نصرت جاوید

  • سہیل آفریدی کا وفاقی حکومت سے مذاکرات کا عندیہ

    رواں ہفتے کا آغاز ہوا تو پیر کی رات سونے سے قبل چند وزرا اور صفِ اوّل کے حکومتی نمائندوں کی ٹی وی سکرینوں پر تواتر سے رونمائی نے یہ پیغام دیا کہ منگل کے روز کسی بھی وقت خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج کا اطلاق ہوجائے گا۔  ان دونوں کے مابین فرق جاننے کے لئے اپنے تح [..]مزید پڑھیں

  • حکومت کا ممکنہ اگلا فیصلہ کن قدم: آرٹیکل 232

    سوشل میڈیا کے پھیلائے ہیجان کی بدولت نہایت سوچ بچار کے بعد اپنی رائے کا اس کالم میں اظہار عموماًوقت کا زیاں محسوس ہوتا ہے۔ اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوشل میڈیا کا پھیرا لگانے کے بعد نہایت ڈھٹائی سے مجھے یہ اعلان کردینا چاہیے کہ سہیل آفریدی نے 27ستمبر [..]مزید پڑھیں

  • میری’تیسری راہ‘ ڈھونڈنے کی مشق

    صحافت کو تاریخ کا پہلا ڈرافٹ کہا جاتا تھا۔  ڈرافٹ کا اردو متبادل میں جاہل ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پرانے دور کے صحافی برسرزمین حقائق کے مشاہدے کے بعداخبارات میں جو رپورٹ کریں وہ تاریخ دان کوکسی دور کے اہم سیاسی واقعات کا تجزیہ کرنے میں مددگار [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فیڈرل کورٹ کی ہر عدالت پر برتری

    وفاقی آئینی عدالت نے منگل کے روز سزا یافتہ قیدیوں کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے بجائے بذاتِ خود غور کا جو فیصلہ سنایا اس نے سوشل میڈیا پر چھائے کئی ’’ذہن سازوں‘‘ کو حیران وپریشان کردیا۔ لوگوں میں یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ مذکورہ فیصلے نے سپریم کورٹ کو وفاقی � [..]مزید پڑھیں

  • ونڈر اور ڈیلیوری بوائے میں فرق جان کر جیو

    میرے محترم دوست سہیل وڑائچ کئی مہینوں سے ’ونڈر بوائے‘ کے ذکر میں مصروف ہیں۔ جس شخصیت کو یہ لقب دیا گیا ہے ان کے خیالات سے کاملاًمتفق نہ ہونے کے باوجود میرے دل میں چند ذاتی تجربات کی بدولت ان کے لئے یک طرفہ احترام موجود ہے۔  سہیل بھائی سے اختلاف کی جسارت کرسکتا ہوں۔ انت� [..]مزید پڑھیں

  • ایک مرگِ ناگہانی اور ہے

    اخباری کالموں میں ذاتی مسائل کے ذکر سے ہمیشہ گریز اختیار کیا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے مگر طبی مسائل نے پریشان کیا تو ذکر کو مجبور ہوا۔ مقصد اس ذکر کا کالم کے دیرینہ اور باقاعدہ قارئین کو ذہنی طورپر کبھی کبھار ناغے کے لئے تیار کرنا تھا۔  ذاتی مسائل مگر طبی سے بڑھ کر مزید علاقو [..]مزید پڑھیں

  • دل و دماغ پر مایوسی مسلط کرنے والے اوہام

    جمعرات کی صبح یہ کالم لکھنے کیلئے قلم اٹھاتے ہی خیال آیا کہ گزشتہ تین دنوں کی اوسط نکالیں تو سات روپے روزانہ کے حساب سے پٹرول کے فی لیٹر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ تین دنوں میں 21روپے اضافے کے باوجود اعتماد سے لکھ نہیں سکتا کہ جمعہ کی صبح اٹھوں گا تومزید کتنا اضافہ ہوچکا ہوگا۔ &nbs [..]مزید پڑھیں

  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال

    پیر کی رات سونے سے قبل تازہ ترین خبروں کے لئے سوشل میڈیا کے کوچے میں گھوم رہا تھا تو نیند کے جھونکوں نے مضمحل بنادیا۔ لیپ ٹاپ بند کرنے ہی والا تھا تو حکومت کے جاری کردہ ایک نو ٹی فکیشن پر نظر پڑ گئی۔ پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90 پیسے اضافے کا اعلان تھا۔ اسے دیکھتے ہی نیند کیا ہوش ہ� [..]مزید پڑھیں