خورشید ندیم

  • احتجاج پسند اہلِ مذہب کے نام

    جب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا آغاز ہوا ہے پاکستان کی ایک مذہبی سیاسی جماعت اور فرقہ پرستوں نے پاکستان کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ میں اسلام آباد میں رہتا ہوں۔ احتجاج پسندوں کے شر سے بچنے کے لیے شہر کے بڑے راہ گزر اکثر بند رہتے ہیں۔ بالخصوص جمعہ اور اتوارکو۔  متبا� [..]مزید پڑھیں

  • فرقہ پرستوں کے شر سے ہوشیار!

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ فرقہ پرستوں نے علی خامنہ ای شہید کو شیعہ بنا کر چھوڑا۔ جس کے منہ میں زبان ہے وہ آل سعود پر تبرا کر رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں قلم ہے وہ گالیاں دے رہا ہے۔ ایک بار پھر ’کربلا بمقابلہ امت‘ کا مقدمہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ریاست پاکستان کو بھی دھمکی دینے لگے [..]مزید پڑھیں

  • صرف دس برس!

    دس برس،جی ہاں ہمیں دس برس کی ضرورت ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ ہمارا اندازِ فکر بدل جائے۔ہم نے گریہ کیا۔ ہم نے مرثیہ پڑھا۔ ہم نے احتجاج کیا۔ ہم نے کراچی اور گلگت سکردو میں، حسبِ توفیق مقتل بھی آباد کر لیے۔  اب ہمیں رکنا اور سوچنا ہے کہ عمر بھر گریہ کیا جا سکتا ہے نہ احتجاج۔ جن معاش [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہم اس بحران سے کیسے نکلیں؟

    راشد شاز صاحب اور جناب جاوید احمد غامدی... برصغیر کے دو صاحبانِ علم نے اس بحران میں ہماری دادرسی کی۔ ایک نے مسئلے کی تفہیم میں، دوسرے نے مسئلے کے حل کے لیے لائحہ عمل کی تشکیل میں۔ میں نے دونوں سے استفادہ کیا ہے اور پھر اس تنقیدی شعور کو بروئے کار لانے کی سعی کی ہے جو قدرت نے ہم سب ک [..]مزید پڑھیں

  • علی خامنہ ای کا تشیع اور ہمارا تاریخی شعور

    علی خامنہ ای شیعہ نہیں تھے۔ گرفتارانِ ابوبکرؓ و علیؓ کو شاید اس کی خبر نہیں ہو سکی۔ہمارا تاریخی شعور ایک بار پھر عرصۂ آزمائش میں ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں وقت نے کئی بار ہمارے دروازے پر دستک دی اور ہمارے تاریخی شعور کو آزمایا۔ کبھی ہم پوری طرح کامیاب رہے، کبھی یہ کامیابی جزوی � [..]مزید پڑھیں

  • افغانستان اور مولانا فضل الرحمن

    ’پاکستان اپنے شہریوں اور جوانوں کی شہادتیں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ اپنے شہید جوانوں کی تصاویر دیکھ کر لہو کھول اٹھتا ہے‘۔ افغانستان کی حکومت کو یہ بات کون باور کرا سکتا ہے؟ کیا اس سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا نام لیا جا سکتا ہے؟ سب سے اہم کردار تو حکومت کا ہو س [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی جماعت یا فورس؟

    اور اب ’رہائی فورس‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ’اس فورم سے خان صاحب کی رہائی کیلئے آئینی جدوجہد کی جائے گی‘۔ جواب میں کہا جا سکتا ہے: یہ جدوجہد تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیوں نہیں؟ ایسے سوالوں کے جواب افراد نہیں، تاریخ کے پا س ہوتے ہیں۔ � [..]مزید پڑھیں

  • محبانِ اردو کیلئے خوشخبری

    اردو سے محبت رکھنے والوں کے لیے میرے پاس ایک اچھی خبر ہے۔ محبانِ اردو اس زبان کے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ تشویش بے جا نہیں۔ اردو کے ساتھ ہماری نئی نسل کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔ یہ رشتہ اب کچے دھاگے سے بندھا ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ آج کل کے لڑکے لڑکیا [..]مزید پڑھیں

  • تحریک انصاف، آٹھ فروری کے بعد

    تحریک انصاف کب تک احتجاج کے نام پر گناہِ بے لذت کا ارتکاب کرتی رہے گی؟ کیا اس کی صفوں میں کوئی رجلِ رشید باقی ہے؟سیاسی جماعتوں کا ایک بھرم ہوتا ہے۔ جب تک یہ برقرار رہتا ہے ان کا رعب باقی رہتا ہے۔ ریاست اور سیاسی حریف ان کا وزن محسوس کرتے ہیں۔  قیادت صاحبانِ بصیرت کے پاس ہو تو [..]مزید پڑھیں

  • بسنت اور ادھورا آدمی

    لاہور کا آسمان کم از کم تین دن کے لیے رنگ برنگی پتنگوں سے ڈھکا رہے گا۔ آفتاب کی کرنوں کو زمین پر نظر ڈالنے کے لیے ادھر اُدھر تانک جھانک کرنا پڑے گی۔ ڈھول کی تھاپ سے اٹھنے والی صدا فلک شگاف نہ سہی،خلا میں تو ضرور گونجے گی۔ یوں جانیے کہ آسمان کو زمین سے ہم کلام ہو نے کے لیے کلچ� [..]مزید پڑھیں