خورشید ندیم

  • اصل بحث کچھ اور ہے

    لوگ فیصلے میں درج ایک پیرا گراف میں الجھ گئے جو فیصلہ بھی نہیں، ایک رائے ہے، بالکل ایسے ہی جیسے بری کر دینے کی رائے۔ یوں حاشیہ متن پر غالب آ گیا۔ آئین کا احترام اور ریاستی اداروں کا احترام، باہم متصادم تصورات نہیں ہیں۔ فردِ واحد کے کسی جرم کے لیے، کوئی ادارہ اِس وجہ سے جواب د [..]مزید پڑھیں

  • 16دسمبر اس قوم کے لیے یومِ تذکیر ہے

    16  دسمبر آتا ہے تو میں سوچتا ہوں: یہ کیسے کیسے اوہام ہیں جو ہم نے پال رکھے ہیں؟ خوش گمانیوں اور تاریخی عمل سے لا علمی کا یہ کیسا حصار ہے جس نے ہمیں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے؟ مثال کے طور پر یہ واہمہ (myth) کہ پاکستان کا قیام ایک خدائی فیصلہ ہے۔ اس کی حفاظت بھی خدا کے ذمہ ہے۔ دنیا ک� [..]مزید پڑھیں

  • ہم سب وکیل ہیں!

    آج ہم سب ’وکیل‘ ہے۔ ہم ’وکیلوں‘ کے معاشرے میں زندہ ہیں۔ عالم وکیل ہے اور سیاست دان بھی۔ صحافی وکیل ہے اور تاجر بھی۔ استاد وکیل ہے اور شاگرد بھی۔ یہ ریاست نہیں، معاشرہ ہے جو برباد ہو گیا۔ ریاست کی بربادی تو اس کا ایک ناگزیر نتیجہ ہے۔ ایک مدت سے گاڑی کو گھوڑے کے آگے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مولانا اب کیا کریں گے؟

    مولانا فضل الرحمن کے موقف سے پوری طرح متفق ہونے کے باوجود، میرے لیے ان کی حکمتِ عملی سے پوری طرح اتفاق کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ مولانا کا موقف دو اہم نکات پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ ان کے نتیجے میں بننے والی حکومت کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔ وہ اسے قب� [..]مزید پڑھیں

  • کنٹینر سے کنٹینر تک!

    اگر عمران خان اور اُن کے سرپرست چاہتے تو موجود سیاسی بندوبست قائم رہ سکتا تھا۔ ہم سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکتے تھے۔’آزادی مارچ‘ اپنے جوبن پر ہے، جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا کنٹینر قومی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو سمیت سب سیاسی جم [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف: فرد سے علامت تک

    نواز شریف اب ایک فرد نہیں، ایک علامت کا نام ہے: مزاحمت کی علامت۔ یہ عام لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں کوئی ایک واقعہ، ایک نعرہ مستانہ، فرد سے علامت بنا دیتا ہے۔ تاریخ کے کسی موڑ پر وہ جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ماہ و سال سے اٹھ جاتے ہیں۔ پھر تاریخ انہیں اپنے آغوش میں لے لیتی � [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کے مقتل میں کھڑے نوازشریف

    نواز شریف سیاست کے مقتل میں کھڑے ہیں اور ن لیگ وقت کی عدالت میں۔ایک طرف نشترِ قاتل سے قطرہ قطرہ موت ٹپک اور رگِ جاں میں اتر رہی ہے۔  نواز شریف اس کی چاپ سن رہے ہیں جو لحظہ لحظہ قریب آتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ن لیگ کی صفوں میں کوئی اضطراب نہیں۔ وقت کے آبِ رواں پر اس کا سفینۂ حیا [..]مزید پڑھیں

  • مولانا فضل الرحمن اور تشدد کی سیاست

    مولانا فضل الرحمن پر لگے ہر الزام کی مضبوط یا کمزور دلیل ہو سکتی ہے مگران کی طرف تشدد کی نسبت کسی طرح ثابت نہیں۔ مولانا پاکستان کے واحد مذہبی سیاست دان ہیں جو تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن کیااس کی ضمانت دی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی غیر متشدد رہیں گے؟ ہمیں معلوم ہے کہ یہ م [..]مزید پڑھیں

  • تحریکِ انصاف کا نوجوان اب کہاں جائے؟

    عمران خان صاحب نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی اعتبار سے متحرک کیا ہے۔ ایسے نوجوان جنہیں سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس عدم دلچسپی کے اسباب متنوع تھے۔ سیاسی عمل اور مباحث سے وہ دور تھے کہ تعلیمی نظام اس کا شعور پیدا کرتا ہے نہ ذوق۔ سماجی سطح پر بھی سیاسی تربیت کا کوئی [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف اور عمران خان

    نواز شریف اور عمران خان، دونوں آج وہ نہیں ہیں جو بیس سال پہلے تھے۔ دونوں ارتقا کے مراحل سے گزرے ہیں۔ نواز شریف حقیقت پسندی سے رومان کی طرف آئے ہیں۔ عمران خان رومان سے حقیقت پسندی کی طرف۔ نواز شریف صاحب کی سیاست کا آغاز، سب جانتے ہیں کہ جنرل ضیاالحق کی چھتری تلے ہوا۔ وہ ایک س [..]مزید پڑھیں