نصرت جاوید

  • امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت یا ’دستاویزِ شکست‘

    جمعرات کی صبح اٹھ کر میری طرح کئی پاکستانی یہ خبر دیکھ کر حیران ہوگئے ہوں گے کہ پیرس سے اپنے وطن لوٹنے سے قبل امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دیرپاامن کی تلاش کے لئے تیار ہوئی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردئے ہیں۔ ایرانی صدر نے بھی اپنے وطن کی مٹی چھوڑے بغیر تہران بیٹھے ہی اس دستاویز � [..]مزید پڑھیں

  • پانی کا ممکنہ قضیہ اور پیپلز پارٹی کا غصہ

    منیر نیازی کے بے شمار اشعار خوف کے حصار میں گھرے شہروں کا ذکر کرتے ہیں اور پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد گزشتہ کئی مہینوں سے ایسا ہی شہر نظر آرہا ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہوں کے کئی مقامات پر پولیس اور پیرا ملٹری پولیس تعینات ہے۔ گزرے جمعہ کے روز مجھے ان کی موجودگی کا پارلیم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • 1984 کا اور آج کا اسلام آباد

    اسلام آباد کے انگریزی روزنامہ ’’دی مسلم‘‘ کے لئے کام کرتے ہوئے ’’آتش‘‘ اچھوتے موضوعات کی تلاش میں رہتا۔پاکستان ان دنوں افغان جہاد کا کلیدی سرپرست اور مرکز شمار ہوتا تھا۔ نام نہاد آزاد دنیا کے بے شمار صحافی اور مصنفین اسلام آباد آکر ہمارے فیصلہ سازو [..]مزید پڑھیں

  • ’ہائی برڈ‘ اب قابلِ عمل نہیں رہا

    سہیل وڑائچ مجھے بہت عزیز ہیں۔ہم عصر کالم نگار ہوتے ہوئے مگر بدھ کے روز ان سے بے حد پیشہ وارانہ حسد محسوس ہوا۔ بے شمار صحافی ،قارئین اور چند (یہاں چند پر غور ضروری ہے ) سیاستدان رات گئے تک فون کے ذریعے مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ برادرم نے بدھ کی صبح چھپے کالم میں موجودہ حکو [..]مزید پڑھیں

  • ایران امریکہ مقابلہ

    سالانہ بجٹ کی آمد کے قریب پہنچتے ہوئے دونمبر صحافت کے ذریعے رزق کمانے کا عادی ہوا یہ قلم گھسیٹ بہت خوش تھا کہ کم از کم آئندہ دو ہفتوں تک اس کالم میں سیاپا فروشی کے ذریعے اپنی ہٹی پہ رونق لگاؤں گا۔ گزشتہ مالیاتی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب نے قومی خزانے � [..]مزید پڑھیں

  • بجٹ پر اتفاقِ رائے کا امکان

    ٹھوس دلائل کے انبار لگادینے کے باوجود کم از کم میں بے ہنر اپنے قارئین اور ناظرین کی بے پناہ اکثریت کو اپنے اس دعویٰ پر اعتبار کرنے کو مائل نہیں کرپایا کہ حال ہی میں گلگت - بلتستان کی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخابات  نسبتاً آزاد اور منصفانہ تھے۔ سرکار مائی باپ نے محض تحریک انصاف کو [..]مزید پڑھیں

  • محدود ہوتی مکالمے کی گنجائش

    رواں صدی کے آغاز میں روس سے کینیڈا منتقل ہوئے آندرے میر نامی صحافی نے برسوں کی تحقیق کے بعد اخبار کی موت کا اعلان کردیا تو مجھے بہت دُکھ ہوا۔ 2024کے برس کو اس نے ا خبار کی موت کا سال ٹھہرایا تھا۔ میری خوش بختی کہ 2026کے جون میں صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ آندرے مگر ڈھیٹ ہڈی کا حا [..]مزید پڑھیں

  • گلگت بلتستان کا انتخابی عمل: محض ایک رسم

    صحافتی زندگی میں پہلا انتخابی عمل میں نے 1984 میں بھارت جاکر رپورٹ کیا تھا۔ وہ قبل از وقت انتخاب تھے اور وجہ اس کی اندرا گاندھی کا قتل تھا۔ دلی میں صرف ایک شخص سے شناسائی تھی۔ کلدیپ نیئر ان کا نام تھا۔ آبائی تعلق ان کا سیالکوٹ سے تھا۔ وہ بھارت کے مشہور صحافی تھے اور اسلام آباد [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کے ساتھ نرمی!

    ملکی اور بین الاقوامی سیاست کے تین سے زیادہ دہائیوں تک پاکستان اور بیرون ملک ہوئے انتخابات، جنگوں اور حساس معاملات پر مذاکرات کے بطوررپورٹر عملی مشاہدے کے باوجود میں کئی اہم معاملات کے بارے میں بچگانہ سادگی سے سوچتا ہوں۔ یہ سوچ اہم عہدوں پر فائز افراد کے سامنے رکھوں تو میرا [..]مزید پڑھیں