خورشید ندیم

  • ٹرمپ، مودی اور خان صاحب

    اکیسویں صدی میں، سیاست کے افق پر نئی طرز کے سیاست دانوں کا ظہور ہوا ہے۔ سیاسیات کی زبان میں انہیں ”مقبول‘‘ (Populist) کہا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ، نریندر مودی اور عمران خان اس طرزِ سیاست کے نمائندے ہیں۔ اہل سیاست کے اس طبقے کی چندخصوصیات ہیں۔مثال کے طور پر یہ عوامی سطح پر ایک قا� [..]مزید پڑھیں

  • جغرافیہ کیسے بدلتا ہے؟

    5 اگست 2019  کو تاریخ بدلی ہے یا جغرافیہ؟ کیا بھارت، پاکستان یا کوئی ایک ملک، تنہا تاریخ و جغرافیہ بدلنے پر قادر ہے؟ قوت و اقتدار کے کھیل میں اخلاقیات کا کیا کوئی کردار ہے؟ واقعات، عالمِ اسباب کے تابع ہیں یا ماورائے اسباب بھی کوئی نظام ہے جو واقعات کا رخ متعین کرتا ہے؟ مسئلہ [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت: خاتمہ بالخیر!

    پاکستان میں جمہوریت کا کوئی مستقبل نہیں۔ یہ نوشتۂ دیوار ہے۔ یکم اگست کو سینیٹ میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد مجھے اس باب میں شرحِ صدر ہو گیا ہے۔ امید کے چراغ روشن رہنے چاہئیں۔ اِن کی لو میں سیاسی جدوجہد بھی جاری رہنی چاہیے۔ اس بیانیے کی بھرپور تائید کے ساتھ میرا تجزیہ یہی ہے کہ آد [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مدرسہ اور ’مدرسہ ڈسکورسز‘

    یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں دینی مدارس کے حوالے سے دو مختلف سرگرمیاں، ایک ساتھ جاری تھیں۔ ایک سرگرمی جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے ساتھ دینی مدارس کے ذمہ داران کی سات گھنٹے پر محیط ملاقات تھی۔  دوسری سرگرمی کا تعلق ‘مدرسہ ڈسکورسز‘ سے تھا۔ جنرل ص [..]مزید پڑھیں

  • فیصلے کی گھڑی آ پہنچی

    سیاسی بصیرت کیا ہے؟ متفرق واقعات میں جاری روحِ عصر کی تلاش۔ کوئی واقعہ منفرد نہیں ہوتا۔ تجزیہ یہی ہے کہ ان میں ربط کو واضح کر دیا جائے۔ جو بات اخبار کے تجزیہ نگار کو ایک عام قاری سے ممتاز بناتی ہے، وہ یہی بصیرت ہے جو واقعات میں ربط ڈھونڈتی اور اسے روحِ عصر کی روشنی میں بیان کر [..]مزید پڑھیں

  • یہ سب ہمارے بچے ہیں!

    معصوم بچوں کے لاشے، فلسطین میں گریں یا افغانستان میں، ان کا لہو ایک جیسی حرمت رکھتا ہے۔ یہ کسی ڈرون حملے میں مارے جائیں یا کسی بم دھماکے میں، ان کا قتل ایک جیسا جرم ہے اور قاتل ایک جیسے مجرم۔ یہی اللہ کا قانون کہتا ہے اور یہی انسانی بصیرت کا حاصل ہے۔ افسوس انسانی تعصبات پر جو قات [..]مزید پڑھیں

  • آج کا ادیب اور ’نیا پاکستان‘

    ’نیا پاکستان‘ بن رہا ہے مگر مجھے اپنا شاعر اور ادیب کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ وہ اِس کے حق میں ہے تو تشکیلی عمل کا حصہ کیوں نہیں؟ خلاف ہے تو مزاحمت کیوں نہیں کرتا؟ جب اصل پاکستان بن رہا تھا، تب تو ایسا نہیں تھا۔ بر صغیر کا شاعر اور ادیب تحریکِ پاکستان کا حصہ تھا یا مزاحمتی � [..]مزید پڑھیں

  • فسطائیت کی دستک

    حکومت کے ساتھ تعاون کے باب میں، اپوزیشن ہر اخلاقی ذمہ داری سے آزاد ہو چکی۔ یہ جمہوریت نہیں، فسطائیت ہے۔ اس کے خلاف اٹھنا اپوزیشن پر فرض ہو چکا۔ یہ پہلی حکومت ہے جس نے انتخابات کے بعد بھی، انتخابی ہیجان کو برقرار رکھاہے۔ ایک سوچی سمجھی حکمت ِ عملی کے ساتھ، اس تلخی کو نہ صرف باق� [..]مزید پڑھیں

  • تجزیے کا تجزیہ

    ہمارا تجزیہ خام کیوں ہے؟ گزشتہ دنوں سیگمنڈ فرائیڈ کے چند مضامین پڑھے۔ وہی فرائیڈ، جسے بابائے نفسیات کہا گیا ہے۔ ایرک فرام کی ‘خرد مند معاشرہ، (The Sane Society) کو بھی ایک بار پھر دیکھا۔ فرائیڈ نے ‘پاپولزم‘ کو موضوع بنایا جو عہدِ حاضرکی سیاست کا بھی اہم مسئلہ ہے۔ قضیے کی بن [..]مزید پڑھیں