نصرت جاوید

  • بالآخر وہ خبر آگئی

    گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ وطن عزیز میں  مئی 1988 سے اپریل 2022 تک متعدد حکومتوں کو فارغ ہوتے دیکھا ہے۔ ان میں سے ایک بھی ’اچانک‘ فارغ نہیں ہوئی۔ اسے گھر بھیجنے کی ہانڈی پکانے میں ہمیشہ کئی ماہ لگے۔ اکثر حکومتیں اگرچہ اپنے اختتام کے دن تک ’ستے خیراں‘ کے گماں میں مبتل [..]مزید پڑھیں

  • حکومتی حلقوں سے سستے خیراں کی امید

    نفسیاتی امراض کی ایک قسم انگریزی میں Mood Swings کہلاتی ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں اسے اردو کے ”پل میں تولہ پل میں ماشہ“ کا عملی اظہار سمجھ لیجئے۔ عرصہ ہوا طے کرچکا ہوں کہ ہم بطور قوم اس مرض کا شکار ہیں۔  اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کسی اور مثال کی ضرورت نہیں۔ چند ہی دن قبل ملک [..]مزید پڑھیں

  • نیا نظام دیرینہ خواہش ہے

    مستقبل پر توجہ دینے کے بجائے ذہن میں جمع ہوئے تجربات اور مشاہدات آپ کے روبرو رکھنے کا بنیادی مقصد یاددلانا ہے کہ ’’بوسیدہ اور مفلوج نظام‘‘ کو نظر بظاہر نیک نیتی کے ساتھ بدلنے کی خواہش وطن عزیز میں محسن نقوی صاحب جیسے بااثر افراد کی جانب سے پہلی بار سامنے نہیں آئی ہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ’ریفرنڈم‘ برسر دیوار

    سیاست پر باقاعدگی سے لکھنے والے کئی صحافیوں کی طرح میں بھی کافی عرصہ اس گمان میں مبتلا رہا کہ حکمران اشرافیہ اہم مسائل پر ہماری رائے سے متفق نہ بھی ہو تب بھی اس پر توجہ ضرور دیتی ہے۔ یہ دریافت کرنے میں 20سے زیادہ برس ضائع کردئے کہ حکمران اپنے ذہن میں آئے منصوبوں پر ہر صورت عمل کر [..]مزید پڑھیں

  • جمہوری حکومتوں کی برطرفی کی کہانی

    اہم خبروں کی تلاش میں ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں پھیرے 1985 سے لگانا شروع کردئیے تھے۔ اس برس جنرل ضیانے 8 سالہ مارشل لا کے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروادئے تھے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں موصوف کے بنائے منصوبے کے تحت قائم ہوگئیں تو محض تین سال بعد اپنی [..]مزید پڑھیں

  • بات نکل کر بہت دْور چلی گئی ہے

    اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنا کوئی ہمارے سیاستدانوں سے سیکھے۔ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ ہمارے حساس ترین اور شہ رگ تصور ہوتے آزادکشمیر میں ایک تحریک جاری ہے۔ بے تحاشہ حوالوں سے واجب نظر آتی شکایتوں کی بنیاد پر چلی یہ تحریک بتدریج انتہا پسندی کی راہ پر چل نکلی۔ مذاکرات کے ذریعے کچھ � [..]مزید پڑھیں

  • ’جین زی‘ کے ہاتھوں مودی سرکار کی پسپائی

    گزشتہ چند دنوں سے بھارتی دارلحکومت میں دورِ حاضر میں جین-زی کہلاتے نوجوانوں نے مظاہروں کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ رواں برس کے مئی میں ہوئے (نیٹ)نام کے امتحان نے انہیں گھروں سے نکلنے کو مجبور کیا۔ مذکورہ امتحان سرکاری طورپر چلائے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے میسر ایک لاکھ دس ہ� [..]مزید پڑھیں

  • پٹرولیم نرخ روزانہ بڑھنے کے تازیانے

    انتہائی آمرانہ اور سفاک حکومتیں بھی اس امر کو یقینی بناتی ہیں کہ ان کی رعایا مستقل بے چینی میں مبتلا نہ رہے۔ اسی باعث ان کی ’تفریح‘ کے لئے روم کے حکمرانوں نے ہر بڑے شہر میں اکھاڑے بنائے جہاں غلاموں کو شیروں سے مقابلے کے لئے چھوڑ دیا جاتا۔ دورِ حاضر میں اپنے عوام کو آزا� [..]مزید پڑھیں