نصرت جاوید

  • قصّہ کلکتہ میں گذاری ایک مایوس رات کا

    کلکتہ کا ذکر ہو تو عمر کے اس حصے میں 1984کے برس کے حوالے سے اس شہر سے وابستہ خوش گوار یادیں ہرگز ذہن میں نہیں آتیں۔ 19فروری 2001 کی دوپہر تین سے زیادہ گھنٹوں تک پھیلی خجل خواری ہی یاد آتی ہے جب کلکتہ کے تقریباً مرکزمیں واقع پارک اور سدر نام کی سڑک اور سٹریٹ پر قائم ہوٹلوں میں سے کوئی [..]مزید پڑھیں

  • میرا کلکتہ کا آخری سفر

    1984کے دوران ہوئے بھارتی بنگال کے سفر کی جویادیں ابھی تک اس کالم میں قلم بند کی ہیں، وہ بہت خوش گوار تھیں۔ ان بھلے وقتوں کو اجاگر کرتی رہیں جب لوگوں کی اکثریت سادہ، شفیق اور بنیادی طورپر انسان دوست تھی۔  کلکتہ میں قیام کے ان ہی دنوں میں ناقابل برداشت غربت کو ڈرامائی انداز میں [..]مزید پڑھیں

  • دو ازلی دشمنوں میں دیرپا امن کی بیکار تلاش

    میڈیا کے لئے لکھنے اور بولنے سے رزق کمانے والوں کو یہ دریافت کرنے میں بہت وقت لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کی بدولت آپ کے الفاظ کو ملے شیئرز اور لائیکس گمراہ کن جال ہیں۔ مقبولیت کی حرص میں آپ بتدریج لوگوں میں ’مقبول‘ دِکھتے موضوعات تک محدود ہوجاتے ہیں۔ ان موضوعات پر لکھنا چھوڑ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مودی کی بنگال پالیسی، ماضی یاد دلاتی ہے

    گزشتہ ہفتے جو آخری کالم لکھا تھا اس میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ میری سوئی ان دنوں بھارتی بنگال کے سیاسی واقعات پر اٹکی ہوئی ہے۔ حال ہی میں وہاں کئی دہائیوں تک پھیلی جنونی ضد کے بعد مودی سرکار بالآخر بی جے پی کو بھاری اکثریت دلواکر صوبائی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • مابعد صحافت کی کہانی

    روس چھوڑ کر کینیڈا میں پناہ گزین ہوا ایک صحافی ہے۔ نام ہے اس کا آندرے میر۔ برسوں کی تحقیق کے ذریعے اس نے انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں کا ذہن سازی کے عمل پر اثرانداز ہونے کا جائزہ لیا۔ بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ دورِ حاضر کو ’مابعد صحافت‘ کا عہد پکارا جائے۔ اس کے خیالا� [..]مزید پڑھیں

  • امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت یا ’دستاویزِ شکست‘

    جمعرات کی صبح اٹھ کر میری طرح کئی پاکستانی یہ خبر دیکھ کر حیران ہوگئے ہوں گے کہ پیرس سے اپنے وطن لوٹنے سے قبل امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دیرپاامن کی تلاش کے لئے تیار ہوئی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردئے ہیں۔ ایرانی صدر نے بھی اپنے وطن کی مٹی چھوڑے بغیر تہران بیٹھے ہی اس دستاویز � [..]مزید پڑھیں

  • پانی کا ممکنہ قضیہ اور پیپلز پارٹی کا غصہ

    منیر نیازی کے بے شمار اشعار خوف کے حصار میں گھرے شہروں کا ذکر کرتے ہیں اور پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد گزشتہ کئی مہینوں سے ایسا ہی شہر نظر آرہا ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہوں کے کئی مقامات پر پولیس اور پیرا ملٹری پولیس تعینات ہے۔ گزرے جمعہ کے روز مجھے ان کی موجودگی کا پارلیم [..]مزید پڑھیں

  • 1984 کا اور آج کا اسلام آباد

    اسلام آباد کے انگریزی روزنامہ ’’دی مسلم‘‘ کے لئے کام کرتے ہوئے ’’آتش‘‘ اچھوتے موضوعات کی تلاش میں رہتا۔پاکستان ان دنوں افغان جہاد کا کلیدی سرپرست اور مرکز شمار ہوتا تھا۔ نام نہاد آزاد دنیا کے بے شمار صحافی اور مصنفین اسلام آباد آکر ہمارے فیصلہ سازو [..]مزید پڑھیں

  • ’ہائی برڈ‘ اب قابلِ عمل نہیں رہا

    سہیل وڑائچ مجھے بہت عزیز ہیں۔ہم عصر کالم نگار ہوتے ہوئے مگر بدھ کے روز ان سے بے حد پیشہ وارانہ حسد محسوس ہوا۔ بے شمار صحافی ،قارئین اور چند (یہاں چند پر غور ضروری ہے ) سیاستدان رات گئے تک فون کے ذریعے مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ برادرم نے بدھ کی صبح چھپے کالم میں موجودہ حکو [..]مزید پڑھیں