نصرت جاوید

  • قربانی اب وسائل پر قابض طبقات دیں

    اس کالم کے باقاعدہ قاری جانتے ہیں کہ رواں برس کا آغاز ہوتے ہی میں دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ عمران حکومت کو اس کے تمام سیاسی مخالفین یکجا ہوکر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا چاہ رہے ہیں۔ جو گیم لگائی جارہی تھی امریکہ کا اس سے ہرگز کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بنیادی حقیقت یہ � [..]مزید پڑھیں

  • اپنے شکار ڈھونڈتا مکار سسٹم

    اندھی نفرت وعقیدت کی بنیاد پر ہوئی تقسیم کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے جو تہمتیں، طعنے اور ذلتیں برداشت کی ہیں انہیں ذہن میں رکھوں تو مجھے سینہ پھلا کر فواد چودھری کی گرفتاری کا دفاع کرنا چاہیے۔ ربّ کریم نے مگر ڈھٹائی والی خصلت سے محروم رکھا ہے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے نظریات سے [..]مزید پڑھیں

  • ’سسٹم‘ اِن دنوں عمران دوست نہیں رہا

    الیکشن کمیشن کے ہاتھوں محسن نقوی کا بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب چناؤ ہوگیا۔ اپنے عہدے کا حلف بھی انہوں نے اتوار کی رات اٹھالیا ہے۔ جو فیصلہ ہوا ہے اسے عدالت کے ہاتھوں منسوخ کروانا مجھے اب ناممکن تو نہیں دشوار ترین یقینا محسوس ہورہا ہے۔ فقط بھرپور احتجاجی تحریک ہی نگران وزیر � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کسی نئے بندوبست کا انتظار

    جنرل ضیاء کے لگائے مارشل لاء نے کامل آٹھ برسوں تک نفسیاتی جنگ کے تمام حربے استعمال کرتے ہوئے ہم  ’ذلتوں کے ماروں‘ کو ریاستی بیانیے کی بابت سوالات اٹھانے کے ناقابل بنادیا تو 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخاب کا انعقاد ہوا۔ اس کی بدولت  جمہوری بندوبست کا جھانسہ دی [..]مزید پڑھیں

  • وفاقی حکومت کیلئے وقت کم مقابلہ سخت کی کیفیت

    عاشقان عمران خان ہی نہیں کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے بلکہ موجودہ حکومت سے اکتائے بے تحاشہ افراد بھی ان دنوں ’اب مزا آیا‘ والی لذت محسوس کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران تحریک انصاف کے قائد نے قوم سے جارحانہ خطاب کے ذریعے اپنے خلاف لگائی مبینہ ’ریڈ لائن‘ کو للکارا۔ بع� [..]مزید پڑھیں

  • ہارا ہوا لشکر، مسلم لیگ نون اور اس کے ہمنوا

    نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ والوں کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ گزشتہ برس کے اپریل میں عمران حکومت کو ہٹانے کے بعد فوری انتخاب سے گریز نے انہیں ڈھلوان پر دھکیل رکھا ہے۔ اس کے انجام پر کوئی نئی راہ دکھاتی پگڈنڈی موجود نہیں ہے۔ فقط ایک گہری کھائی ہے جس سے باہر آنے سے نکلنے � [..]مزید پڑھیں

  • ریاست کی بقا کے نام پر عوام کا مزید کچومر

    تقریباً دو مہینے قبل چند دیرینہ دوستوں کے ساتھ میں ایک مہربان کی جانب سے دی دعوت میں موجود تھا۔ وہاں ایک سینئر سیاستدان بھی مدعو تھے۔ تعلق ان کا جنوبی پنجاب سے ہے۔ خود کو قومی سطح کا رہ نما بنانے کے بجائے وہ خود کو اپنے حلقے تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ اسی باعث 1990 سے ہوئے ہر انتخاب � [..]مزید پڑھیں

  • ماضی سے جڑی چسکہ بھری کہانیاں

    میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے حقوق کے تحفظ کے لئے مختلف النوع آئینی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں  بااختیا  بنانے کے لئے اگرچہ وہ شاذ ہی بروقت متحرک نظر آئے۔  فقط اپنا اختیار ثابت کرنے ہی کو اکثر ہوش میں آتے ہیں۔ جمہوری نظام کا استحکام منتخب بلدیاتی حکومتوں کے بغیر ممک� [..]مزید پڑھیں