خورشید ندیم

  • حکومت اور مفتی منیب الرحمن

    مفتی منیب الرحمن صاحب کے قضیے میں حکومت نے جو طرزِ عمل اختیار کیا، واقعہ یہ ہے کہ میکیاولی ہوتا تو اِن خواتین و حضرات کے دستِ مبارک پر بیعت کر لیتا۔ ’دی پرنس‘ کا نیا ایڈیشن ترتیب دیتا اور اس کا انتساب حکمرانوں کے نام کرتا۔ تاریخ میں پہلی بار، ایک معاملے میں اربابِ اقتدار [..]مزید پڑھیں

  • عید کب ہوگی؟

    رویتِ ہلا ل پر سیر حاصل گفتگو ہو چکی۔ آئیے کسی حل کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس وقت دو آرا ہمارے سامنے ہیں۔ ایک یہ کہ چاند کی رویت ایک دینی مسئلہ ہے۔  لہٰذا اس باب میں علمائے دین کا فرمایا ہی مستند ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق دین سے نہیں فلکیات اورکائناتی علوم سے ہے۔  لہٰذا ع� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • رمضان اور شیطان

    معاشرے میں خیر کم نہیں ہے۔ یہ خیر مگر کسی مربوط سماجی تبدیلی کو جنم نہیں دے رہا۔ جیسے اقوالِ زریں کا ایک مجموعہ، جس سے کسی مرتب فکر کا استخراج مشکل ہو جائے۔رمضان کے دنوں میں یہ احساس بڑھ جاتا ہے۔ ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ وفورِ جذبات سے دل کی دھڑکن سنبھل نہیں پاتی۔ ا� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانیوں کے مغالطے

    خبر تو ٹی وی نے چھین لی۔ اخبار کے دامن میں اگرچہ حروفِ مطبوعہ کی کمی نہیں مگر قابلِ مطالعہ تحریروں کے لیے انتخاب کر نا پڑتا ہے۔ عام طورپر لوگ، ایک تجربے کے بعد پسندیدہ لکھاریوں کی ایک فہرست بنا لیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک فہرست میں نے بھی بنارکھی ہے۔ میں اخبارات میں لکھنے والوں کو د� [..]مزید پڑھیں

  • پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

    مقابلہ اب یہ ہے کہ کون زیادہ دریدہ دہن ہے۔ تبدیلی یہ آئی ہے کہ عمران خان صاحب نے اس انفرادی عمل کو ادارے کی صورت دے دی۔ پاکستانی سیاست میں اس کا با جماعت اظہار، تحریکِ انصاف سے پہلے نہیں تھا۔ خان صاحب کی جماعت نے اسے سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا اور پھر یہی سیاست کا چلن ٹھہرا۔ [..]مزید پڑھیں

  • تبدیلی کا سفر اور اس زادِ راہ کے ساتھ؟

    کاغذ کے پھول سر پہ سجا کرچلی حیات نکلی برونِ شہر تو بارش نے آ لیا تحریکِ انصاف پرحکومت کی تہمت باقی ہے، اقتدار تو جا چکا۔ کچھ دیرکے لیے خوشی ہوئی کہ میرا تجزبہ غلط نہیں تھا مگر بہت جلد آزردگی نے آ لیا۔ دکھ اور ملال آجائیں تو جلد جانے کا نام نہیں لیتے۔ مہمانوں نے خانۂ دل میں اس ط [..]مزید پڑھیں

  • قصور کس کا؟

    نیا مقدمہ یہ ہے کہ نو ماہ کی ناکامیوں کا انتساب سابقہ حکومت کے نام ہے۔ سابق حکمران معیشت کے پاؤں میں قرض کی وہ بیڑیاں ڈال گئے ہیں کہ چند قدم چلنا دشوار ہے۔ ہم نے تو مہمیز دینے کی کوشش کی مگر رخشِ حکومت ہے کہ مانتا نہیں۔ یہ اعترافِ عجز ہے، اعترافِ شکست ہے یا نا اہلی کا اعلانِ عام۔ [..]مزید پڑھیں

  • بلیک ہول – سائنس اور مذہب

    جو نا قابلِ دید تھا، سائنس نے اسے قابلِ دید بنا دیا۔ سائنس دان کی آنکھیں مسرت سے بھیگ گئیں جب اس نے پہلی بار بلیک ہول کی تصویر دیکھی۔ ”ہم نے وہ کچھ حاصل کر لیا ہے جسے ایک نسل پہلے نا ممکن سمجھا جاتا تھا“ سائنس دان نے انکشاف کیا۔ اہلِ سائنس کہتے ہیں کہ کہکشاؤں کے مرکز میں [..]مزید پڑھیں

  • ’اسلامی‘ صدارتی نظام

    پہلے بت گری، پھر بت شکنی۔ کبھی افراد کا بت، کبھی نظاموں کا بت۔ ستر برس سے ایک کاروبار جاری ہے۔ آج ہمارے سامنے پتھروں کا ایک ڈھیر ہے۔ سنا ہے اب نئے بت تراشے جائیں گے۔ خسارے کی یہ تجارت آخر کب تک؟ مذہب، اخلاق اور صدیوں کا تعامل۔ کوئی چاہے تو انہیں چیلنج کر سکتا ہے۔ دنیا میں ملح� [..]مزید پڑھیں