نصرت جاوید

  • تحریکِ عدم اعتماد کی بھڑکائی ’آتش‘ کی تپش

    ہمارے تحریری آئین میں کسی وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس کے منصب سے ہٹانے کا جو طریقہ کار طے کردیا گیا ہے اس پر ہوبہو عمل ہوا ہوتا تو عمران خان صاحب کے مقدر کے بارے میں ہمارے ذہن اب تک صاف ہوچکے ہوتے۔ سپیکر اسد قیصر نے تاہم کامل ڈھٹائی سے قومی اسمبلی کا اجلاس 21مارچ � [..]مزید پڑھیں

  • معاملہ اب اتنا سادہ نہیں رہا

    نظر بظاہر وزیر اعظم کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد قانونی بھول بھلیوں میں داخل ہوکر اپنے انجام تک پہنچنے میں ضرورت سے زیادہ دیر لگارہی ہے۔عمران حکومت کے چند نورتن ”ماہرین قانون“ نے قانونی موشگافیوں کے جال بچھاکر مذکورہ تاخیر کا اہتمام کیا۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مجوزہ مخلوط حکومت:اس کے بعد کیا ہوگا

    دو ٹکے کا رپورٹر ہوتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے مشاہدے کے بعد جو خیال ذہن میں آئے اسے وقت سے بہت پہلے بیان کردینے کا عادی ہوں۔یہ سمجھ ہی نہیں پایا کہ ان دنوں مارکیٹنگ کا زمانہ ہے۔ سیاست کی طرح صحافت میں بھی اپنی دکان چمکانے کے لئے ”ٹائمنگ“ کو ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ویسے بھی & [..]مزید پڑھیں

  • مک مکا کی تیاری

    ہماراآئین تحریری طور پر مرتب ہوا ہے۔ غیر تحریری آئین کے مقابلے میں سیاسیات کے عالم اس نوع کے آئین کو بہتر گردانتے ہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ تحریری صورت میں لکھے آئین کی بدولت کسی ریاست کے شہری بآسانی جان لیتے ہیں کہ ان کے حقوق وفرائض کیا ہیں۔ اس سے بھی اہم تر حقیقت یہ ہے کہ تح� [..]مزید پڑھیں

  • اکثریت ثابت کرنے کے اعتماد سے محروم حکومت

    عمران خان صاحب کے اندازِ سیاست وحکومت کے بارے میں ہزاروں تحفظات کے باوجود میں خلوص دل سے یہ سوچتا ہوں کہ انہیں محلاتی سازشوں کے ذریعے تیار ہوئی تحریک عدم اعتماد کے استعمال سے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹانے سے گریز اختیار کرنا چاہیے تھا۔ انہیں اگر ہر صورت گھر بھیجنا ہی مقصود تھا ت [..]مزید پڑھیں

  • اکھنڈ بھارت اور اکھنڈ روس

    روس اور اس کے صدر پوٹن کو امریکہ اور مغرب کی نفرت میں ہمارے محبان وطن جس والہانہ انداز میں ان دنوں سراہ رہے ہیں، ان کا مشاہدہ کرتے ہوئے مجھے 1980  کی دہائی مسلسل یاد آ رہی ہے۔ اس دہائی میں خارجہ امور کا بے چین رپورٹر ہوتے ہوئے میں ”افغان جہاد“ کی بابت بہت پریشان رہتا تھا۔ [..]مزید پڑھیں

  • گہری سازشوں کے چرچے اور مہنگائی

    گزشتہ ہفتے کا آخری کالم معمول کے مطابق جمعرات کی صبح اٹھنے کے بعد لکھا تھا۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے اس سے قبل اطلاع یہ دی تھی کہ ’’آئندہ 48گھنٹوں‘‘ میں تحریک عدم اعتماد والا کارتوس چلادیا جائے گا۔ وہ چل گیا تو خزاں بہار میں بدل جائے گی۔ یہ کالم چھپنے کے دن ان کی ج [..]مزید پڑھیں

  • عدم اعتماد: ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم“ والا ماحول

    جمعہ اور ہفتہ کی صبح اٹھ کر میں یہ کالم نہیں لکھتا۔ جمعیت العلمائے اسلام کے رہ نما مولانا فضل الرحمن صاحب نے مگر اعلان کر دیا ہے کہ ”آئندہ 48 گھنٹوں“ میں بالآخر ”تحریک عدم اعتماد“ پیش ہو سکتی ہے۔ مولانا ایک زیرک اور کئی حوالوں سے ذمہ دار سیاستدان ہیں۔ خواہ مخواہ کی � [..]مزید پڑھیں