتے ہیں جو ہم اِن دنوں دیکھ رہے ہیں۔ خان صاحب نے ایک ساتھ [..]مزید پڑھیں

  • مکالمہ ناگزیر ہے!

    مکالمہ ضروری ہے لیکن کن کے مابین؟ ذوالفقار چیمہ صاحب کا تعارف صرف یہ نہیں کہ وہ ایک مثالی پولیس افسر تھے۔ ان کی ایک وجۂ شہرت علم دوستی بھی ہے۔ وہ علمِ نافع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسا علم جو قومی معاملات کا قابلِ عمل ، پائیدار اور تہذیبی قدروں سے ہم آہنگ حل دے سکے۔  اس سوچ ک� [..]مزید پڑھیں

  • بوٹ سے تہمد تک!

    ایک ٹی وی ٹاک شو میں، بوٹ کے ساتھ فیصل واوڈا صاحب کی رونمائی، اُس راستے کا ایک اہم پڑاؤ ہے، رخشِ سیاست جس پر سرپٹ دوڑے جا رہا ہے۔ میں اس کے بعد آنے والے پڑاؤ کا منتظر ہوں جب لوگ تہمد (تہ بند) باندھ کر ٹاک شوز میں شریک ہوں گے اور حسبِ ضرورت اس چار گرہ کپڑے کے تکلف سے بھی آزاد ہو [..]مزید پڑھیں

  • نظریاتی کونسل اور فواد چوہدری صاحب

    لا علمی فرد اور حقیقت کے مابین ایک پردہ حائل کر دیتی ہے۔ یوںغلط فہمی کو جگہ مل جاتی ہے۔ یہ لا علمی اگر کسی ایسے فرد کو لاحق ہو جو کسی حکومتی منصب پر فائز ہے تو اس کا حجاب گویا پورے معاشرے کے لیے پردہ بن جاتا ہے۔ جناب فواد چوہدری بھی اسلامی نظریاتی کونسل کے باب میں لا علمی کا شکار ہ [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی رومان کا المناک انجام

    یہ خوش گمانیوں کا موسم تھا جو رخصت ہوا۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ نواز شریف اور عمران خان سے دو رومان وابستہ ہوئے۔ ایک عوام کی حاکمیت کا، دوسرا روایتی سیاست سے نجات کا۔ دونوں کو حقیقت پسندی کی سنگلاخ زمین پر ننگے پاؤں چلنا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں آبلہ پائی کا شکار ہو گئے۔ نئے س� [..]مزید پڑھیں

  • اصل بحث کچھ اور ہے

    لوگ فیصلے میں درج ایک پیرا گراف میں الجھ گئے جو فیصلہ بھی نہیں، ایک رائے ہے، بالکل ایسے ہی جیسے بری کر دینے کی رائے۔ یوں حاشیہ متن پر غالب آ گیا۔ آئین کا احترام اور ریاستی اداروں کا احترام، باہم متصادم تصورات نہیں ہیں۔ فردِ واحد کے کسی جرم کے لیے، کوئی ادارہ اِس وجہ سے جواب د [..]مزید پڑھیں