خورشید ندیم

  • لال مسجد اور مسجد کا دینی تصور

    مسجد رزم گاہ میں بدل جائے تو جان لینا چاہیے کہ ہمارے فہمِ دین میں بنیادی خلل واقع ہو گیا ہے۔ چند روز پہلے اسلام آباد کی لال مسجد کے قریب سے گزرا تو آزردگی نے گھیر لیا۔ معلوم ہوتا تھا مسجد نہیں کوئی قلعہ ہے۔ چاروں طرف با وردی سپاہی، خاردار تار اور خوف کی فضا۔ باہر کا یہ منظر، ا [..]مزید پڑھیں

  • نئی نسل سے مکالمہ

    خیال ہوا کہ اہلِ دانش کو اس جانب متوجہ کیا جائے۔ ان کے قلم اس موضوع کے لیے رواں ہوں اور ان کی خوش گفتاری اس کام آئے مگر یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔ لکھنے اور بولنے والوں کی اپنی ترجیحات ہیں۔ ان کے نزدیک کچھ دیگر موضوعات زیادہ توجہ طلب تھے۔ کسی نے اس موضوع کو اگر � [..]مزید پڑھیں

  • برصغیر اور فسطائیت

    جمہوریت ہی میں معاشروں کی بقا کا راز مضمر ہے، فسطائیت میں نہیں۔ دلی کے انتخابات نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ فسطائیت، انتہا پسندی کی ایک صورت ہے۔ جب لوگ حبِ عاجلہ میں مبتلا ہو کر، کسی بَچھڑے کو خدا مان لیں تو فسطائیت وجود میں آتی ہے۔ خدائی، نمرود ہی کی کیوں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • واہمے اور مغالطے

    بہت سے واہمے (Myths) ہیں جو ہم نے پال رکھے ہیں۔ بہت سے مغالطے ہیں، ہم جن میں مبتلا ہیں۔ وقت ایک شفیق استاد کی طرح ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے۔ کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے؟ مثال کے طور پر: 1۔ ریاست سماج پر مقدم ہے۔ سیاست درست خطوط پر استوار ہو جائے تو معاشرہ سنور جاتا ہے۔ 2۔ اصلاح کا سف� [..]مزید پڑھیں

  • آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر

    اہلِ سیاست میں مسیحا کی تلاش کارِ عبث ہے۔ لکھنے والے کیلئے مگر کوئی راہِ فرار نہیں۔ لوگ اِسی کے خوگر ہیں کہ اہلِ سیاست کے بارے میں سنیں اور پڑھیں۔ خیر خواہ توجہ دلاتے ہیں: ’سیاست کی گندگی‘ میں کیا پڑا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان میں کیا رکھا ہے؟ انہیں چھوڑیے کہ اہم تر مسا� [..]مزید پڑھیں

  • کرپشن سے کرپشن تک!

    عوامی تاثر یہ ہے کہ کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جملے میں اصل اہمیت  کرپشن کی ہے یا تاثر کی؟ حکومت اس تاثر کو درست نہیں سمجھتی۔ خان صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت تاریخ کی شفاف ترین حکومت ہے۔ اس دعوے کو اگر درست مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بعض اوقات قائم تاثر حقائ [..]مزید پڑھیں

  • تصوف اور گٹر کو ایک ساتھ باندھتے خان صاحب !

    زندگی تضادات کے ساتھ ثمر بار نہیں ہوتی۔ حکمران، آج کے ہوں یا کل کے، اس بات کو کبھی سمجھ نہیں پائے۔ وہ تضادات کے ساتھ نباہ چاہتے ہیں۔ اور اگر اس کے ساتھ انہیںنرگسیت کا آسیب بھی چمٹ جائے تو پھر حکمرانی کے وہ مظاہر سامنے آتے ہیں جو ہم اِن دنوں دیکھ رہے ہیں۔ خان صاحب نے ایک ساتھ [..]مزید پڑھیں

  • مکالمہ ناگزیر ہے!

    مکالمہ ضروری ہے لیکن کن کے مابین؟ ذوالفقار چیمہ صاحب کا تعارف صرف یہ نہیں کہ وہ ایک مثالی پولیس افسر تھے۔ ان کی ایک وجۂ شہرت علم دوستی بھی ہے۔ وہ علمِ نافع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسا علم جو قومی معاملات کا قابلِ عمل ، پائیدار اور تہذیبی قدروں سے ہم آہنگ حل دے سکے۔  اس سوچ ک� [..]مزید پڑھیں

  • بوٹ سے تہمد تک!

    ایک ٹی وی ٹاک شو میں، بوٹ کے ساتھ فیصل واوڈا صاحب کی رونمائی، اُس راستے کا ایک اہم پڑاؤ ہے، رخشِ سیاست جس پر سرپٹ دوڑے جا رہا ہے۔ میں اس کے بعد آنے والے پڑاؤ کا منتظر ہوں جب لوگ تہمد (تہ بند) باندھ کر ٹاک شوز میں شریک ہوں گے اور حسبِ ضرورت اس چار گرہ کپڑے کے تکلف سے بھی آزاد ہو [..]مزید پڑھیں