نصرت جاوید

  • دہشت گردی سے غافل ہم چسکے کے متلاشی لوگ

    ملالہ یوسف زئی گزرے ہفتے کے آخری دو دن اسلام آباد میں منعقد ہوئی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان تشریف لائیں۔ مجھے ان کی آمد کی خبر ملی تو توقع باندھ لی کہ مذکورہ کانفرنس سے خطاب کے بعد وہ اپنے آبائی شہر سوات جائیں گی۔ اسی سکول میں جہاں ان پر حملہ ہوا تھا بچیوں کے اجتم� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کے لئے اجنبی ہوئی ملالہ

    آج بھی 9اکتوبر2012 کا دن میرے دل پر زخم کی طرح نقش ہے۔ سوات کی بیٹی ملالہ یوسف زئی اس روز سکول کی وین میں بیٹھی ہوئی تھی۔ دہشت گردوں نے اس کی جان لینے کی کوشش کی۔ ان کا حملہ ناکام ہوا مگر ملالہ کو صحت یاب ہونے میں بہت دیر لگی۔ خوف سے گھبرائی پاکستانی حکومت اسے ملک میں رکھنا برداش� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی ٹرمپ کے خطرناک عزائم

    1970کی دہائی میں جب میں جوان ہورہا تھا تو سوشلزم کے بہت چرچے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ ایسا نظام ہوگا جہاں امیر وغریب کا فرق مٹ جائے گا۔ دنیا بھر کے انسان جب مساوی سطح تک پہنچ جائیں گے تو بالآخر قوم پرستی پر مبنی ممالک کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ دنیا گویا ایک ہی ملک بن جائے گی � [..]مزید پڑھیں

  • طالبان کی پنجابیوں سے نفرت

    اس کالم کے باقاعدہ قاری جانتے ہیں کہ امریکی افواج کی افغانستان سے ذلت آمیز روانگی سے قبل میں دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ ’’فاتح‘‘ کی حیثیت میں کابل لوٹے طالبان پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کریں گے۔ اپنی بات سمجھانے کے لئے تفصیل کے ساتھ چند ذاتی تجربات کا ذکر بھی � [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت کی کوئی بہتر صورت نصیب ہونے کا امکان

    نیا سال مبارک ہو۔ سب کا بھلا سب کی خیر مانگتے ہوئے بھی لیکن مجھے اس سال حالات بہتر ہونے کی زیادہ امید نہیں ہے۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کے ساتھ ہم ایک پروگرام میں بندھ چکے ہیں۔ مقصداس پروگرام کا ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچالینے کے بعد استحکام و خوشحالی کی راہ پر ڈالنا ہے [..]مزید پڑھیں

  • اداس نسلیں:خان دیدہ ور ،ٹرمپ مسیحا

    عبداللہ حسین شاعر نہیں تھے۔ ان کا طرزِ زندگی بھی بنیادی طورپر ’’کلرکوں‘‘ والا تھا۔ ایک سیمنٹ فیکٹری میں نوکری کرتے تھے جو ادبی مراکز سے بہت دور میاں والی کے نواحی علاقے داؤدخیل میں قائم ہوئی تھی۔ دنیا سے تقریباََ کٹے اور فطرتاََ تنہائی پسند عبداللہ حسین نے مگر اپ [..]مزید پڑھیں

  • "مقتدرہ” کی "حکومتی بندوبست” کی جانب پیش رفت

    نظر بظاہر رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی تحریک انصاف اور شہباز حکومت کے مابین مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔ حکومت نے ان مذاکرات کے لئے جو کمیٹی بنائی ہے اس میں اپنے حلیفوں کو بھی شامل کیا ہے۔ حتیٰ کہ پیپلز پارٹی جو حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں، اس کے نمائندے بھی مذاکرات میں موجود ہوں گے۔ � [..]مزید پڑھیں