خورشید ندیم

  • کنٹینر سے کنٹینر تک!

    اگر عمران خان اور اُن کے سرپرست چاہتے تو موجود سیاسی بندوبست قائم رہ سکتا تھا۔ ہم سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکتے تھے۔’آزادی مارچ‘ اپنے جوبن پر ہے، جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا کنٹینر قومی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو سمیت سب سیاسی جم [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف: فرد سے علامت تک

    نواز شریف اب ایک فرد نہیں، ایک علامت کا نام ہے: مزاحمت کی علامت۔ یہ عام لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں کوئی ایک واقعہ، ایک نعرہ مستانہ، فرد سے علامت بنا دیتا ہے۔ تاریخ کے کسی موڑ پر وہ جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ماہ و سال سے اٹھ جاتے ہیں۔ پھر تاریخ انہیں اپنے آغوش میں لے لیتی � [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کے مقتل میں کھڑے نوازشریف

    نواز شریف سیاست کے مقتل میں کھڑے ہیں اور ن لیگ وقت کی عدالت میں۔ایک طرف نشترِ قاتل سے قطرہ قطرہ موت ٹپک اور رگِ جاں میں اتر رہی ہے۔  نواز شریف اس کی چاپ سن رہے ہیں جو لحظہ لحظہ قریب آتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ن لیگ کی صفوں میں کوئی اضطراب نہیں۔ وقت کے آبِ رواں پر اس کا سفینۂ حیا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مولانا فضل الرحمن اور تشدد کی سیاست

    مولانا فضل الرحمن پر لگے ہر الزام کی مضبوط یا کمزور دلیل ہو سکتی ہے مگران کی طرف تشدد کی نسبت کسی طرح ثابت نہیں۔ مولانا پاکستان کے واحد مذہبی سیاست دان ہیں جو تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن کیااس کی ضمانت دی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی غیر متشدد رہیں گے؟ ہمیں معلوم ہے کہ یہ م [..]مزید پڑھیں

  • تحریکِ انصاف کا نوجوان اب کہاں جائے؟

    عمران خان صاحب نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی اعتبار سے متحرک کیا ہے۔ ایسے نوجوان جنہیں سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس عدم دلچسپی کے اسباب متنوع تھے۔ سیاسی عمل اور مباحث سے وہ دور تھے کہ تعلیمی نظام اس کا شعور پیدا کرتا ہے نہ ذوق۔ سماجی سطح پر بھی سیاسی تربیت کا کوئی [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف اور عمران خان

    نواز شریف اور عمران خان، دونوں آج وہ نہیں ہیں جو بیس سال پہلے تھے۔ دونوں ارتقا کے مراحل سے گزرے ہیں۔ نواز شریف حقیقت پسندی سے رومان کی طرف آئے ہیں۔ عمران خان رومان سے حقیقت پسندی کی طرف۔ نواز شریف صاحب کی سیاست کا آغاز، سب جانتے ہیں کہ جنرل ضیاالحق کی چھتری تلے ہوا۔ وہ ایک س [..]مزید پڑھیں

  • آزادی مارچ: امکانات اور خدشات

    ایک عجیب و غریب حکومت کا ہمیں سامنا ہے۔ اس کارکردگی کے ساتھ، جب سماج کا ہر طبقہ اس سے نالاں اور آہ و فغاں کر رہا ہے، حکومت مخالفین کو دعوتِ مبارزت دے رہی ہے۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں حکومت مخالف تحریک اٹھانے سے گریزاں ہیں، مگر حکومت سرتوڑ کوشش میں ہے کہ یہ جلد از جلد مولانا ف� [..]مزید پڑھیں

  • تقریر کو میرٹ پر دیکھیں

    تقریر افراط و تفریط کی نذر ہو گئی ہے۔ تعصب اور نیم خواندگی کا نتیجہ، اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟ ایک طرف سے یہ خبر آ رہی ہے کہ انسانی تاریخ میں ‘پہلی مرتبہ‘ ایک عالمی فورم پر اسلام اور کشمیر کا مقدمہ اتنے مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی نہیں، آئندہ بھی یہ ممکن نہیں رہا [..]مزید پڑھیں

  • کیا مولانا کو روکا جا سکتا ہے؟

    تما م ٹیسٹ یہ بتا رہے ہیں کہ کینسر کا ایک مریض آخری سٹیج پر ہے۔ اگر کوئی اسے قتل کرنا چاہے تو آپ ایسے شخص کو کیا مشورہ دیں گے؟ یہی کہ ”جب آسمانی قوتیں آپ کی تائید میں کھڑی ہیں اور کارکنانِ قضا و قدر آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں تو پھر آپ اپنے ہاتھ اس کے لہو سے کیوں [..]مزید پڑھیں

  • کیا عبایہ ایک مذہبی مسئلہ ہے؟

    لشکری میدان میں اتر چکے۔ طبلِ جنگ بج رہا ہے۔ تلواریں بے نیام ہو چکیں۔ اس بار معرکہ اس پر برپا ہے کہ عبایہ بالجبر پہنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ دیکھیے میدان کس کے ہاتھ رہتا ہے۔ ایسا منظرنامہ کب تشکیل پاتا ہے؟ نقطہ نظر کا اختلاف معیوب نہیں بلکہ مطلوب ہے۔ اسی سے انسان کا سماجی ارتقا [..]مزید پڑھیں