خورشید ندیم

  • تبدیلی کا سفر اور اس زادِ راہ کے ساتھ؟

    کاغذ کے پھول سر پہ سجا کرچلی حیات نکلی برونِ شہر تو بارش نے آ لیا تحریکِ انصاف پرحکومت کی تہمت باقی ہے، اقتدار تو جا چکا۔ کچھ دیرکے لیے خوشی ہوئی کہ میرا تجزبہ غلط نہیں تھا مگر بہت جلد آزردگی نے آ لیا۔ دکھ اور ملال آجائیں تو جلد جانے کا نام نہیں لیتے۔ مہمانوں نے خانۂ دل میں اس ط [..]مزید پڑھیں

  • قصور کس کا؟

    نیا مقدمہ یہ ہے کہ نو ماہ کی ناکامیوں کا انتساب سابقہ حکومت کے نام ہے۔ سابق حکمران معیشت کے پاؤں میں قرض کی وہ بیڑیاں ڈال گئے ہیں کہ چند قدم چلنا دشوار ہے۔ ہم نے تو مہمیز دینے کی کوشش کی مگر رخشِ حکومت ہے کہ مانتا نہیں۔ یہ اعترافِ عجز ہے، اعترافِ شکست ہے یا نا اہلی کا اعلانِ عام۔ [..]مزید پڑھیں

  • بلیک ہول – سائنس اور مذہب

    جو نا قابلِ دید تھا، سائنس نے اسے قابلِ دید بنا دیا۔ سائنس دان کی آنکھیں مسرت سے بھیگ گئیں جب اس نے پہلی بار بلیک ہول کی تصویر دیکھی۔ ”ہم نے وہ کچھ حاصل کر لیا ہے جسے ایک نسل پہلے نا ممکن سمجھا جاتا تھا“ سائنس دان نے انکشاف کیا۔ اہلِ سائنس کہتے ہیں کہ کہکشاؤں کے مرکز میں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ’اسلامی‘ صدارتی نظام

    پہلے بت گری، پھر بت شکنی۔ کبھی افراد کا بت، کبھی نظاموں کا بت۔ ستر برس سے ایک کاروبار جاری ہے۔ آج ہمارے سامنے پتھروں کا ایک ڈھیر ہے۔ سنا ہے اب نئے بت تراشے جائیں گے۔ خسارے کی یہ تجارت آخر کب تک؟ مذہب، اخلاق اور صدیوں کا تعامل۔ کوئی چاہے تو انہیں چیلنج کر سکتا ہے۔ دنیا میں ملح� [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان اور مہاتیر محمد

    عمران خان جب مہاتیر محمد کوآئیڈلائز کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔مجھے گمان ہوتاہے کہ انہوں نے مہاتیر محمد کی شہرت سن رکھی ہے‘ مگر ان کے سیاسی افکاراورحکمت ِعملی سے پوری طرح واقف نہیں۔دورِ جدید کا کامیاب اقتصادی نظام ایک ہی ہے:سرمایہ داری۔کیپیٹل ازم ۔یہ تحسین یا تائید نہیں‘ [..]مزید پڑھیں