خورشید ندیم

  • مکالمہ ناگزیر ہے!

    مکالمہ ضروری ہے لیکن کن کے مابین؟ ذوالفقار چیمہ صاحب کا تعارف صرف یہ نہیں کہ وہ ایک مثالی پولیس افسر تھے۔ ان کی ایک وجۂ شہرت علم دوستی بھی ہے۔ وہ علمِ نافع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسا علم جو قومی معاملات کا قابلِ عمل ، پائیدار اور تہذیبی قدروں سے ہم آہنگ حل دے سکے۔  اس سوچ ک� [..]مزید پڑھیں

  • بوٹ سے تہمد تک!

    ایک ٹی وی ٹاک شو میں، بوٹ کے ساتھ فیصل واوڈا صاحب کی رونمائی، اُس راستے کا ایک اہم پڑاؤ ہے، رخشِ سیاست جس پر سرپٹ دوڑے جا رہا ہے۔ میں اس کے بعد آنے والے پڑاؤ کا منتظر ہوں جب لوگ تہمد (تہ بند) باندھ کر ٹاک شوز میں شریک ہوں گے اور حسبِ ضرورت اس چار گرہ کپڑے کے تکلف سے بھی آزاد ہو [..]مزید پڑھیں

  • نظریاتی کونسل اور فواد چوہدری صاحب

    لا علمی فرد اور حقیقت کے مابین ایک پردہ حائل کر دیتی ہے۔ یوںغلط فہمی کو جگہ مل جاتی ہے۔ یہ لا علمی اگر کسی ایسے فرد کو لاحق ہو جو کسی حکومتی منصب پر فائز ہے تو اس کا حجاب گویا پورے معاشرے کے لیے پردہ بن جاتا ہے۔ جناب فواد چوہدری بھی اسلامی نظریاتی کونسل کے باب میں لا علمی کا شکار ہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سیاسی رومان کا المناک انجام

    یہ خوش گمانیوں کا موسم تھا جو رخصت ہوا۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ نواز شریف اور عمران خان سے دو رومان وابستہ ہوئے۔ ایک عوام کی حاکمیت کا، دوسرا روایتی سیاست سے نجات کا۔ دونوں کو حقیقت پسندی کی سنگلاخ زمین پر ننگے پاؤں چلنا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں آبلہ پائی کا شکار ہو گئے۔ نئے س� [..]مزید پڑھیں

  • اصل بحث کچھ اور ہے

    لوگ فیصلے میں درج ایک پیرا گراف میں الجھ گئے جو فیصلہ بھی نہیں، ایک رائے ہے، بالکل ایسے ہی جیسے بری کر دینے کی رائے۔ یوں حاشیہ متن پر غالب آ گیا۔ آئین کا احترام اور ریاستی اداروں کا احترام، باہم متصادم تصورات نہیں ہیں۔ فردِ واحد کے کسی جرم کے لیے، کوئی ادارہ اِس وجہ سے جواب د [..]مزید پڑھیں

  • 16دسمبر اس قوم کے لیے یومِ تذکیر ہے

    16  دسمبر آتا ہے تو میں سوچتا ہوں: یہ کیسے کیسے اوہام ہیں جو ہم نے پال رکھے ہیں؟ خوش گمانیوں اور تاریخی عمل سے لا علمی کا یہ کیسا حصار ہے جس نے ہمیں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے؟ مثال کے طور پر یہ واہمہ (myth) کہ پاکستان کا قیام ایک خدائی فیصلہ ہے۔ اس کی حفاظت بھی خدا کے ذمہ ہے۔ دنیا ک� [..]مزید پڑھیں

  • ہم سب وکیل ہیں!

    آج ہم سب ’وکیل‘ ہے۔ ہم ’وکیلوں‘ کے معاشرے میں زندہ ہیں۔ عالم وکیل ہے اور سیاست دان بھی۔ صحافی وکیل ہے اور تاجر بھی۔ استاد وکیل ہے اور شاگرد بھی۔ یہ ریاست نہیں، معاشرہ ہے جو برباد ہو گیا۔ ریاست کی بربادی تو اس کا ایک ناگزیر نتیجہ ہے۔ ایک مدت سے گاڑی کو گھوڑے کے آگے � [..]مزید پڑھیں

  • مولانا اب کیا کریں گے؟

    مولانا فضل الرحمن کے موقف سے پوری طرح متفق ہونے کے باوجود، میرے لیے ان کی حکمتِ عملی سے پوری طرح اتفاق کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ مولانا کا موقف دو اہم نکات پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ ان کے نتیجے میں بننے والی حکومت کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔ وہ اسے قب� [..]مزید پڑھیں

  • کنٹینر سے کنٹینر تک!

    اگر عمران خان اور اُن کے سرپرست چاہتے تو موجود سیاسی بندوبست قائم رہ سکتا تھا۔ ہم سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکتے تھے۔’آزادی مارچ‘ اپنے جوبن پر ہے، جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا کنٹینر قومی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو سمیت سب سیاسی جم [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف: فرد سے علامت تک

    نواز شریف اب ایک فرد نہیں، ایک علامت کا نام ہے: مزاحمت کی علامت۔ یہ عام لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں کوئی ایک واقعہ، ایک نعرہ مستانہ، فرد سے علامت بنا دیتا ہے۔ تاریخ کے کسی موڑ پر وہ جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ماہ و سال سے اٹھ جاتے ہیں۔ پھر تاریخ انہیں اپنے آغوش میں لے لیتی � [..]مزید پڑھیں