خورشید ندیم

  • قومی ریاست اور سیاسی اسلام

    یہ محض شیعہ سنی تقسیم کا مسئلہ نہیں، ایک مذہبی تعبیر کا معاملہ بھی ہے۔ اس کو ماننے والے شیعہ سنی، دونوں طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ علم کی دنیا میں اس تعبیر کو  ’سیاسی اسلام‘ کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں دو شخصیات اس کی نمائندہ تھیں۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اورجناب رو [..]مزید پڑھیں

  • ملاقات متنازع کیوں بنی؟

    پہلے ایک کامیاب کوشش سے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مسلک کے تنگ نائے میں قید کر دیا گیا۔ پھر پاک فوج میں مسلکی اعتبار سے تقسیم کی سعی کی گئی۔ فیلڈ مارشل صاحب کے ساتھ ملاقات کو مختلف معانی پہنائے گئے۔ بزمِ یار سے لوگ الگ الگ خبریں لائے۔ یہ اگر دانستہ ہے تو بہت تشویشناک ہے۔ ملاقات م� [..]مزید پڑھیں

  • ظلم اورہمارا نظامِ اخلاق

    جب عالمی نظام ناکارہ اور بے بس ہو جائے، دنیا میں ایک قوت کا غلبہ ہو جو شتر بے مہار کی طرح ساری زمین کو اپنی چراہ گاہ سمجھ لے۔ جب ایک ملک کے حکمران کو اس کی اہلیہ کے ساتھ خواب گاہ سے اغوا کر کے زنداں میں بند کر دیا جائے، جب ایک ریاست کے پیشوا کو اس کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا جائے او� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • احتجاج پسند اہلِ مذہب کے نام

    جب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا آغاز ہوا ہے پاکستان کی ایک مذہبی سیاسی جماعت اور فرقہ پرستوں نے پاکستان کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ میں اسلام آباد میں رہتا ہوں۔ احتجاج پسندوں کے شر سے بچنے کے لیے شہر کے بڑے راہ گزر اکثر بند رہتے ہیں۔ بالخصوص جمعہ اور اتوارکو۔  متبا� [..]مزید پڑھیں

  • فرقہ پرستوں کے شر سے ہوشیار!

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ فرقہ پرستوں نے علی خامنہ ای شہید کو شیعہ بنا کر چھوڑا۔ جس کے منہ میں زبان ہے وہ آل سعود پر تبرا کر رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں قلم ہے وہ گالیاں دے رہا ہے۔ ایک بار پھر ’کربلا بمقابلہ امت‘ کا مقدمہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ریاست پاکستان کو بھی دھمکی دینے لگے [..]مزید پڑھیں

  • صرف دس برس!

    دس برس،جی ہاں ہمیں دس برس کی ضرورت ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ ہمارا اندازِ فکر بدل جائے۔ہم نے گریہ کیا۔ ہم نے مرثیہ پڑھا۔ ہم نے احتجاج کیا۔ ہم نے کراچی اور گلگت سکردو میں، حسبِ توفیق مقتل بھی آباد کر لیے۔  اب ہمیں رکنا اور سوچنا ہے کہ عمر بھر گریہ کیا جا سکتا ہے نہ احتجاج۔ جن معاش [..]مزید پڑھیں

  • ہم اس بحران سے کیسے نکلیں؟

    راشد شاز صاحب اور جناب جاوید احمد غامدی... برصغیر کے دو صاحبانِ علم نے اس بحران میں ہماری دادرسی کی۔ ایک نے مسئلے کی تفہیم میں، دوسرے نے مسئلے کے حل کے لیے لائحہ عمل کی تشکیل میں۔ میں نے دونوں سے استفادہ کیا ہے اور پھر اس تنقیدی شعور کو بروئے کار لانے کی سعی کی ہے جو قدرت نے ہم سب ک [..]مزید پڑھیں

  • علی خامنہ ای کا تشیع اور ہمارا تاریخی شعور

    علی خامنہ ای شیعہ نہیں تھے۔ گرفتارانِ ابوبکرؓ و علیؓ کو شاید اس کی خبر نہیں ہو سکی۔ہمارا تاریخی شعور ایک بار پھر عرصۂ آزمائش میں ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں وقت نے کئی بار ہمارے دروازے پر دستک دی اور ہمارے تاریخی شعور کو آزمایا۔ کبھی ہم پوری طرح کامیاب رہے، کبھی یہ کامیابی جزوی � [..]مزید پڑھیں

  • افغانستان اور مولانا فضل الرحمن

    ’پاکستان اپنے شہریوں اور جوانوں کی شہادتیں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ اپنے شہید جوانوں کی تصاویر دیکھ کر لہو کھول اٹھتا ہے‘۔ افغانستان کی حکومت کو یہ بات کون باور کرا سکتا ہے؟ کیا اس سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا نام لیا جا سکتا ہے؟ سب سے اہم کردار تو حکومت کا ہو س [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی جماعت یا فورس؟

    اور اب ’رہائی فورس‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ’اس فورم سے خان صاحب کی رہائی کیلئے آئینی جدوجہد کی جائے گی‘۔ جواب میں کہا جا سکتا ہے: یہ جدوجہد تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیوں نہیں؟ ایسے سوالوں کے جواب افراد نہیں، تاریخ کے پا س ہوتے ہیں۔ � [..]مزید پڑھیں