خورشید ندیم

  • کورونا اور مذہب

    کورونا وائرس نے مذہب کا مقدمہ مضبوط کیا ہے یا کمزور؟ مذہب کا ایک المیہ یہ ہے کہ لوگ پہلے اس کا ایک خود ساختہ تصور قائم کرتے اور پھر اس کی بنیاد پر اسے ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ نادان دوست بھی اس کارِ خیر میں اُن کی بھرپور معاونت کرتے ہیں، جب دنیا کی تقدیر کو کسی مردِ درویش کی ایک نگ� [..]مزید پڑھیں

  • سجدہ اور سیاست

    سجدہ کیا ہے؟ عقیدے اور مذہب سے پھوٹے ہوئے احساسِ عبادت کی تجسیم۔ ایک اَن دیکھی ہستی پر ایمان کا بے کراں جذبہ، جو اظہار کے لیے مچل اٹھے توایک عمل میں ڈھل جائے۔ ایک ایسی ہستی کا خیال جو خالق ہے اور جس کی نعمتیں بے شمار۔ اس کی جلالت کا احساس اوراس کے احسانات کا بار، جب ایک انسان [..]مزید پڑھیں

  • لال مسجد اور مسجد کا دینی تصور

    مسجد رزم گاہ میں بدل جائے تو جان لینا چاہیے کہ ہمارے فہمِ دین میں بنیادی خلل واقع ہو گیا ہے۔ چند روز پہلے اسلام آباد کی لال مسجد کے قریب سے گزرا تو آزردگی نے گھیر لیا۔ معلوم ہوتا تھا مسجد نہیں کوئی قلعہ ہے۔ چاروں طرف با وردی سپاہی، خاردار تار اور خوف کی فضا۔ باہر کا یہ منظر، ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • نئی نسل سے مکالمہ

    خیال ہوا کہ اہلِ دانش کو اس جانب متوجہ کیا جائے۔ ان کے قلم اس موضوع کے لیے رواں ہوں اور ان کی خوش گفتاری اس کام آئے مگر یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔ لکھنے اور بولنے والوں کی اپنی ترجیحات ہیں۔ ان کے نزدیک کچھ دیگر موضوعات زیادہ توجہ طلب تھے۔ کسی نے اس موضوع کو اگر � [..]مزید پڑھیں

  • برصغیر اور فسطائیت

    جمہوریت ہی میں معاشروں کی بقا کا راز مضمر ہے، فسطائیت میں نہیں۔ دلی کے انتخابات نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ فسطائیت، انتہا پسندی کی ایک صورت ہے۔ جب لوگ حبِ عاجلہ میں مبتلا ہو کر، کسی بَچھڑے کو خدا مان لیں تو فسطائیت وجود میں آتی ہے۔ خدائی، نمرود ہی کی کیوں [..]مزید پڑھیں

  • واہمے اور مغالطے

    بہت سے واہمے (Myths) ہیں جو ہم نے پال رکھے ہیں۔ بہت سے مغالطے ہیں، ہم جن میں مبتلا ہیں۔ وقت ایک شفیق استاد کی طرح ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے۔ کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے؟ مثال کے طور پر: 1۔ ریاست سماج پر مقدم ہے۔ سیاست درست خطوط پر استوار ہو جائے تو معاشرہ سنور جاتا ہے۔ 2۔ اصلاح کا سف� [..]مزید پڑھیں

  • آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر

    اہلِ سیاست میں مسیحا کی تلاش کارِ عبث ہے۔ لکھنے والے کیلئے مگر کوئی راہِ فرار نہیں۔ لوگ اِسی کے خوگر ہیں کہ اہلِ سیاست کے بارے میں سنیں اور پڑھیں۔ خیر خواہ توجہ دلاتے ہیں: ’سیاست کی گندگی‘ میں کیا پڑا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان میں کیا رکھا ہے؟ انہیں چھوڑیے کہ اہم تر مسا� [..]مزید پڑھیں

  • کرپشن سے کرپشن تک!

    عوامی تاثر یہ ہے کہ کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جملے میں اصل اہمیت  کرپشن کی ہے یا تاثر کی؟ حکومت اس تاثر کو درست نہیں سمجھتی۔ خان صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت تاریخ کی شفاف ترین حکومت ہے۔ اس دعوے کو اگر درست مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بعض اوقات قائم تاثر حقائ [..]مزید پڑھیں

  • تصوف اور گٹر کو ایک ساتھ باندھتے خان صاحب !

    زندگی تضادات کے ساتھ ثمر بار نہیں ہوتی۔ حکمران، آج کے ہوں یا کل کے، اس بات کو کبھی سمجھ نہیں پائے۔ وہ تضادات کے ساتھ نباہ چاہتے ہیں۔ اور اگر اس کے ساتھ انہیںنرگسیت کا آسیب بھی چمٹ جائے تو پھر حکمرانی کے وہ مظاہر سامنے آتے ہیں جو ہم اِن دنوں دیکھ رہے ہیں۔ خان صاحب نے ایک ساتھ [..]مزید پڑھیں