نصرت جاوید

  • سیاستدانوں کا مکافاتِ عمل

    بانی تحریک انصاف کی بیماری کی خبر ملتے ہی لگی لپٹی رکھے بغیر اس کالم اور ٹی وی سکرین کے ذریعے سرکار مائی باپ سے فریاد کرنا شروع کردی تھی کہ ’سزا یافتہ قیدی‘کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ حکومتیں انہیں نظرانداز نہیں کرسکتیں۔ سیاست میں آنے سے قبل ہی کرکٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں [..]مزید پڑھیں

  • بنگلہ دیش کے انتخابات پر میرے دل کو لاحق خدشات

    جمعرات کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ مقامی مسائل کے بجائے توجہ مگر بنگلہ دیش پر مرکوز ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت کے طلبہ تحریک کے نتیجہ میں خاتمے کے بعد آج 12 فروری کو اس ملک میں انتخابات ہورہے ہیں۔ عوامی لیگ کو اس میں حصہ لینے کے ناقابل ٹھہرادیا گیا ہے۔ اس کی نااہلی بنگلہ دی [..]مزید پڑھیں

  • ذکر ایک اہم شخصیت کی بیماری کا

    قیاس آرائی کو فسادِ خلق کے خوف سے سرکار مائی باپ نے سنگین جرم بنا دیا ہے۔ اس کے مرتکب صحافی یا سوشل میڈیا پر متحرک صحافی نما تبصرہ فروش عبرت کا نشانہ بنائے جائیں گے۔ مجھ جیسے قلم گھسیٹ تو ویسے ہی پیدائشی بزدل ہیں۔ کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے کے عادی۔ صحافی ہونے کی تہمت مگر ذات ک� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پی ٹی آئی اپنی تنظیمی کمزوریوں کا جائزہ لے

    حیران کن ’’خبر‘‘ آپ کو یہ دینا ہے کہ اتوار کی شام گزرجانے کے بعد مجھے لاہور،پشاور اور کراچی کے علاوہ دیگر کئی شہروں سے بھی چند فون آئے۔ جن لوگوں نے رابطہ کیا ان میں سے دو کے علاوہ ان سیاسی جماعتوں کے دیرینہ کارکن تھے جو ان دنوں اقتدار میں ہیں۔ تحریک انصاف کے وہ مس� [..]مزید پڑھیں

  • اومان میں امریکہ ایران مذاکرات

    بدھ کی رات سونے سے قبل یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے امکانات معدوم ہورہے ہیں۔ جمعرات کی صبح اٹھ کر مگر ایرانی وزیر خارجہ کا سوشل میڈیا کے ایکس پر ایک پیغام دیکھا۔ نہایت اعتماد سے انہوں نے یہ اطلاع دی ہوئی تھی کہ امریکہ کے ساتھ ان کے ملک کے مذاکر� [..]مزید پڑھیں

  • دم توڑتی روائیتی صحافت

    مجھ جیسے سادہ لوح صحافی پاکستان کے جمہوری بندوبست کے ’’ہائی برڈ‘‘ ہوجانے کے بعد اداس،شرمندہ اور پریشان محسوس کرتے ہیں۔ ہائی برڈ نظام کی بدولت ریاست و حکومت کے اہم ترین فیصلے پارلیمان کے ایوان میں نہیں بند کمروں میں ہوتے ہیں۔  ان فیصلوں کی خبر مصدقہ ذرائع سے مل ب [..]مزید پڑھیں

  • کرکٹ کا کھیل اور ہماری’ہائی برڈ‘ سیاست

    کرکٹ جب بھی کسی تنازعہ کا شکار ہوتی ہے تو مجھے مقصود احمد صاحب بہت یاد آتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد 1952 سے 1955￿ تک وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لئے کھیلتے رہے۔ انتہائی وجیہہ شخص تھے اور انہیں پنجابی زبان کی برجستگی اور مزاح پر قابل رشک گرفت حاصل تھی۔ برطانوی پریس نے انہیں میری میکس [..]مزید پڑھیں

  • مصطفیٰ کمال کی سیاست

    مصطفیٰ کمال کی ’’سیاسی بصیرت‘‘ میری نگاہ میں 2018 کے انتخابات کے قریب بے نقاب ہوگئی تھی۔ موصوف ایم کیو ایم کی جنرل مشرف کی سرپرستی میں قائم ہوئی ’’مقامی حکومت‘‘ کی ایک کامیاب اور حتمی مثال کی صورت مشہور کروائے گئے۔ بات یہ پھیلائی گئی کہ اگر وطن عزیز کے ہر [..]مزید پڑھیں

  • مولانا فضل الرحمان کی ریاستی نظام سے بد دلی

    دورِ حاضر کی ہر موذی بیماری کا سبب بالآخر ذہنی دباؤ ثابت ہورہا ہے۔ اس سے بچاؤکے لئے ہر ڈاکٹر اپنے ہاں گئے مریض کو ان دنوں دیگر احتیاطوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے پرہیز بھی لازمی ٹھہرا رہا ہے۔  محض صحافت سے رزق کماتے افراد کے لئے مگر یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ بڑی مشکل سے سوش [..]مزید پڑھیں

  • مذمت میں مصروف ہم مسلمان

    ریاستِ پاکستان کے تمام ستونوں اور اداروں پر بالادستی کی دعوے دار پارلیمان کو شہبازحکومت نے ٹرمپ کے تجویز کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘کی بنیادی دستاویز پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں 22جنوری کے دن دستخط کرنے سے قبل اعتماد میں لینے کے قابل نہ سمجھا تو مجھے دْکھ ہوا۔ یہ واقع [..]مزید پڑھیں