خورشید ندیم

  • قائد فراموشی

    مخدومی پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے ایک کتاب لکھی تھی:  ’اقبال فراموشی‘۔ دل چاہتا ہے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے ایک نئی کتاب لکھنے کی فرمائش کروں، جس کا عنوان ہو:  ’قائد فراموشی‘۔ یہ تو بھلا ہو پروفیسر احسن اقبال صاحب کا کہ ’اُڑان پاکستان‘ کیلئے فکرِ � [..]مزید پڑھیں

  • فکرِ قائد کی تفہیم میں ابہام کیوں؟

    اسلامی یا سیکولر؟ قائداعظم کا تصورِ پاکستان آج تک واضح نہیں ہو سکا۔ اس کے دو اسباب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس باب میں قائد خودواضح نہیں تھے اور ان سے کوئی دو ٹوک مؤقف مروی نہیں ہے۔ دوسرا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ابہام ہماری فکری پراگندگی کا شاخسانہ ہو۔ پہلا سبب قابلِ قبول نہیں۔ [..]مزید پڑھیں

  • مارگلہ… جنگل کہانی

    اسلام آباد کے فطری حسن اور اس کی پامالی کا قصیدہ اور مرثیہ بہت سوں نے لکھا ہے۔میر انیس کا مقام مگر آصف محمود ہی کے لیے خاص ہے۔ انہوں نے اس کہانی کو لفظوں کے ایسے عَلم کی صورت میں مجسم کر دیا ہے جسے لوگ مدتوں ہاتھوں میں اٹھائے سینہ کوبی کرتے رہیں گے۔ آصف کے کالموں کا مجموعہ می [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تین سماجی مغالطے

    ’ہر امیر آدمی لازم ہے کہ بددیانت ہوگا۔ یہاں دیانت داری کے ساتھ پیسہ کمانا ممکن نہیں‘۔’ ہر صاحبِ منصب لازم ہے کہ کسی ناجائز طریقے سے اس مقام تک پہنچا ہو گا۔ پاکستان میں ممکن نہیں کہ کسی کو میرٹ پر منصب ملے‘۔ ’کسی صاحبِ حیثیت کی تعریف لازم ہے کہ ناجائز مراعات کیلئے [..]مزید پڑھیں

  • بلوچستان: خدشات اور امکانات

    کوئٹہ ویسا نہیں ہے جیسے میں نے خیال کیا تھا۔ اس کا اندازہ مجھے وہاں دو دن گزارنے کے بعد ہوا۔ میرا خیال تھا وہاں سردی اسلام آباد سے زیادہ ہے۔ چمکیلی دھوپ مگر دن بھر اس طرح برستی رہی کہ اس سے پناہ کیلئے سائبان کی ضرورت محسوس ہوئی۔ رات ٹھنڈی تھی مگر یہاں سے کچھ ہی زیادہ۔ ایسی کہ � [..]مزید پڑھیں

  • علما کا سیاسی کردار؟

    اجتماعی زندگی کے کچھ فطری مطالبات ہیں۔ ان کی تکمیل کا قدرت نے خود اہتمام کیا ہے۔ انسانوں کو متنوع رجحانات کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔  کوئی سیاست کا مزاج رکھتا ہے اور کسی کو فنونِ لطیفہ سے دلچسپی ہے۔ کوئی ریاضی کا ذوق رکھتا ہے اور کوئی طبیعیات کا۔ افتادِ طبع کا یہ اختلاف اس لیے [..]مزید پڑھیں

  • ریاست،سماج اور انسانی جان کی حرمت

    قتل کئی جرائم کا مجموعہ ہے۔ یہ فرد کی حق تلفی ہے۔ یہ معاشرے میں فساد برپا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقوق اللہ کی بھی پامالی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ جو اس کا ارتکاب کرے، اس کیلئے دائمی جہنم کی سزا ہے۔ جس سماج میں یہ جرم ہو،اس پر بھی اللہ نے فرض کیا ہے کہ وہ اس [..]مزید پڑھیں

  • قانونِ دیت اور صلح

    ایک صاحبِ ثروت یا صاحبِ حیثیت، لاپروائی سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک، دو یا زیادہ افراد کی جان لے لیتا ہے۔ وہ دولت یا حیثیت کے بل بوتے پر مقتول کے ورثا سے صلح کر لیتا ہے۔ عدالت اسے باعزت بری کرنے کا حکم صادر کر دیتی ہے۔ چند دن بعد پھر یہ  ’حادثہ‘ پیش آتا ہے۔ اب معلوم ہوتا ہے � [..]مزید پڑھیں

  • فاتح کون؟

    وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ دکھ ہے، افسوس ہے، تشویش ہے مگر حیرت نہیں۔یہ سب نوشتۂ دیوار تھا۔ ہیجان تھا اور روز افزوں تھا۔ غصہ تھا اور بے قابو تھا۔ صبر کا پیمانہ کسی وقت چھلک سکتا تھا۔ کم ظرفوں کا پیمانہ بہت پہلے چھلک اٹھا تھا ۔جن کا ظرف بڑا تھا، انہوں نے دیر کی۔ یہاں تک کہ و [..]مزید پڑھیں

  • عدالتی فیصلے ا ور سماجی روایات

    جج صاحب نے اپنے فیصلے میں ایک مقدمے کے سماجی پہلو پر کیوں کلام کیا؟ بحث کا بازار گرم ہے اور حسبِ روایت لوگ دو گروہوں میں منقسم ہیں۔شہروں کا ماحول بدل رہا ہے۔ مجھ جیسے گوشہ نشینوں کو جو سورج ڈھلنے کے ساتھ گھر کا رخ کرتے ہیں، اس کا پوری طرح ادراک نہیں ہے۔ لوگ کہانیاں سناتے ہیں تو [..]مزید پڑھیں