نصرت جاوید

  • پمز سانحہ، دل کو تسلّی دینے کی فدویانہ کوشش

    بدھ کی صبح اٹھتے ہی اسلام آباد کے مرکزی ہسپتال-پمز- میں 14نومولود بچوں کی آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے جاں  بحق ہوجانے کی خبر دیکھی تو اس شہر کا 1975سے رہائشی ہوتے ہوئے یاد آیا کہ بنیادی طورپر یہ ہسپتال جاپانی حکومت کی مدد سے 1985 میں تعمیر ہوا تھا۔ اس کے قیام کا واحد مقصد بچوں کی پید� [..]مزید پڑھیں

  • اس موضوع پر مزید لکھنے کی ہمت نہیں

    زندگی کی کئی دہائیاں صحافت کی نذر کردینے کے باوجود خود کو عقل کل تصور کرنے کی بیماری سے محفوظ رہا ہوں۔ بانی تحریک انصاف کی صحت کے بارے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں سرکاری طورپر تشکیل دئے۔ ڈاکٹروں کی مرتب کردہ جو رپورٹ جمع کروائی گئی تھی ،اسے غور سے پڑھنے کے بعد رائے زنی � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • شہباز شریف کا ’مارچ 1990‘ ہو چکا یا نہیں؟

    دوسرے تک اپنے خیالات پہنچانے والے ذرائع ابلاغ اور ان کی حرکیات کا بغور مطالعہ کرنے والے سماجی علوم کے مختلف ماہرین کے ساتھ مل کر ان دنوں یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ سوشل میڈیا کے اب تک متعارف ہوئے پلیٹ فارموں کے نتیجے میں انسان معاشرتی زندگی کے سنگین مسائل پر سنجیدہ غوروفکر ک [..]مزید پڑھیں

  • اسلام آباد میں سنگین جرائم

    ذاتی پریشانیوں کے گرداب میں بھی ان کے ذکر سے گریز کرتا ہوں۔ بطور صحافی مگر روزمرہ زندگی میں چند تکلیف دہ مراحل سے گزرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ جو مسئلہ مجھے در پیش آیا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ذاتی نہیں ، اجتماعی بھی ہوسکتاہے۔  اس مسئلے کا ذکر قارئین کو خبردار کرنے کے علاو [..]مزید پڑھیں

  • بالآخر وہ خبر آگئی

    گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ وطن عزیز میں  مئی 1988 سے اپریل 2022 تک متعدد حکومتوں کو فارغ ہوتے دیکھا ہے۔ ان میں سے ایک بھی ’اچانک‘ فارغ نہیں ہوئی۔ اسے گھر بھیجنے کی ہانڈی پکانے میں ہمیشہ کئی ماہ لگے۔ اکثر حکومتیں اگرچہ اپنے اختتام کے دن تک ’ستے خیراں‘ کے گماں میں مبتل [..]مزید پڑھیں

  • حکومتی حلقوں سے سستے خیراں کی امید

    نفسیاتی امراض کی ایک قسم انگریزی میں Mood Swings کہلاتی ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں اسے اردو کے ”پل میں تولہ پل میں ماشہ“ کا عملی اظہار سمجھ لیجئے۔ عرصہ ہوا طے کرچکا ہوں کہ ہم بطور قوم اس مرض کا شکار ہیں۔  اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کسی اور مثال کی ضرورت نہیں۔ چند ہی دن قبل ملک [..]مزید پڑھیں

  • نیا نظام دیرینہ خواہش ہے

    مستقبل پر توجہ دینے کے بجائے ذہن میں جمع ہوئے تجربات اور مشاہدات آپ کے روبرو رکھنے کا بنیادی مقصد یاددلانا ہے کہ ’’بوسیدہ اور مفلوج نظام‘‘ کو نظر بظاہر نیک نیتی کے ساتھ بدلنے کی خواہش وطن عزیز میں محسن نقوی صاحب جیسے بااثر افراد کی جانب سے پہلی بار سامنے نہیں آئی ہ [..]مزید پڑھیں

  • ’ریفرنڈم‘ برسر دیوار

    سیاست پر باقاعدگی سے لکھنے والے کئی صحافیوں کی طرح میں بھی کافی عرصہ اس گمان میں مبتلا رہا کہ حکمران اشرافیہ اہم مسائل پر ہماری رائے سے متفق نہ بھی ہو تب بھی اس پر توجہ ضرور دیتی ہے۔ یہ دریافت کرنے میں 20سے زیادہ برس ضائع کردئے کہ حکمران اپنے ذہن میں آئے منصوبوں پر ہر صورت عمل کر [..]مزید پڑھیں