خورشید ندیم

  • بسنت اور ادھورا آدمی

    لاہور کا آسمان کم از کم تین دن کے لیے رنگ برنگی پتنگوں سے ڈھکا رہے گا۔ آفتاب کی کرنوں کو زمین پر نظر ڈالنے کے لیے ادھر اُدھر تانک جھانک کرنا پڑے گی۔ ڈھول کی تھاپ سے اٹھنے والی صدا فلک شگاف نہ سہی،خلا میں تو ضرور گونجے گی۔ یوں جانیے کہ آسمان کو زمین سے ہم کلام ہو نے کے لیے کلچ� [..]مزید پڑھیں

  • 5فروری … یومِ احتساب

    آج کا دن متقاضی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر لکھا جائے۔ اس سے بڑا مسئلہ مگر یہ ہے کہ کیا لکھا جائے؟ ایک سال میں اس مسئلے کے حل کے لیے کون سی ایسی پیش رفت ہوئی ہے کہ اس پر قلم اٹھایا جائے؟ عالمی برادری یا پاکستان کی ریاست نے کیا کوئی نیا حل تجویز کیا ہے جس پر اس سے پہلے بات نہیں ہوئی؟ کیا [..]مزید پڑھیں

  • کالم اور ادب

    اخبار کا کالم، کیا اصنافِ ادب میں شمار کیا جا سکتا ہے؟ ایک دور میں  ’ادبی کالم‘ کو کالموں کے خاندان کا ایک فرد سمجھا جاتا تھا مگر جدا تشخص کے ساتھ۔ اس بیان میں یہ بات مضمر ہے کہ کچھ کالم غیر ادبی بھی ہوتے ہیں۔ اس کی شرح یہ ہے کہ ادبی صفحات اخبار کا ایک مستقل مگر الگ حصہ ت [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایران پر امریکی حملے کا امکان؟

    کیا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟ ایک ہی سوال ہے،دنیا جس کا جواب جاننا چاہتی ہے۔ یہ اور بات کہ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔   اس کا سبب صدر ٹرمپ کی ناقابلِ اعتبار شخصیت ہے۔ ان کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ ان کی دوستی کا کوئی بھروسہ نہ ان کی � [..]مزید پڑھیں

  • بورڈ آف پیس کی رکنیت

    پاکستان کو کیا بورڈ آف پیس کا حصہ بننا چاہیے؟عالمی منظر نامہ ابہام کی گرفت میں ہے۔ اس کا واحد سبب صدر ٹرمپ کی شخصیت ہے۔ خارجہ امور میں ایک حد تک پیش بینی ممکن ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کا تقاضا کیا ہے؟ عرب ایران کشمکش کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ آنے والے دنوں میں ترکیہ [..]مزید پڑھیں

  • جین زی اور بومرز کا قضیہ

    ’ہم نے نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ نہیں کیا... ہم نے نئی نسل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی... ہم نے نوجوانوں کو مایوس کیا...‘  برسوں سے ایک نسل خود کو کوس رہی ہے۔ اعتراضات کے جواب میں سزا یافتہ مجرم کی طر ح سر جھکائے کھڑی ہے۔ اپنے ہاتھ سے اعترافی بیان قلم بند کرتے ہوئے، اپنے لیے خو� [..]مزید پڑھیں

  • قصہ ایک مضمون کا

    پاکستان میں انگریزی زبان کے قابلِ ذکر اخبارات کی تعداد چار ہے۔ ان میں ایک اخبار اشاعت کے اعتبار سے اگر چوتھے نہیں تو تیسرے نمبر پر ہوگا۔ اس کے باقاعدہ قارئین اگر ایک نہیں تو دو ہاتھوں کی انگلیوں پر شمار ہوتے ہوں گے۔ اگر کوئی مبالغہ کرنا چاہے تو اس تعداد کو دگنا کر دے۔  اس اخ� [..]مزید پڑھیں

  • لکھنا تو ہو گا

    ریاست اور سماج ایک ہی موضوع کی گرفت میں ہیں۔ اس نے ہمیں جمود کا شکار کر دیا ہے۔ ہم متحرک دکھائی دیتے ہیں مگر ورزش کی سائیکل پر سوار اس کھلاڑی کی طرح جو کئی میل کا سفر طے کرنے کے باوجود ایک ہی مقام پر کھڑا رہتا ہے۔ بطور کالم نگار، میں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ قائداعظم پر دو کالم لک [..]مزید پڑھیں

  • کارکردگی بمقابلہ بیانیہ

    کارکردگی کیا بیانیے کا توڑ ہو سکتی ہے؟ مریم نواز صاحبہ کا خیال تو یہی ہے۔ آئیے اس خیال کا تجزیہ کرتے ہیں۔کارکردگی اور بیانیے میں فرق یہ ہے کہ کارکردگی کا ثبوت علم بالحواس سے فراہم کیا جا سکتا ہے۔  اگر حواس سلامت ہوں، آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہوں، حسِ شامہ بھی بیدار ہو ت� [..]مزید پڑھیں

  • قائد فراموشی

    مخدومی پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے ایک کتاب لکھی تھی:  ’اقبال فراموشی‘۔ دل چاہتا ہے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے ایک نئی کتاب لکھنے کی فرمائش کروں، جس کا عنوان ہو:  ’قائد فراموشی‘۔ یہ تو بھلا ہو پروفیسر احسن اقبال صاحب کا کہ ’اُڑان پاکستان‘ کیلئے فکرِ � [..]مزید پڑھیں